@incognitoboy98: کر دین علم وچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو اٹھارہ ہزار جو عالم آہا اگے حسینؑ دے مردے ھُو جے کجھ ملاحظہ سرورؐ دا کردے تاں تمبو خیمے کیوں سڑدے ھُو جے کر مندے بیعت رسولیؐ پانی کیوں بند کردے ھُو صادق دین تنہاں باہو جو سر قربانی کردے ھُو مطلب (سادہ اردو/پنجابی میں): اگر دین صرف کتابی علم (ظاہری علم) سے ملتا تو کربلا میں اتنے بڑے بڑے عالم (اٹھارہ ہزار کے قریب) یزید کی فوج میں کیوں شامل تھے اور امام حسینؑ کے سر نیزوں پر کیوں چڑھائے گئے؟ اگر وہ رسول اللہ ﷺ کا کچھ ملاحظہ (حقیقی اتباع) کرتے تو خیموں کو آگ کیوں لگاتے؟ اگر بیعتِ رسول ﷺ مانتے تو پانی کیوں بند کرتے؟ حقیقی دین والے تو وہ ہیں جو سرِ قربانی دینے کو تیار ہوں۔ سلطان باہوؒ اس بیت میں ظاہری علم اور حقیقی معرفتِ دین کے فرق کو واضح کرتے ہیں۔ دین دل کی بات ہے، عشقِ رسولؐ اور حق کی قربانی ہے، نہ کہ صرف پڑھنے پڑھانے کی۔