@iamshameer28: Shma se Dil lagaya hai khak to ho ge🥀 #rajalondonkateaser #virlvideo #pakdrama #trending @𝙎𝘼𝙏𝙏𝘼𝙍 𝙀𝘿𝙄𝙏𝙕 @Awi EDITz @PRIENCE EDITS 🩷 @Asad Editz⛎ @ZK EDITZ #repost . . .... .. . . . . . . (Editing Course Available)

𝚂𝙷 𝙴𝚍𝚒𝚝𝚘𝚛
𝚂𝙷 𝙴𝚍𝚒𝚝𝚘𝚛
Open In TikTok:
Region: PK
Friday 19 June 2026 11:42:06 GMT
1014
43
8
4

Music

Download

Comments

siraaj.shah7
Siraj shah1234 :
❤️❤️❤️
2026-06-23 18:26:07
0
siraaj.shah7
Siraj shah1234 :
🥰🥰🥰
2026-06-23 18:26:05
0
chouhanmohanlal.m
Chouhanmohanlal Meghwar :
🥰🥰🥰
2026-06-22 11:46:04
0
illamuldinrahimoo
ILLAM💞 UL💖 DIN 😘 :
❤️❤️❤️
2026-06-21 20:30:33
0
sameerali0486
Sameer Ali :
😁😁😁
2026-06-20 15:53:02
0
abdulqayoomkatt95
Abdul qayoom katto :
💔💔💔
2026-06-19 14:14:02
0
jam.rasid5
jam rasid :
🥰🥰🥰
2026-06-23 18:51:56
0
To see more videos from user @iamshameer28, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج جب ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور بلوچ قومی جدوجہد سے وابستہ دیگر کارکنوں کے خلاف سخت فیصلے سنائے گئے، جب ایک بار پھر بلوچوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی، تو وہ تمام لوگ کہاں چلے گئے جو ہر وقت حق، انصاف اور مزاحمت کے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے؟ آخر آج ایک مذمتی بیان دینا بھی اتنا مشکل کیوں ہو گیا؟ ظلم کے خلاف دو الفاظ بولنا بھی اب بھاری کیوں لگ رہا ہے؟ یا پھر اصول، نظریات اور مزاحمت کی باتیں صرف مخصوص حالات اور مخصوص لوگوں کے لیے تھیں؟ کیونکہ جب ظلم پشتون پر ہو، بلوچوں پر ہو، کشمیریوں پر ہو یا کسی بھی مظلوم قوم پر—اصول ایک ہی ہونے چاہئیں۔ اگر ظلم کے خلاف آواز صرف اپنی پسند، مفاد یا تعلق کی بنیاد پر اٹھے، تو پھر وہ اصول نہیں بلکہ منافقت ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس ریاست کا پرانا طریقہ واردات کیا رہا ہے۔ جب بھی پشتونوں اور بلوچوں کی اجتماعی آواز مضبوط ہوتی ہے، جب بھی نوجوان شعور کے ساتھ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں، جب بھی ظلم اور جبر کے خلاف مزاحمت منظم ہوتی ہے، تو ریاست کا پہلا کام یہی ہوتا ہے کہ اس اتحاد کو توڑا جائے۔ اس کے لیے دلال پیدا کیے جاتے ہیں۔ ایسے چہرے سامنے لائے جاتے ہیں جو بظاہر اپنے لگتے ہیں مگر حقیقت میں کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ اپنی روایات سے واقف ہوتے ہیں، نہ سیاسی شعور رکھتے ہیں، نہ اخلاقیات کو سمجھتے ہیں، اور نہ ہی اپنی قوم کے درد اور قربانیوں سے ان کا کوئی تعلق ہوتا ہے۔ ان کا کام صرف ایک ہوتا ہے: قوم کے اندر تقسیم پیدا کرنا، اصل آوازوں کو کمزور کرنا، اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی ہر مضبوط آواز کو متنازع بنانا۔ آج جو خاموش ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ خاموشی بھی ایک سیاسی موقف ہوتی ہے۔ ظلم کے وقت خاموش رہنا دراصل ظالم کو مزید طاقت دینا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ظلم پر خاموش رہنے والوں کو بھی کبھی معاف نہیں کیا گیا۔ آج اگر بلوچ کی آواز دب رہی ہے تو کل پشتون کی آواز بھی دبے گی۔ آج اگر ماہرنگ بلوچ کے لیے خاموشی ہے تو کل کسی اور مظلوم کے لیے بھی یہی خاموشی ہوگی۔ اسی لیے اصولی سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ ظلم جہاں بھی ہو، جس پر بھی ہو، اس کے خلاف ایک واضح اور دوٹوک مؤقف لیا جائے۔ کیونکہ آخر میں تاریخ صرف یہ نہیں دیکھتی کہ ظالم کون تھا، تاریخ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ ظلم کے وقت کون بولا تھا، #pashtun #ReleaseMahrangBaloch #manzoorahmadpashteen #viraltiktok #foryoupage
آج جب ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور بلوچ قومی جدوجہد سے وابستہ دیگر کارکنوں کے خلاف سخت فیصلے سنائے گئے، جب ایک بار پھر بلوچوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی، تو وہ تمام لوگ کہاں چلے گئے جو ہر وقت حق، انصاف اور مزاحمت کے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے؟ آخر آج ایک مذمتی بیان دینا بھی اتنا مشکل کیوں ہو گیا؟ ظلم کے خلاف دو الفاظ بولنا بھی اب بھاری کیوں لگ رہا ہے؟ یا پھر اصول، نظریات اور مزاحمت کی باتیں صرف مخصوص حالات اور مخصوص لوگوں کے لیے تھیں؟ کیونکہ جب ظلم پشتون پر ہو، بلوچوں پر ہو، کشمیریوں پر ہو یا کسی بھی مظلوم قوم پر—اصول ایک ہی ہونے چاہئیں۔ اگر ظلم کے خلاف آواز صرف اپنی پسند، مفاد یا تعلق کی بنیاد پر اٹھے، تو پھر وہ اصول نہیں بلکہ منافقت ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس ریاست کا پرانا طریقہ واردات کیا رہا ہے۔ جب بھی پشتونوں اور بلوچوں کی اجتماعی آواز مضبوط ہوتی ہے، جب بھی نوجوان شعور کے ساتھ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں، جب بھی ظلم اور جبر کے خلاف مزاحمت منظم ہوتی ہے، تو ریاست کا پہلا کام یہی ہوتا ہے کہ اس اتحاد کو توڑا جائے۔ اس کے لیے دلال پیدا کیے جاتے ہیں۔ ایسے چہرے سامنے لائے جاتے ہیں جو بظاہر اپنے لگتے ہیں مگر حقیقت میں کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ اپنی روایات سے واقف ہوتے ہیں، نہ سیاسی شعور رکھتے ہیں، نہ اخلاقیات کو سمجھتے ہیں، اور نہ ہی اپنی قوم کے درد اور قربانیوں سے ان کا کوئی تعلق ہوتا ہے۔ ان کا کام صرف ایک ہوتا ہے: قوم کے اندر تقسیم پیدا کرنا، اصل آوازوں کو کمزور کرنا، اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی ہر مضبوط آواز کو متنازع بنانا۔ آج جو خاموش ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ خاموشی بھی ایک سیاسی موقف ہوتی ہے۔ ظلم کے وقت خاموش رہنا دراصل ظالم کو مزید طاقت دینا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ظلم پر خاموش رہنے والوں کو بھی کبھی معاف نہیں کیا گیا۔ آج اگر بلوچ کی آواز دب رہی ہے تو کل پشتون کی آواز بھی دبے گی۔ آج اگر ماہرنگ بلوچ کے لیے خاموشی ہے تو کل کسی اور مظلوم کے لیے بھی یہی خاموشی ہوگی۔ اسی لیے اصولی سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ ظلم جہاں بھی ہو، جس پر بھی ہو، اس کے خلاف ایک واضح اور دوٹوک مؤقف لیا جائے۔ کیونکہ آخر میں تاریخ صرف یہ نہیں دیکھتی کہ ظالم کون تھا، تاریخ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ ظلم کے وقت کون بولا تھا، #pashtun #ReleaseMahrangBaloch #manzoorahmadpashteen #viraltiktok #foryoupage

About