@sumsro: عقیدہ توحید اور توہم پرستی کا خاتمہ: اسلامی نقطہ نظر اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو مادی اور ذہنی غلامی سے نجات دلا کر صرف ایک اللہ کی بندگی کا درس دیتا ہے۔ اسلام کی بنیاد "توحید" پر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ہر نفع اور نقصان پہنچانے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ جب انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہو جاتا ہے، تو وہ دنیا کے تمام فرضی ڈروں اور توہمات سے آزاد ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے، آج ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی باتیں مشہور ہو چکی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جیسا کہ تصویر (image.png) میں اشارہ کیا گیا ہے، صحیح عقیدے کی کمی انسان کو وہم کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ معاشرتی توہمات اور اسلامی حقیقت تصویر (image.png) میں ذکر کردہ باتوں کی روشنی میں اگر ہم اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیں، تو حقیقت کچھ یوں واضح ہوتی ہے: کالی بلی کا راستہ کاٹنا یا الو کی آواز: جاہلیت کے دور میں بھی لوگ پرندوں اور جانوروں سے بدشگونی (برا شگون) لیتے تھے۔ اسلام نے اس کی سخت نفی کی ہے۔ کالی بلی کا راستہ کاٹنا یا الو کا بولنا محض قدرتی متبادل ہیں، ان کا انسان کی قسمت یا موڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شام کے وقت جھاڑو لگانا: یہ ایک عام وہم ہے کہ شام کو جھاڑو لگانے سے رزق کم ہوتا ہے۔ اسلام میں رزق کا ضامن اللہ ہے اور صفائی کی ترغیب ہر وقت دی گئی ہے۔ اس مانی ہوئی بات کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔ آنکھ کا پھڑکنا یا کوے کا بولنا: دائیں یا بائیں آنکھ کے پھڑکنے کو کسی اچھی یا بری خبر سے جوڑنا، یا منڈیر پر کوے کے بولنے سے مہمان کی آمد کا یقین کر لینا محض وہم ہیں۔ یہ سب طبعی یا اتفاقی امور ہیں۔ عاملوں اور نجومیوں کے پاس جانا: تصویر (image.png) کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جب انسان ان وہموں میں گھِر جاتا ہے، تو وہ اپنے سکون، صحت اور کامیابی کے لیے جعلی عاملوں، پیروں یا نجومیوں کا رخ کرتا ہے۔ اسلام میں جادو ٹونا، نجومیت اور ایسے عاملوں کے پاس جانا نہ صرف ممنوع ہے بلکہ اسے شرک کے زمرے میں لایا گیا ہے۔ بدشگونی اور توہم پرستی کے بارے میں احادیث نبویﷺ رسول اللہ ﷺ نے واضح طور پر ان تمام اوہام باطلہ کو مسترد فرمایا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، اگر کسی انسان کے دل میں کوئی ایسا برا خیال آئے، تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ پر توکل کرے اور یہ دعا پڑھے: "اے اللہ! تیری دی ہوئی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں، اور تیری پیدا کردہ اچھائی کے سوا کوئی اچھائی نہیں، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔" عقیدہ توحید کا اثر جب انسان کا ایمان پختہ ہوتا ہے، تو وہ جان لیتا ہے کہ "منوں مٹی تلے دبی ہڈیاں" یا کوئی بھی مزار، پیر، یا عامل کسی کے بگڑے کام نہیں سنوار سکتا۔ کام سنوارنے والی، شفا دینے والی اور عزت و ذلت کی مالک صرف اللہ کی ذات ہے۔ تصویر (image.png) ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کیجیے۔ اگر عقیدہ صحیح نہیں ہوگا، تو زندگی کا ہر چھوٹا واقعہ آپ کو خوفزدہ کر دے گا۔ لیکن اگر دل میں توحید کی روشنی ہوگی، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کے قدم ڈگمگا نہیں سکے گی۔ خلاصہ: اسلام ہمیں توہم پرستی کی تاریکی سے نکال کر عقل، شعور اور اللہ پر پختہ یقین (توکل) کی روشنی عطا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے تمام توہمات کا بائیکاٹ کریں اور اپنے عقیدے کو خالص رکھیں۔ #Allah #islamic_video #foryou #islam #fyp