@sagharofficials: کربلا دل میں نہ ہو تو آنکھ نم ہوتی نہیں بے سبب مقتل کی جانب روح خم ہوتی نہیں پیاس کے عالم میں بھی شبیر ہیں ثابت قدم یہ وفا ہر آدمی سے یوں رقم ہوتی نہیں خون سے لکھّی گئی تھی اک نئی تفسیرِ حق یہ سبیل ایسی کشادہ ہے جو کم ہوتی نہیں ظلم جتنا بھی بڑھا لے اپنی طاقت کا غرور یہ صدائے حق کبھی بھی زیرِ بم ہوتی نہیں صبرِ زینبؑ نے اندھیروں کو اجالا کر دیا روشنی اس شمس کی بڑھتی ہے کم ہوتی نہیں سر کٹانے کا ہنر سیکھا ہے جس نے کربلا اس کی گردن ظلم کے آگے بھی خم ہوتی نہیں نامِ شبیرؑ آ گیا تو آنکھ بھی پُرنم ہوئی یہ محبت ہے، یہ دولت ہر جنم ہوتی نہیں غلام عباس ساغر شاعری Ghulam Abbas Saghar Poetry