@syedamjadsherazi1: انسان اپنی خواہشوں کا غلام بن جاتا ہے۔ وہ وقت کے ساتھ بہت کچھ برداشت کر لیتا ہے، دکھ، جدائی، حتیٰ کہ اپنے جگر کے ٹکڑے کی خاموشی کو بھی۔ اولاد کے مرنے کے بعد چالیس دن گزر جائیں تو وہ قبرستان جانا کم کر دیتا ہے، صبر سیکھ لیتا ہے، حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتا ہے… مگر اپنی خواہشوں کے جنازے کو کندھا نہیں دیتا۔ یہ وہ قید ہے جو نظر نہیں آتی مگر سب سے مضبوط ہوتی ہے۔ دنیا کی چمک، نفس کی ضد، دل کی بے شمار چاہتیں انسان کو مسلسل اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے، مگر حقیقت میں ہر خواہش اس کی لگام بن چکی ہوتی ہے۔ اللہ کا پسندیدہ بندہ وہ نہیں جو سب کچھ پا لے، بلکہ وہ ہے جو اپنی خواہشات کو پہچان کر انہیں رب کے حکم کے سامنے جھکا دے۔ وہ نفس کی سرکشی کو توڑ دیتا ہے، دنیا کی رگڑوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے، اور اپنے دل کو اللہ کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اصل آزادی خواہشوں کے ساتھ جینے میں نہیں، بلکہ خواہشوں سے نکل کر اللہ کے حضور حاضر ہونے میں ہے۔ جب انسان اپنی اندرونی جنگ جیت لیتا ہے تو پھر دنیا ہار بھی جائے تو فرق نہیں پڑتا، کیونکہ وہ رب کو پا لیتا ہے۔ ✨🤍