@rasul.rafii: Back to childhood❤️🥀#foryou #foryoupage #foryoupageofficiall❤️❤️tiktoklover❤️ #tiktokbdofficial🇧🇩

rasul rafii🇧🇩
rasul rafii🇧🇩
Open In TikTok:
Region: BD
Saturday 20 June 2026 13:24:42 GMT
168390
11896
811
651

Music

Download

Comments

tanjina_4677
Queen __ Tanjina __ :
হাসি টা মাশাল্লাহ,, ভিডিও টা সুন্দর হইছে
2026-06-22 03:54:23
93
toma.sarkar67
T🚩 :
কিছু সময়ের জন্যে তারাও ফিরে গিয়েছিল সেই ফেলে আসা শৈশবে ❤️😊
2026-06-22 14:26:16
36
sparraw16
@RØsê🌷 :
Mashallah video ta onk vlo lagse 🥰🥰
2026-06-22 16:36:39
0
ajidahk14
সাইফান খাদিজার আম্মু :
মুচকি হাসছো কে কে
2026-06-22 15:19:43
19
sanjida.jahan287
🇸🇦 সৌদি প্রবাসি বউ 🇸🇦 :
আমার কেনো জানি চোখে পানি চলে আসলো 🥹🥹
2026-06-22 07:22:11
17
ms.lima129
Ms Lima :
ভিডিও টা দেখলাম আর আমি নিজেই মুচকি হাসি দিয়ে হুট করে কমেন্ট পড়তে চলা আসা আমি😁😁😁🙋‍♀️
2026-06-22 12:26:56
17
user4925160998131
সানজিদা আহমেদ :
ভালো থাকুক দাদা নানা ভাইয়ারা
2026-06-22 04:49:56
11
user3290250957788
✈️ বাহরাইন প্রবাসীর বউ ✈️ :
সত্যি খুব ভালো লাগল🥰
2026-06-22 01:42:32
11
khabiza04
🤲আল্লাহ সর্বশক্তিমান🤲 :
ami amar dada ke dekhini
2026-06-22 03:23:23
1
fahad_9082
limaakter1635 :
মাশাল্লাহ খুব সুন্দর মোরত
2026-06-21 06:18:52
9
najmun27
কঠিন জীবন :
চোখে পানি চলে আসেছে😭😭 আল্লাহ ওনাদের নেক হায়াত দান করুক আমিন
2026-06-22 09:48:17
5
yaminsheikh96
ঝরা ফুল 🥀 :
অনেক সুন্দর হয়েছে দাদা ভাই 🥰🥰🥰
2026-06-22 11:57:46
1
md.riyad4706
MD RIYAD :
আমার দাদা নাই বাবা নাই 😭😭😭
2026-06-22 03:59:11
1
hasina3552
দীপ্ত গোধূলি 🌺🌺🌺 :
ভিডিওটা দেখে এত পরিমাণে ভালো লাগছে যা বলার মত নয় 🥰🥰🥰🥰
2026-06-22 15:42:00
3
mim.islam13758
🌼Mim Islam🌼 :
আমরা কেন বড় হলাম🥹
2026-06-22 15:17:30
1
user4428355306787
তাহমিনা আক্তার :
অনেক সুন্দর হইছে 🥰🥰🥰
2026-06-21 09:36:02
1
user7813805613258
অমিত হাসান :
দেখলেও শান্তি লাগে
2026-06-22 15:32:27
1
sumi62297
sumi :
beautiful ❤️❤️❤️
2026-06-22 16:03:28
0
sumaamoni
moni :
মাশাআল্লাহ এরকম হাসিখুশিভাবেই আল্লাহপাক রাখো উনাদেরকে
2026-06-22 14:50:37
1
jui.islam0269
jui.islam0269 :
মাশাল্লাহ অনেক সুন্দর
2026-06-21 05:52:10
2
user6956399103016
Nil pori :
ভালো থাকুক দাাদারা🥰🥰আমার দাদা। নেই আমার দাদাকে কখনো দেখিনি 😅😅😅
2026-06-21 09:45:51
3
sathi_88
sathi :
মাশাল্লাহ মাশাল্লাহ দেখে অনেক ভালো লাগলো
2026-06-22 06:49:20
4
_s.a4z__9x
꧁༒☬ Xenorayat _X9Q47 ☬༒꧂ :
আমার বাবা নেই এরকম আঙ্কেলদের দেখলে মায়া লাগে এখন আর কেউ নাম ধরে ডাকে না বাবার মতো করে আদর করে 🥺😢😢😢
2026-06-22 16:43:53
0
saty8989
-𝐘𝐨𝐔𝐫ᥫ᭡JANNAT🍒🧃 :
খুব সুন্দর
2026-06-21 04:22:00
1
sanzida2796
Misty :
Valo thakok pithibir sob dada vai ra 🥹
2026-06-22 10:43:43
2
To see more videos from user @rasul.rafii, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وه بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں پیدا ہوئی۔ اس نے بچپن سے ہی بندوقوں کی گھن گرج سنی اور راستوں پر خون سے رنگے ہوئے لاشے دیکھے۔ خون سے بھیگی ہوئی پتھریلی زمین پر پلتے ہوئے جیسے ہی وہ جوان ہوئی تو اس کے والد کو اٹھا کر غائب کر دیا گیا، صرف اس جرم میں کہ وہ قوموں کے اس قیدخانے میں آزادی کی بات کر رہا تھا۔ وہ ایک دفعہ واپس آیا اور جب دوسری بار اٹھایا گیا تو اس کی گولیوں سے چھلنی لاش دی گئی۔ اس نے اپنی بھرپور جوانی میں اپنے باپ کی گولیوں سے پرن ہوئی لاش دیکھی۔ اس کی آنکھوں میں ہلکے آنسو اور گہری بغاوت اتر آئی۔ وہ قلات کے لمبے پہاڑ چھوڑ کر اپنی پانچ بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ کراچی آ گئی۔ بلوچستان پر جبر کی کالی رات جاری رہی اور دھرتی کے سینے سے پھوٹ نکلے گلاب جیسے نوجوان وطن کے لیے لڑتے رہے۔ آخر ایک دن اس کے اکلوتے بھائی کو اٹھا لیا گیا۔ جب اپنوں کا اکلوتا بھائی اٹھ گیا تو اس نے برقع اتار پھینکا اور باغی آنکھوں سے سفاک ریاست سے لڑنے کے لیے میدان میں اتر آئی۔۔ بلوچی لباس میں نظریاتی نگاہ سے تقریر کرنے والی ماہ رنگ بلوچ۔۔ بلوچستان کی سیاست میں ایک انقلابی نعرے کی طرح گونجنے لگی۔۔ اس نے ایک بڑا مارچ کیا جو بلوچستان کے روایتی نوابوں، سرداروں اور میروں کی رنگ برنگی پگڑیوں کو للکارتا، مظلوم قوموں پر ظلم کی کالی رات مسلط کرنے والوں کے دل پر مونگ دلتا، ملک بھر کے محکوموں کے لیے حوصلے کی علامت بن کر جوں جوں آگے بڑھتا گیا، سفاک قوتوں کا خوف بڑھتا گیا۔ وہ عوام کے ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہوتی گئی تو انہوں نے ریاستی عدالت میں لا کر مجرم بنانے کی کوششیں کیں۔ اس نے عدالت کی ہر تاریخ پر اپنے ہونٹوں پر انقلابی مسکراہٹ لا کر نئی تاریخ لکھ دی۔ آخر آج اس ملک کی عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنا دی۔۔۔ میں نے آج اس کا چہرہ دیکھا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں وہی پرانی بغاوت۔۔ چلی کے انقلابی شاعر پابلو نرودا نے کہا تھا
وه بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں پیدا ہوئی۔ اس نے بچپن سے ہی بندوقوں کی گھن گرج سنی اور راستوں پر خون سے رنگے ہوئے لاشے دیکھے۔ خون سے بھیگی ہوئی پتھریلی زمین پر پلتے ہوئے جیسے ہی وہ جوان ہوئی تو اس کے والد کو اٹھا کر غائب کر دیا گیا، صرف اس جرم میں کہ وہ قوموں کے اس قیدخانے میں آزادی کی بات کر رہا تھا۔ وہ ایک دفعہ واپس آیا اور جب دوسری بار اٹھایا گیا تو اس کی گولیوں سے چھلنی لاش دی گئی۔ اس نے اپنی بھرپور جوانی میں اپنے باپ کی گولیوں سے پرن ہوئی لاش دیکھی۔ اس کی آنکھوں میں ہلکے آنسو اور گہری بغاوت اتر آئی۔ وہ قلات کے لمبے پہاڑ چھوڑ کر اپنی پانچ بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ کراچی آ گئی۔ بلوچستان پر جبر کی کالی رات جاری رہی اور دھرتی کے سینے سے پھوٹ نکلے گلاب جیسے نوجوان وطن کے لیے لڑتے رہے۔ آخر ایک دن اس کے اکلوتے بھائی کو اٹھا لیا گیا۔ جب اپنوں کا اکلوتا بھائی اٹھ گیا تو اس نے برقع اتار پھینکا اور باغی آنکھوں سے سفاک ریاست سے لڑنے کے لیے میدان میں اتر آئی۔۔ بلوچی لباس میں نظریاتی نگاہ سے تقریر کرنے والی ماہ رنگ بلوچ۔۔ بلوچستان کی سیاست میں ایک انقلابی نعرے کی طرح گونجنے لگی۔۔ اس نے ایک بڑا مارچ کیا جو بلوچستان کے روایتی نوابوں، سرداروں اور میروں کی رنگ برنگی پگڑیوں کو للکارتا، مظلوم قوموں پر ظلم کی کالی رات مسلط کرنے والوں کے دل پر مونگ دلتا، ملک بھر کے محکوموں کے لیے حوصلے کی علامت بن کر جوں جوں آگے بڑھتا گیا، سفاک قوتوں کا خوف بڑھتا گیا۔ وہ عوام کے ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہوتی گئی تو انہوں نے ریاستی عدالت میں لا کر مجرم بنانے کی کوششیں کیں۔ اس نے عدالت کی ہر تاریخ پر اپنے ہونٹوں پر انقلابی مسکراہٹ لا کر نئی تاریخ لکھ دی۔ آخر آج اس ملک کی عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنا دی۔۔۔ میں نے آج اس کا چہرہ دیکھا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں وہی پرانی بغاوت۔۔ چلی کے انقلابی شاعر پابلو نرودا نے کہا تھا "تم گلابوں کو قتل کر سکتے ہو مگر بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے" میں کہتا ہوں تم ماہ رنگ کو عمر قید کی سزا سنا کر بلوچوں کی آواز بننے سے روک سکتے ہو مگر ماہ رنگ نے جو بلوچستان کے پہاڑوں میں بغاوت کی آگ جلائی ہے اسے تم کبھی ختم نہیں کر سکتے۔ ماہ رنگ بلوچ تمہارا یہ مزاحمتی رنگ ہماری رگوں میں حوصلہ بن کر گردش کرتا رہے گا. کبير بهيل

About