@kingsadami39: "دشمن بھی ان کے ہوتے ہیں زینو جس کی ماں نے شیر پیدا کیے ہو" تشریح: زینو کہتا ہے کہ ہر شخص کے دشمن نہیں ہوتے، بلکہ دشمنی عموماً انہی لوگوں سے کی جاتی ہے جو طاقتور، بہادر، بااثر یا نمایاں مقام رکھنے والے ہوں۔ "شیر" یہاں بہادر اور دلیر انسان کے لیے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ دوسرے مصرعے میں "جس کی ماں نے شیر پیدا کیے ہوں" کا مطلب ہے کہ وہ لوگ جو غیر معمولی جرات، ہمت اور عظمت کے مالک ہوں۔ ایسے افراد کی کامیابی، قوتِ کردار یا اثر و رسوخ کی وجہ سے ان کے مخالفین بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مرکزی خیال: بڑے، بہادر اور کامیاب لوگوں کے دشمن ہونا ایک فطری بات ہے، کیونکہ ان کی شخصیت اور کامیابیاں دوسروں پر اثر ڈالتی ہیں اور بعض لوگوں میں حسد یا مخالفت پیدا کرتی ہیں۔ سادہ مفہوم: دشمن عموماً انہی لوگوں کے ہوتے ہیں جو بہادر، باصلاحیت اور نمایاں حیثیت رکھتے ہوں؛ عام لوگوں سے کوئی دشمنی نہیں کرتا۔ #صدام_حسين_المجيد_رئيس_جمهورية_العراق #virlvideo #foryou #foryoupag