@nurik007.kg: #т-40 #жалалабад

Нурик
Нурик
Open In TikTok:
Region: AT
Saturday 20 June 2026 18:29:33 GMT
25572
928
11
53

Music

Download

Comments

iso99_
Edikov_17 :
2026-07-10 19:11:11
1
user8541734709779
Петр :
как новый😁👍
2026-07-11 18:08:24
1
atabey_4665
Atabey_777 :
😍
2026-07-12 14:58:52
0
zaman_920
user9417952434388 :
на какой скорости косите
2026-07-12 17:09:23
0
karom_jon_16
Бача. берахмеш ха ха😀 :
2026-07-11 15:50:29
1
user7258104881691
Ж... :
а нахуя колёса растопыривать, при сенокосе?🤔
2026-07-12 03:10:37
0
ilassabyrov
лесбек Сабиров :
💀💀💀☠️☠️☠️
2026-07-11 11:43:12
1
2007_30_04
09_Kurmanakunov :
🔥🔥🔥
2026-07-04 13:23:22
1
doniyorbek.uzganb
Doniyorbek Uzganboev :
👍👍👍👍👍
2026-07-11 08:26:01
1
To see more videos from user @nurik007.kg, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

1. کفن کے لیے پیسے نہیں تھے (حقیقی رقت آمیز کہانی) سلطان صلاح الدین ایوبی تاریخ کے ایسے عظیم حکمران تھے جنہوں نے مصر، شام اور حجاز پر حکومت کی اور بیت المقدس (یروشلم) کو فتح کیا۔ لیکن جب 1193ء میں دمشق میں ان کا انتقال ہوا، تو ان کے ذاتی خزانے میں اتنی دولت بھی نہیں تھی جس سے ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جا سکے! انہوں نے اپنی تمام دولت سلطنت کے کاموں، غریبوں، اور جہاد میں بانٹ دی تھی۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ ان کے ترکے میں صرف ایک سونے کا سکہ (دینار) اور 47 چاندی کے سکے (درہم) ملے۔ ان کے کفن کا کپڑا اور دفنانے کے اخراجات ان کے ایک وزیر نے اپنی جیب سے ادا کیے تھے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کے نام سے یورپ کے بڑے بڑے سلاطین کانپتے تھے، وہ دنیا سے رخصت ہوا تو اس کے پاس اپنا کفن خریدنے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ 2. مزار پر تلوار اور فرانسیسی جنرل کا واقعہ اگر ہم مزار کے حوالے سے کسی سچی اور مشہور کہانی کا ذکر کریں، تو وہ 600 سال بعد قبر کھولنے کی نہیں، بلکہ تقریباً 700 سال بعد پہلی جنگِ عظیم (World War I) کے وقت کا ایک حقیقی واقعہ ہے: جب جولائی 1920ء میں فرانسیسی فوج نے شام پر قبضہ کیا، تو ان کا جنرل ہنری گورو (Henri Gouraud) دمشق میں داخل ہوا۔ وہ سیدھا سلطان صلاح الدین ایوبی کے مزار پر گیا۔ تاریخ کے مطابق، اس نے سلطان کی قبر پر لات ماری یا پیر رکھا اور انتہائی تکبر سے کہا:
1. کفن کے لیے پیسے نہیں تھے (حقیقی رقت آمیز کہانی) سلطان صلاح الدین ایوبی تاریخ کے ایسے عظیم حکمران تھے جنہوں نے مصر، شام اور حجاز پر حکومت کی اور بیت المقدس (یروشلم) کو فتح کیا۔ لیکن جب 1193ء میں دمشق میں ان کا انتقال ہوا، تو ان کے ذاتی خزانے میں اتنی دولت بھی نہیں تھی جس سے ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جا سکے! انہوں نے اپنی تمام دولت سلطنت کے کاموں، غریبوں، اور جہاد میں بانٹ دی تھی۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ ان کے ترکے میں صرف ایک سونے کا سکہ (دینار) اور 47 چاندی کے سکے (درہم) ملے۔ ان کے کفن کا کپڑا اور دفنانے کے اخراجات ان کے ایک وزیر نے اپنی جیب سے ادا کیے تھے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کے نام سے یورپ کے بڑے بڑے سلاطین کانپتے تھے، وہ دنیا سے رخصت ہوا تو اس کے پاس اپنا کفن خریدنے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ 2. مزار پر تلوار اور فرانسیسی جنرل کا واقعہ اگر ہم مزار کے حوالے سے کسی سچی اور مشہور کہانی کا ذکر کریں، تو وہ 600 سال بعد قبر کھولنے کی نہیں، بلکہ تقریباً 700 سال بعد پہلی جنگِ عظیم (World War I) کے وقت کا ایک حقیقی واقعہ ہے: جب جولائی 1920ء میں فرانسیسی فوج نے شام پر قبضہ کیا، تو ان کا جنرل ہنری گورو (Henri Gouraud) دمشق میں داخل ہوا۔ وہ سیدھا سلطان صلاح الدین ایوبی کے مزار پر گیا۔ تاریخ کے مطابق، اس نے سلطان کی قبر پر لات ماری یا پیر رکھا اور انتہائی تکبر سے کہا: "صلاح الدین! اٹھو اور دیکھو، ہم واپس آ گئے ہیں۔ اب یہاں صلیب کی فتح ہو چکی ہے اور ہلال (اسلام) ہار چکا ہے۔"یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وفات کے صدیوں بعد بھی یورپی جرنیلوں کے دلوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا کتنا خوف اور رشک موجود تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کی عظمت کسی مزار کے کھلنے یا کرشمے کی محتاج نہیں، بلکہ ان کا اصل کرشمہ ان کا وہ اخلاق اور انصاف تھا جس کی تعریف ان کے دشمن (جیسے انگلینڈ کا بادشاہ رچرڈ) بھی کرنے پر مجبور تھے۔#creatorsearchinsights #monitizationviews #unfreezemyacount #sultansalahuddinayyubi #islamic @⚔️HASHIM⚔️ @🌸عالیہ but🌸 @⚔️S..K.. CHILASI3️⃣1️⃣0️⃣🦅 @hina

About