@em.15834: "Anh có quá nhiều bí mật, Em thì không gặng hỏi. Lòng Anh như đại dương, Em thì không lặn giỏi"… #musicchill #buontamtrang #sadstory #fyp #xuhuong

29th11 🖤
29th11 🖤
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 20 June 2026 11:28:39 GMT
4091
103
2
49

Music

Download

Comments

em.15834
29th11 🖤 :
"Anh có quá nhiều bí mật, Em thì không gặng hỏi. Lòng Anh như đại dương, Em thì không lặn giỏi"…
2026-06-20 11:28:46
1
thutrangnguyen717
tranglinh :
cho kình xin tên bái hát va
2026-06-20 23:34:06
0
To see more videos from user @em.15834, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حقیقت اور ہی کُچھ ہے، مگر ہم کیا سمجھتے ہیں جو اپنا ہو نہیں سکتا، اُسے اپنا سمجھتے ہیں یہ درسِ اوّلیں مُجھ کو مِلا اپنے بزرگوں سے بہت چھوٹے ہیں وہ، اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں نہ جانے کیوں ہماری اُنکی اِک پل بھی نہیں بنتی جو اپنا قبلۂ دِل، دولتِ دُنیا سمجھتے ہیں اُن اہلِ نظر کی اِس شانِ استغنا کا کیا کہنا جو تاجِ خُسروی کو خاکِ زیرِ پا سمجھتے ہیں خُدا و مصطفٰےؐ سے ہٹ کے، وہ ہیں سخت دھوکے میں جو اپنی ذات کو تنقید سے بالا سمجھتے ہیں بُرے اچھوں کو بھی اچھا نہیں گردانتے، لیکن جو اچھے ہیں، بُرے لوگوں کو بھی اچھا سمجھتے ہیں نہیں ہے احتیاجِ لب کُشائی رُو برُو اُن کے کہ اہلِ دِل، زبانِ دیدۂ بِینا سمجھتے ہیں جو گُل کے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں رُخِ گُلشن وہ اربابِ نظر، قطرے کو بھی دریا سمجھتے ہیں  کوئی درپردہ کس سے چل رہا ہے کتنی چالیں سمجھ ہر چند ناقص ہے، مگر اتنا سمجھتے ہیں نہ پُوچھو کُچھ، کہ کیا کُچھ دے دیا دینے والے نے بڑا ہو لاکھ کوئی، ہم کسی کو کیا سمجھتے ہی بظاہر خوش تھے جو کل تک ہماری گُل فشانی پر وہ اپنے بھی ہمیں اب راہ کا کانٹا سمجھتے ہیں جو نکلیں جُستجو کا شوق لے کر راہِ جاناں میں وہ ہر منزل کو اپنے پاؤں کا چھالا سمجھتے ہیں قیامت سر پہ جو ٹُوٹے مصیبت دِل پہ جو آئے حقیقت میں اُسے ہم مرضیِ مولا سمجھتے ہیں لگا دی تہمتِ بادہ کشی اُن پر بھی واعظ نے نصِیرؔ اُن کی نظر کو جو مے و مِینا سمجھتے ہیں۔ #نعت #سفیرعشق #قوالی_محفل #پاکستان #پاکستان___زندہ___باد🇵🇰
حقیقت اور ہی کُچھ ہے، مگر ہم کیا سمجھتے ہیں جو اپنا ہو نہیں سکتا، اُسے اپنا سمجھتے ہیں یہ درسِ اوّلیں مُجھ کو مِلا اپنے بزرگوں سے بہت چھوٹے ہیں وہ، اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں نہ جانے کیوں ہماری اُنکی اِک پل بھی نہیں بنتی جو اپنا قبلۂ دِل، دولتِ دُنیا سمجھتے ہیں اُن اہلِ نظر کی اِس شانِ استغنا کا کیا کہنا جو تاجِ خُسروی کو خاکِ زیرِ پا سمجھتے ہیں خُدا و مصطفٰےؐ سے ہٹ کے، وہ ہیں سخت دھوکے میں جو اپنی ذات کو تنقید سے بالا سمجھتے ہیں بُرے اچھوں کو بھی اچھا نہیں گردانتے، لیکن جو اچھے ہیں، بُرے لوگوں کو بھی اچھا سمجھتے ہیں نہیں ہے احتیاجِ لب کُشائی رُو برُو اُن کے کہ اہلِ دِل، زبانِ دیدۂ بِینا سمجھتے ہیں جو گُل کے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں رُخِ گُلشن وہ اربابِ نظر، قطرے کو بھی دریا سمجھتے ہیں کوئی درپردہ کس سے چل رہا ہے کتنی چالیں سمجھ ہر چند ناقص ہے، مگر اتنا سمجھتے ہیں نہ پُوچھو کُچھ، کہ کیا کُچھ دے دیا دینے والے نے بڑا ہو لاکھ کوئی، ہم کسی کو کیا سمجھتے ہی بظاہر خوش تھے جو کل تک ہماری گُل فشانی پر وہ اپنے بھی ہمیں اب راہ کا کانٹا سمجھتے ہیں جو نکلیں جُستجو کا شوق لے کر راہِ جاناں میں وہ ہر منزل کو اپنے پاؤں کا چھالا سمجھتے ہیں قیامت سر پہ جو ٹُوٹے مصیبت دِل پہ جو آئے حقیقت میں اُسے ہم مرضیِ مولا سمجھتے ہیں لگا دی تہمتِ بادہ کشی اُن پر بھی واعظ نے نصِیرؔ اُن کی نظر کو جو مے و مِینا سمجھتے ہیں۔ #نعت #سفیرعشق #قوالی_محفل #پاکستان #پاکستان___زندہ___باد🇵🇰

About