@owxdfxc6f5: ハイピックは高性能な画像編集ツールです。 Hypic adalah alat pengeditan foto yang hebat. #hypic #hypiccreator #hypicATETHAT #hypicphotoediting #Godpic @hypic_global @hypic_vn_official Hypic is a powerful photo editing tool. Hypic là công cụ chỉnh sửa ảnh cực mạnh. ហ៊ីពិក គឺជាឧបករណ៍ណ៍ណ៍ណ៍ណ៍ណ៍ណ៍ណ៍ណ៍ណ៍ណ៍ណ៍ណ៍កែកែកែកែកែកែសម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួម្រួនុនុនុភាព។

Seedance
Seedance
Open In TikTok:
Region: JP
Saturday 20 June 2026 06:32:44 GMT
103
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @owxdfxc6f5, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مینار جامعہ فاروقیہ کی روشنیاں  خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کو خراج عقیدت رئیس المحدثین مولانا سلیم اللہ خانؒ صاحب  کراچی کی سرزمین پر واقع جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کا مینار، ہر سالل محرم الحرام کے مہینے میں ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ جب رات کی تاریکی چھا جاتی ہے تو یہ مینار ہزاروں چراغوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔ یہ صرف روشنی نہیں ہوتی، یہ ایک پیغام ہوتا ہے، ایک عقیدت کا اظہار ہوتا ہے، ایک تاریخ کی یاد دہانی ہوتی ہے۔ یہ وہ منظر ہے جسے رئیس المحدثین حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب نور اللہ مرقدہ نے اپنی حیات میں شروع کیا اور اپنی شفقت سے اسے ایک روایت بنا دیا۔  عقیدت کا ایک انوکھا انداز. مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ، جنہیں امت
مینار جامعہ فاروقیہ کی روشنیاں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کو خراج عقیدت رئیس المحدثین مولانا سلیم اللہ خانؒ صاحب کراچی کی سرزمین پر واقع جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کا مینار، ہر سالل محرم الحرام کے مہینے میں ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ جب رات کی تاریکی چھا جاتی ہے تو یہ مینار ہزاروں چراغوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔ یہ صرف روشنی نہیں ہوتی، یہ ایک پیغام ہوتا ہے، ایک عقیدت کا اظہار ہوتا ہے، ایک تاریخ کی یاد دہانی ہوتی ہے۔ یہ وہ منظر ہے جسے رئیس المحدثین حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب نور اللہ مرقدہ نے اپنی حیات میں شروع کیا اور اپنی شفقت سے اسے ایک روایت بنا دیا۔ عقیدت کا ایک انوکھا انداز. مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ، جنہیں امت "رئیس المحدثین" کے لقب سے یاد کرتی ہے، علم، تقویٰ اور عشقِ صحابہؓ کا ایک عظیم مینار تھے۔ ان کا دل خلفاء راشدین کی محبت سے لبریز تھا۔ بالخصوص امیر المومنین، خلیفہ ثانی، سیدنا عمر فاروق اعظمؓ کی ذات سے ان کا تعلق بے مثال تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ آج کی نسل صحابہؓ کی عظمت سے ناآشنا ہو رہی ہے۔ تقریروں سے، کتابوں سے بات دل تک نہیں پہنچ رہی۔ تو انہوں نے ایک عملی قدم اٹھایا۔ انہوں نے جامعہ فاروقیہ کے بلند و بالا مینار کو ہر سال یکم محرم کے بعد، خصوصاً یوم شہادتِ فاروقِ اعظمؓ کے موقع پر، خوبصورت برقی قمقموں سے سجانا شروع کیا۔ ان کا مقصد صرف سجاوٹ نہیں تھا۔ ان کا مقصد تھا کہ کراچی کا ہر راہگیر، ہر مسافر، ہر گھر کی چھت سے جب اس روشن مینار کو دیکھے تو اس کے دل میں ایک سوال اٹھے: "یہ روشنی کس کے لیے ہے؟" اور جواب خود بخود زبان پر آ جائے: "یہ حضرت عمرؓ کے لیے ہے"۔ مینار کیوں؟ علامت کیا ہے؟ مینار اسلام میں اذان کی علامت ہے۔ مینار بلندی، استقامت اور رہنمائی کی نشانی ہے۔ مولانا صاحب نے مینار کو چنا کیونکہ: حضرت عمرؓ خود اسلام کے مینار تھے۔ جب وہ اسلام لائے تو اسلام کو عزت ملی۔ کعبے کے سامنے نماز پڑھی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عمر، تیرے اسلام لانے سے دین کو قوت ملی"۔ تو مینار کو سجانا گویا عمرؓ کی اس قوت کو خراج پیش کرنا تھا۔ مینار دور سے نظر آتا ہے۔ مولانا صاحب چاہتے تھے کہ فاروقِ اعظمؓ کی قربانی، ان کا عدل، ان کی شہادت کا پیغام دور تک جائے۔ روشنی اندھیرے کو مٹاتی ہے۔ حضرت عمرؓ کی سیرت بھی جہالت کے اندھیرے مٹانے والی تھی۔ شہادت کے بعد لاش کو جلایا نہیں جاتا، چراغ جلائے جاتے ہیں۔ مولانا صاحب نے مینار جلاکر یہ بتایا کہ فاروقؓ مرے نہیں، وہ آج بھی اس امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ سیدنا عمرؓ کی شان اور شہادت خلیفہ ثانی سیدنا عمرؓ" محض نام نہیں تھے۔ یہ ایک پوری تاریخ کا خلاصہ تھے۔ حضرت عمرؓ وہ ہستی ہیں جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا"۔ آپؓ نے 10 سال کی خلافت میں دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ ایران، شام، مصر، عراق کے دروازے اسلام پر کھل گئے۔ بیت المقدس کی چابیاں آپؓ کے ہاتھ آئیں۔ آپؓ نے دیوان، ہجری تقویم، پولیس، جیل، عدالتیں قائم کیں۔ لیکن عروج کے باوجود آپؓ کا دل ڈرتا رہتا تھا۔ رات کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے اور رو کر اللہ سے کہتے: "اے اللہ، اگر دریائے دجلہ کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر سے پوچھ ہوگی"۔ کی فجر۔ آپؓ مسجد نبوی میں محراب میں کھڑے تھے۔ ایک مجوسی غلام ابولؤلؤ فیروز نے خنجر کے وار کیے۔ آپؓ نے نماز پوری کی، پھر فرمایا: "شکر ہے اللہ کا جس نے میری موت شہادت کی موت رکھی"۔ یہی شہادت تھی جسے خراج پیش کرنے کے لیے مینار سجایا جاتا تھا۔ مولانا صاحب کہتے تھے: "عمرؓ کی شہادت کا دن امت کے لیے سوگ کا دن ہے۔ ہم چراغ جلاتے ہیں تاکہ امت کو یاد آ جائے کہ ہم نے اپنا نگہبان کھو دیا تھا"۔ مناقبت: تعریف کے بول مینار کی روشنیوں کے ساتھ وہاں مناقبت بھی پڑھی جاتی تھی۔ "عمرؓ وہ شیرِ خدا ہیں، جن کی دہشت سے قیصر و کسریٰ کانپتے تھے"۔ "عمرؓ وہ عادل ہیں جن کے سامنے بیٹا بھی قانون کے آگے جھک گیا"۔ مولانا صاحب خود فرماتے تھے کہ عمرؓ کی مناقبت پڑھنا عبادت ہے۔ کیونکہ صحابہؓ کی تعریف کرنا نبی ﷺ کی تعریف کرنا ہے۔ اور نبی ﷺ کی تعریف کرنا اللہ کی رضا پانا ہے۔ مینار کی روشنی دراصل ان مناقبتوں کی روشنی تھی جو زبانیں بیان کر رہی تھیں۔ ہر بلب ایک لفظ تھا، ہر جگمگاہٹ ایک جملہ تھا: "عمرؓ زندہ باد"۔ ہمارے لیے سبق اس روشنی سے ہمیں 3 سبق ملتے ہیں: وفا کا سبق: صحابہؓ نے نبی ﷺ سے وفا کی، ہم صحابہؓ سے وفا کریں۔ مینار سجانا وفا کی ایک صورت ہے۔ قربانی کا سبق: حضرت عمرؓ نے اپنی جان دے دی دین کے لیے۔ ہم اپنا وقت، اپنا مال، اپنی نیند دے دیں دین سیکھنے کے لیے۔ عدل کا سبق: مینار کی روشنی سب کے لیے برابر ہے۔ حضرت عمرؓ کا عدل بھی سب کے لیے برابر تھا۔ امیر ہو یا غریب، عربی ہو یا عجمی۔ اے اللہ! رئیس المحدثین مولانا سلیم اللہ خان صاحب ک

About