Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@lamamoda.az: Böyük Açılış Kampaniyası! 🎉 Endirim sevənlər üçün möhtəşəm fürsət! Yeni açılan LAMA mağazasında bütün məhsullara 50% ENDİRİM var! 🔥 📍 Ünvan: Nizami küçəsi, Xəqani bağının yanı #Lama #Ayaqqabı #Endirim #50FaizEndirim #tarqovu
Lama Moda
Open In TikTok:
Region: AZ
Friday 19 June 2026 15:06:44 GMT
481
25
1
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.27MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.27MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
Gülü :
🙏🙏🙏
2026-06-20 17:25:15
0
To see more videos from user @lamamoda.az, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Pa Taso tolo ba saar garzawm 🤣🫵😜 wait for 26 date 😎🦅🙌 #foryou #skbrothers👑 #unfrezzmyaccount #support_me #foryoupage
فاتح سلطان محمد اور اوزون حسن کی جنگ (اوتلوق بیلی کی جنگ 1473ء) – مکمل تاریخ ولاد ڈریکولا (1462ء) کے خلاف مہمات اور دیگر فتوحات کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کے مشرق میں ایک نئی طاقت ابھر چکی تھی، جسے آق قویونلو سلطنت کہا جاتا تھا۔ اس کے حکمران اوزون حسن تھے، جن کی حکومت آذربائیجان، ایران، عراق اور مشرقی اناطولیہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اوزون حسن نہ صرف عثمانیوں کے مخالف اناطولیائی امیروں کی مدد کرتا تھا بلکہ وینس اور یورپی طاقتوں سے بھی اتحاد قائم کر رہا تھا تاکہ سلطان محمد فاتح کو مشرق سے روکا جا سکے۔ یہی حالات دونوں عظیم ترک سلطنتوں کے درمیان جنگ کا سبب بنے۔ جنگ کی تیاری (1472ء – 1473ء) 1472ء کے موسم خزاں سے ہی سلطان محمد فاتح نے پورے عثمانی ملک میں جنگی تیاریوں کا حکم دیا۔ روم ایلی اور اناطولیہ کے لشکر جمع کیے گئے۔ توپ خانہ، ینی چری فوج، گھڑ سوار سپاہ اور رسد کا انتظام کیا گیا۔ سلطان نے 11 اپریل 1473ء کو استنبول سے روانگی اختیار کی اور یینی شہر (Yenişehir) میں مرکزی فوج سے جا ملے۔ شہزادہ مصطفیٰ اور شہزادہ بایزید بھی اپنی فوجوں سمیت شامل ہوئے۔ اس طرح عثمانی لشکر تقریباً 70 ہزار سے 85 ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہو گیا۔ طویل سفر اور مشکلات فوج بورصہ، انقرہ، سیواس اور مشرقی اناطولیہ کی طرف بڑھتی گئی۔ راستے میں بلند پہاڑ، تنگ درے اور شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مقامات پر برفانی طوفان نے فوج کی رفتار سست کر دی۔ کئی ہفتوں تک سلطان محمد فاتح کو اوزون حسن کی فوج کا کوئی سراغ نہ ملا کیونکہ اوزون حسن براہ راست مقابلے کے بجائے عثمانی فوج کو تھکا دینا اور رسد سے محروم کرنا چاہتا تھا۔ پہلا بڑا نقصان دریائے فرات کے قریب عثمانی فوج کے ایک اگلے دستے کی قیادت حسن مراد پاشا کر رہے تھے۔ اوزون حسن کے بیٹے اور کمانڈروں نے اچانک حملہ کیا۔ اس جھڑپ میں حسن مراد پاشا شہید ہو گئے اور عثمانی فوج کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اس خبر سے لشکر میں مایوسی پھیل گئی، لیکن سلطان محمد فاتح نے خود سپاہیوں کے حوصلے بلند کیے اور فوج کو منظم رکھا۔ اوتلوق بیلی کی جنگ – 11 اگست 1473ء 11 اگست 1473ء کو ارزنجان اور ترجان کے درمیان واقع میدان اوتلوق بیلی میں دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں۔ اوزون حسن کی فوج زیادہ تر تیز رفتار گھڑ سوار ترکمان سپاہیوں پر مشتمل تھی، جبکہ عثمانیوں کے پاس ینی چری فوج، بندوق بردار دستے اور میدانِ جنگ میں استعمال ہونے والی توپیں موجود تھیں۔ جنگ کے دوران کیا ہوا؟ صبح کے وقت دونوں فوجوں نے صف بندی کی۔ سلطان محمد فاتح مرکز میں موجود تھے، دائیں اور بائیں بازو کی قیادت تجربہ کار پاشا اور شہزادے کر رہے تھے۔ اوزون حسن کے بیٹوں نے تیز رفتار حملے شروع کیے، لیکن عثمانی توپ خانہ اور ینی چری فوج نے ان حملوں کو روک دیا۔ توپوں کی گھن گرج اور آتشیں اسلحے نے ترکمانی گھڑ سواروں کی صفوں میں انتشار پیدا کر دیا۔ دوپہر کے وقت شہزادہ مصطفیٰ کی قیادت میں عثمانی بائیں بازو نے شدید حملہ کیا۔ اس دوران اوزون حسن کا بیٹا زینل مرزا مارا گیا۔ بیٹے کی موت اور عثمانی توپ خانے کی برتری نے آق قویونلو فوج کا حوصلہ توڑ دیا۔ شام تک جنگ کا انجام جنگ کے آخری حصے میں اوزون حسن نے محسوس کیا کہ شکست یقینی ہے، لہٰذا وہ میدان چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ ہزاروں سپاہی مارے گئے اور بہت سے قیدی بنائے گئے۔ عثمانیوں نے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ جنگ کے بعد فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے شَبِن قرہ حصار (Şebinkarahisar) پر قبضہ کیا۔ اوزون حسن نے صلح کی درخواست بھیجی، جسے سلطان نے اس شرط پر قبول کیا کہ وہ آئندہ عثمانی علاقوں پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس جنگ کی اہمیت اوتلوق بیلی کی جنگ عثمانی سلطنت کی سب سے اہم فتوحات میں شمار ہوتی ہے۔ اس فتح کے بعد اناطولیہ میں عثمانیوں کی برتری مضبوط ہو گئی، یورپی طاقتوں اور اوزون حسن کا اتحاد ناکام ہو گیا، اور آق قویونلو سلطنت کی طاقت زوال کی طرف بڑھنے لگی۔ یہ جنگ اس اعتبار سے بھی مشہور ہے کہ سلطان محمد فاتح نے کھلے میدان میں توپ خانے اور آتشیں اسلحے کو انتہائی مؤثر انداز میں استعمال کیا، جس نے روایتی گھڑ سوار فوج کے مقابلے میں عثمانیوں کو فیصلہ کن برتری عطا کی۔
ياغالي ليش قلبك نساني جفاني 😔. . #fyp #explore
#منشو للي صديقتها جنوبيه #🦋✨🦋✨🦋✨🦋✨🦋✨🦋 #السعوديه_العظمى_الشعب_السعودي🇸🇦 #🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦🇸🇦 #🤍🦋✨🌿☁️
🤍 Mohabbat, dua aur ek khoobsurat nayi shuruaat…💕@Ch Fazii #stylebyfazii #lahore
Somali ❤️Japan ❤️jacaylku xuduud ma leh Mustafe & Rahma #hargaysa #reels #wedding2026 #SomaliWedding #Aroos
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy