خیمہ میں شور اٹھا کہ سکینہ بھی کھو گئیں!!!
محرم الحرام کے وضعی قصے کہانیوں میں کئی حقیقی اولولعزم کردار فسانہ بن کر رہ گئے ہیں، ان ہی میں سے ایک سیدنا حسین رض کی دختر سیدہ سکینہ بنت الحسین رح ہیں، جن کو کربلا کے وضعی قصوں کے تحت بچپن میں ہی شہید کروادیا گیا، جبکہ حقیقت میں سیدنا حسین رض کی ان جلیل القدر بیٹی کا تاریخ میں ایک خاص مقام ہے۔ یہ چند سطریں سیدنا حسین رض کی انہیں عظیم المرتبت بیٹی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ضبط تحریر میں لائی جارہی ہیں۔
سیدنا حسینؓ کثیر الازواج تھے اور آپؓ نے متعدد نکاح کئے۔ ان میں سے ایک نکاح آپ نے بنو کلب کی خاتون رباب بنت امراؤلقیس سے کیا۔ یہ رباب ؒ سیدنا حسین ؓ کی سب سے محبوب بیویوں میں سے تھیں اور ان کی مدحت میں تاریخ کتب و ادب میں حسینؓ کے چند اشعار بھی ملتے ہیں۔ سیدہ سکینہؒ انہی رباب ؒ کے بطن سے تھیں۔
علم و فضل، شعر و ادب، بر جستہ گوئی، حاضر جوابی اور حسن و جمال میں اپنی نظیر آپ تھیں۔ اپنے زمانہ کی بڑی بزلہ سنج اور طرحدار خاتون تھیں۔ ان کے بالوں کا فیشن اس دور کی خواتین میں بڑا پسندید ہ ہونے کے سبب ’’طرہء سکینہ‘‘ مشہور ہوگیا تھا۔ الغرض اپنے زمانہ کی ممتاز خواتین بنی ہاشم میں سے تھیں۔ رشتہ میں یہ یزیدؒ بن معاویہؓ کی قریبی عزیزہ یعنی ان کی ایک خالہ کی بیٹی تھیں کیونکہ سکینہ کی والدہ رباب اور یزید بن معاویہ کی والدہ میسونؒ نیز سکینہ کے دوسرے محبوب شوہر مصعب بن زبیر ؒ کی والدہ اور عثمان ؓ بن عفان کی زوجہ محترمہ سیدہ نائلہؒ، یہ سب خواتین اور علیؓ بن ابی طالب اور حسنؓ بن علیؓ کی ایک ایک زوجہ تین حقیقی بھائیوں علیم و زبیر و عدی پسران جناب بن ہیکل کلبی کی بیٹیاں تھیں۔ سیدہ سکینہؒ اپنے والد حسین بن علیؓ کی زندگی میں ہی سن بلوغ کو پہنچ گئی تھیں جیسا کہ بقول مصعب زبیری ان کی شادی اپنے تایا زاد عبداللہؒ بن حسنؓ سے ہوچکی تھی۔(کتاب نسب قریش، صفحہ ۵۹)
مورخین نے ان کے متعدد نکاحوں کا تذکرہ کیا ہے جو ان کے شوہروں کے یکے بعد دیگرے مرجانے سے ہوتے رہے۔ پہلا نکاح تو جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے اپنے سگے تایا زاد عبداللہ بن حسن سے ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح مدینہ میں مصعب بن زبیرؒ سے واقعہ کربلا کے بعد ہوا۔ یہ مصعب بن زبیر ، عبداللہ بن زبیرؓ کے بھائی تھے اور علیؓ کی وفات کے تیس اکتیس برس بعد یعنی ۷۱ ہجری میں جب عبداللہ بن زیبرؓ اور امیر عبدالملک بن مروانؒ کے مابین خلافت کی چپقلش جاری تھی، اپنے بھائی کی جانب سے عراق کے عامل تھے۔امیر عبدالملک بن مروانؒ سے قبل خلافت ان کی گہری دوستی اور آپسی محبت تھی۔ جیسا کہ ابن