@diem2090401: #xuhuong #fyp

Diễm🍓
Diễm🍓
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 20 June 2026 11:36:46 GMT
6472
694
6
13

Music

Download

Comments

.bdonljne
2026-06-20 11:57:27
1
linhkent423
Linh Kent :
🥰Dth
2026-06-21 12:31:21
0
abc_05xyz
em việt meo meo 💸 :
rep
2026-06-20 11:38:26
0
hoangqun8386
Mất Nhận Thức 🙃 :
đầu nè
2026-06-20 11:38:57
0
sanyo0321
SANYO :
🥰🥰🥰
2026-06-21 16:15:03
0
To see more videos from user @diem2090401, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پاؤں کی ٹھوکروں سے میں لشکر کو ماردوں🫂♥️ حضرت عباس علیہ السلام، امام علیؑ کے فرزند اور امام حسینؑ کے بھائی تھے۔ آپ کو “باب الحوائج”، “سقاۓ کربلا” اور “علمدارِ لشکرِ حسینؑ” جیسے عظیم القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپؑ کی بہادری، وفاداری، اور غیرت کربلا کے ہر منظر میں نمایاں ہے۔ کربلا میں جب بچوں کے لب خشک ہو گئے اور خیموں میں پانی کی صدا بلند ہوئی، تو حضرت عباسؑ نے مشکیزہ لیا، علم تھاما اور دشمن کے نرغے کو چیرتے ہوئے فرات تک پہنچے۔ آپؑ نے پانی لیا، مگر خود نہ پیا، کیونکہ آپ کو حسینؑ کے پیاسے لب یاد تھے۔ واپسی پر دشمنوں نے حملہ کیا، آپؑ کے بازو قلم کیے گئے، مگر آپ نے بازوؤں کے بغیر بھی مشکیزہ دندانوں سے تھاما۔ آپؑ دشمن سے لڑتے رہے، حتیٰ کہ سر پر وار کیا گیا اور آپ زمین پر گر پڑے۔ آپؑ نے آواز دی: “یا اخا! ادرك اخاك” (اے بھائی! اپنے بھائی کو سنبھال لو) امام حسینؑ دوڑتے آئے، عباسؑ کے سر کو گود میں رکھا، آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ عباسؑ نے عرض کی: “بھیا! اب مجھے واپس خیموں میں نہ لے جانا، میں شرمندہ ہوں کہ پانی نہ لا سکا۔” امام حسینؑ نے فرمایا: “اب الفضل! تم نے میرا لشکر بچا لیا۔ تم جاؤ، تمہارا مقام جنت ہے۔” ⸻ 🕊 شہادت کی تاریخ: حضرت عباسؑ کی شہادت 10 محرم الحرام کو ہوئی، مگر بعض علما اور روایات کے مطابق 8 محرم کو دشمن نے پانی بند کیا اور اسی دن عباسؑ نے کئی بار فرات تک رسائی کی کوشش کی، اس لیے بعض مقامات پر 8 محرم کو “یومِ عباسؑ” کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ 🏴🖤🫶🏻😭🍁♥️
پاؤں کی ٹھوکروں سے میں لشکر کو ماردوں🫂♥️ حضرت عباس علیہ السلام، امام علیؑ کے فرزند اور امام حسینؑ کے بھائی تھے۔ آپ کو “باب الحوائج”، “سقاۓ کربلا” اور “علمدارِ لشکرِ حسینؑ” جیسے عظیم القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپؑ کی بہادری، وفاداری، اور غیرت کربلا کے ہر منظر میں نمایاں ہے۔ کربلا میں جب بچوں کے لب خشک ہو گئے اور خیموں میں پانی کی صدا بلند ہوئی، تو حضرت عباسؑ نے مشکیزہ لیا، علم تھاما اور دشمن کے نرغے کو چیرتے ہوئے فرات تک پہنچے۔ آپؑ نے پانی لیا، مگر خود نہ پیا، کیونکہ آپ کو حسینؑ کے پیاسے لب یاد تھے۔ واپسی پر دشمنوں نے حملہ کیا، آپؑ کے بازو قلم کیے گئے، مگر آپ نے بازوؤں کے بغیر بھی مشکیزہ دندانوں سے تھاما۔ آپؑ دشمن سے لڑتے رہے، حتیٰ کہ سر پر وار کیا گیا اور آپ زمین پر گر پڑے۔ آپؑ نے آواز دی: “یا اخا! ادرك اخاك” (اے بھائی! اپنے بھائی کو سنبھال لو) امام حسینؑ دوڑتے آئے، عباسؑ کے سر کو گود میں رکھا، آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ عباسؑ نے عرض کی: “بھیا! اب مجھے واپس خیموں میں نہ لے جانا، میں شرمندہ ہوں کہ پانی نہ لا سکا۔” امام حسینؑ نے فرمایا: “اب الفضل! تم نے میرا لشکر بچا لیا۔ تم جاؤ، تمہارا مقام جنت ہے۔” ⸻ 🕊 شہادت کی تاریخ: حضرت عباسؑ کی شہادت 10 محرم الحرام کو ہوئی، مگر بعض علما اور روایات کے مطابق 8 محرم کو دشمن نے پانی بند کیا اور اسی دن عباسؑ نے کئی بار فرات تک رسائی کی کوشش کی، اس لیے بعض مقامات پر 8 محرم کو “یومِ عباسؑ” کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ 🏴🖤🫶🏻😭🍁♥️

About