@onlyyoumygirl35: អោយម៉ាក់ suk លេខ1#hyunsuk #TREASURE #4u #fypage

Hamada Mary
Hamada Mary
Open In TikTok:
Region: KH
Friday 19 June 2026 15:29:26 GMT
1765
367
6
17

Music

Download

Comments

user28624057394228
user28624057394228 :
អក្សរលេីចិញ្ចេីមគាត់គេគូមែនបង
2026-06-20 12:10:24
1
To see more videos from user @onlyyoumygirl35, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#انقلاب #FreeImranKhan #humanity #کشمیربنےگا_خود۔مختار #پاکستان  راولاکوٹ ، پلندری اور کشمیر کے دیگر شہروں میں موجود دوستوں سے بلیک آوٹ کے باوجود مسلسل رابطہ رہا۔ پچھلے دو دنوں کے دوران بالخصوص آج کی رات ہونے والی گفتگوؤں اور وہاں سے موصول ہونے والی اطلاعات نے دل و دماغ پر ایک عجیب بوجھ طاری کر دیا ہے۔ بعض اوقات حالات اس قدر سنگین ہوتے ہیں کہ انہیں الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں رہتا، اور موجودہ صورتحال بھی شاید انہی لمحات میں سے ایک ہے۔جو کچھ آج رات راولاکوٹ میں  ہوا اور جس نوعیت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اس کا نہ تو تحریک کی قیادت ، نہ کارکنان  اور نہ ہی ان لاکھوں کشمیریوں نے جو اپنے مطالبات کے لیے پُرامن انداز میں تحریک کا بازو بنے رہے  انہوں نے کبھی تصور کیا تھا۔رات کے آخری پہر  نہ جانے ماؤں کے کتنے لخت جگر اوندھے منہ پڑے تھے جن کو جانوروں سے بھی بدتر انداز میں کسی حقیر شے کی طرح ٹھکانے لگایا گیا ، کتنی جوان لڑکیوں کے سہاگ اجاڑ دئیے گئے ، کتنے معصوم بچوں اور کلیوں کو یتیم کر دیا گیا۔ یہ تحریک اپنے آغاز سے پُرامن رہی ہے اور اس کی پوری تاریخ عوامی جدوجہد، اجتماعی شعور اور عدم تشدد کے اصولوں سے عبارت رہی ہے لیکن یہاں جس نے بھی اپنا حق مانگا اس کے ساتھ یہی ہوا جو آج راولاکوٹ کے مقام پر غیرت مند کشمیریوں کے ساتھ ہوا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق رات گئے شروع ہونے والا ہولناک آپریشن طویل وقت تک جاری رہا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ مظاہرین اپنی جگہوں پر ڈٹے رہے، نوجوان صف در صف کھڑے رہے اور ہر قسم کے دباؤ کے باوجود پسپائی اختیار کرنے کے بجائے استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے اور محافظ ان نوجوانوں کے سینے چھلنی کرتے رہے ، قطار در قطار نوجوان گولیوں سے زخمی اور شہید ہوتے رہے۔ ان مناظر کو سن کر دل شدید رنجیدہ ہے لیکن مزاحمت صرف نعروں کا نام نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ اپنے خوف پر قابو پا کر حق پر قائم رہنے کا نام بھی ہوتی ہے۔ مقامی آزادکشمیر پولیس کو بھی حکم تھا کہ وہ مظاہرین پر گولیاں چلائیں ، جن بیچاروں کو اپنے ہم وطنوں پر رحم آیا اور ایسا گھناؤنا عمل کرنے سے جس نے انکار کیا وہ خود ان کی گولیوں کا شکار ہو گیا۔آج فضا سوگوار ہے، دل بوجھل ہیں اور ذہن منتشر ہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا لمحہ ہے جس نے لاکھوں کشمیریوں کے احساسات، امیدوں اور اعتماد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تاریخ میں ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ جو کچھ ان دنوں لکھا جا رہا ہے، وہ آنے والی نسلوں کے حافظے کا حصہ بنے گا۔بعض مناظر اور بعض درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جا سکتا، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ شاید آج کی رات بھی انہی راتوں میں سے ایک ہے۔ افراز رشید
#انقلاب #FreeImranKhan #humanity #کشمیربنےگا_خود۔مختار #پاکستان راولاکوٹ ، پلندری اور کشمیر کے دیگر شہروں میں موجود دوستوں سے بلیک آوٹ کے باوجود مسلسل رابطہ رہا۔ پچھلے دو دنوں کے دوران بالخصوص آج کی رات ہونے والی گفتگوؤں اور وہاں سے موصول ہونے والی اطلاعات نے دل و دماغ پر ایک عجیب بوجھ طاری کر دیا ہے۔ بعض اوقات حالات اس قدر سنگین ہوتے ہیں کہ انہیں الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں رہتا، اور موجودہ صورتحال بھی شاید انہی لمحات میں سے ایک ہے۔جو کچھ آج رات راولاکوٹ میں ہوا اور جس نوعیت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اس کا نہ تو تحریک کی قیادت ، نہ کارکنان اور نہ ہی ان لاکھوں کشمیریوں نے جو اپنے مطالبات کے لیے پُرامن انداز میں تحریک کا بازو بنے رہے انہوں نے کبھی تصور کیا تھا۔رات کے آخری پہر نہ جانے ماؤں کے کتنے لخت جگر اوندھے منہ پڑے تھے جن کو جانوروں سے بھی بدتر انداز میں کسی حقیر شے کی طرح ٹھکانے لگایا گیا ، کتنی جوان لڑکیوں کے سہاگ اجاڑ دئیے گئے ، کتنے معصوم بچوں اور کلیوں کو یتیم کر دیا گیا۔ یہ تحریک اپنے آغاز سے پُرامن رہی ہے اور اس کی پوری تاریخ عوامی جدوجہد، اجتماعی شعور اور عدم تشدد کے اصولوں سے عبارت رہی ہے لیکن یہاں جس نے بھی اپنا حق مانگا اس کے ساتھ یہی ہوا جو آج راولاکوٹ کے مقام پر غیرت مند کشمیریوں کے ساتھ ہوا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق رات گئے شروع ہونے والا ہولناک آپریشن طویل وقت تک جاری رہا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ مظاہرین اپنی جگہوں پر ڈٹے رہے، نوجوان صف در صف کھڑے رہے اور ہر قسم کے دباؤ کے باوجود پسپائی اختیار کرنے کے بجائے استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے اور محافظ ان نوجوانوں کے سینے چھلنی کرتے رہے ، قطار در قطار نوجوان گولیوں سے زخمی اور شہید ہوتے رہے۔ ان مناظر کو سن کر دل شدید رنجیدہ ہے لیکن مزاحمت صرف نعروں کا نام نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ اپنے خوف پر قابو پا کر حق پر قائم رہنے کا نام بھی ہوتی ہے۔ مقامی آزادکشمیر پولیس کو بھی حکم تھا کہ وہ مظاہرین پر گولیاں چلائیں ، جن بیچاروں کو اپنے ہم وطنوں پر رحم آیا اور ایسا گھناؤنا عمل کرنے سے جس نے انکار کیا وہ خود ان کی گولیوں کا شکار ہو گیا۔آج فضا سوگوار ہے، دل بوجھل ہیں اور ذہن منتشر ہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا لمحہ ہے جس نے لاکھوں کشمیریوں کے احساسات، امیدوں اور اعتماد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تاریخ میں ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ جو کچھ ان دنوں لکھا جا رہا ہے، وہ آنے والی نسلوں کے حافظے کا حصہ بنے گا۔بعض مناظر اور بعض درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جا سکتا، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ شاید آج کی رات بھی انہی راتوں میں سے ایک ہے۔ افراز رشید

About