@mahesh.kumar6958: ایک عاشقِ حسینؑ کے لیے دنیا کی سب سے پرسکون اور معتبر موت وہی ہے جو غمِ آلِ محمدؐ میں آئے۔ جب کوئی مومن یہ تمنا کرتا ہے کہ "مصائبِ علی اکبرؑ پہ میرا دم نکل جائے"، تو وہ دراصل اس تڑپ کا اظہار کر رہا ہوتا ہے جو اٹھارہ سال کے کڑیل جوان کی مظلومیت کو سن کر اس کے دل میں برپا ہوتی ہے۔ کربلا کے مقتل میں جب علی اکبرؑ کے سینے پر نیزے کی انی لگی اور انہوں نے تڑپ کر زمین پر گرتے ہوئے اپنے بابا کو الوداع کہا، تو وہ منظر اتنا سنگین تھا کہ امام حسینؑ کے پیروں سے طاقت چلی گئی اور وہ گھٹنوں کے بل اپنے جوان بیٹے کی لاش تک پہنچے۔ ایک عزادار کا یہ چاہنا کہ وہ اسی مصیبت کو سنتے یا روتے ہوئے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دے، اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں اس جوان کی شہادت کا درد اس کی اپنی زندگی سے کہیں زیادہ قیمتی ہو چکا ہے۔ یہ دعا دراصل بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بارگاہ میں سرخروئی کا ایک ذریعہ ہے، جہاں ایک محب اپنے آخری سانسوں کا نذرانہ بھی زہراؑ کے لال کی مظلومیت پر نچھاور کرنا چاہتا ہے۔ #fyp #foryou #foryoupage #viral #trending