@tariq_ch_: پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ سامنے رکھ کر اگر آپ سے کہا جائے کہ “آپ آزاد ہیں، اپنی مرضی سے فیصلہ کریں”، تو یہ آزادی نہیں، خوف ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 بظاہر 5G، فائبر آپٹک اور ڈیجیٹل پاکستان کی بات کرتا ہے۔ ترقی ہونی چاہیے، ضرور ہونی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ترقی کی قیمت کون ادا کرے گا؟ ذرا سوچئے۔ آپ نے پوری زندگی کی کمائی سے گھر بنایا۔ قرض اتارے۔ بچوں کے خواب قربان کیے۔ پھر ایک دن آپ کو بتایا جائے کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے آپ کی پراپرٹی تک رسائی درکار ہے۔ آپ کی ذاتی پراپرٹی کی رسائی کے متعلق، نئے قانون میں درج ہے کہ، کمپنی آپ کی رضامندی چاہے تو آپ اسے خود جواب دیں۔ اگر کمپنی کو آپکے "نا مناسب انکار" پر اعتراض ہوا تو ایک سیکریٹری لیول کا عہدیدار تیس دن میں اس شکایت کو سن کر فیصلہ کرے گا اور پراپرٹی مالک کو پانچ کروڑ تک جرمانہ کر سکتا ہے۔ میرا اعتراض ٹیلی کام انفراسٹرکچر یا 5G سے نہیں ہے۔ میرا اعتراض اس بات پر ہے کہ قانون یہ واضح نہیں کرتا کہ "نا مناسب انکار" آخر ہوتا کیا ہے۔ اگر ایک شہری کو پہلے سے یہ ہی معلوم نہ ہو کہ کون سا انکار جائز ہے اور کون سا پانچ کروڑ کے جرمانے کا سبب بن سکتا ہے، تو پھر قانونی تحفظ کہاں ہے؟ قانون میں یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ یہ بے چارہ "نا مناسب انکار" انکی نظر میں کیا ہے۔ یعنی کہ آپ کا انکار ہی نامناسب انکار ہوگا۔ یہ رضامندی ہے یا دباؤ؟ یہ اختیار ہے یا دھمکی؟ یہ معاہدہ ہے یا مجبوری؟ قانون کہتا ہے آپ انکار کر سکتے ہیں۔ مسئلہ انکار کے حق کا نہیں، بلکہ اس حق کی حدود اور تعریف کے غیر واضح ہونے کا ہے۔ پہلے بھی لوگ اپنی پراپرٹی پر ٹیلی کام کمپنیز کے ٹاور لگوا کر پیسے کمارہے تھے، لیکن دونوں طرف آزاد رضامندی تھی پھر معاہدے طے پاتا تھا۔ سوال یہ ہے پھر یہ قانون کیوں بنانا پڑا؟ اس لئیے کہ ٹیلی کمپنیزی اگر زبردستی چاہٰیں تو حکام سے شکایت لگا کر جرمانہ کروا سکتی ہیں۔ اور جب قانون میں "نامناسب انکار" کی تعریف شامل نہیں تو ہر انکار "نامناسب انکار" بن جائے گا اور پراپرٹی مالکین دباو میں رضامند ہوں گے۔ یعنی کی زبردستی کرکے رضامندی لی جائے گی۔ یہی اس بل کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔ دنیا بھر میں نجی ملکیت کا حق صرف زمین کا حق نہیں ہوتا، یہ آزادی کا حق ہوتا ہے۔ جس دن ریاست شہری کے “نہیں” کہنے کے حق کو کمزور کر دے، اسی دن “ہاں” کی اخلاقی حیثیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ مجھے 5G سے اختلاف نہیں۔ مجھے فائبرائزیشن سے اختلاف نہیں۔ مجھے ڈیجیٹل پاکستان سے اختلاف نہیں۔ لیکن مجھے اس سوچ سے اختلاف ہے کہ ایک عام شہری کے سر پر پانچ کروڑ روپے کی تلوار لٹکا کر پھر اس کی رضامندی کو رضامندی کہا جائے۔ یاد رکھیے۔ جائیداد کا حق صرف اس وقت تک حق ہے جب مالک کو “نہیں” کہنے کا حقیقی حق حاصل ہو۔ ورنہ پھر گھر آپ کا ہوتا ہے، اختیار کسی اور کا۔ #foryou #foryoupage #fyp #viraltiktok #imrankhanpti @Imran Khan Official @AMJAD AFRIDII PK @Abubakr official @Aamir🍁kashmiri @Akhtar Khan Official @Malak Adil Khan Bazai (MNA)