@healinggospelworship: Lord, Carry What I Cannot Hold Today” is a deep healing Gospel prayer worship song for heavy hearts, anxiety, emotional burdens, family worries, and morning surrender. Let God carry what is too heavy for you. #HealingGospelWorship #MorningPrayer #HealingPrayer #GospelWorship #EmotionalWorship #ChristianMusic #PrayerMusic #Jesus #BurdenRelease #DeepWorship

Healing Gospel Worship
Healing Gospel Worship
Open In TikTok:
Region: DE
Sunday 21 June 2026 05:00:00 GMT
1661
66
5
32

Music

Download

Comments

hellenndunyu
Hellen Ndunyu :
Amen
2026-06-24 06:27:33
1
michealbock515
Micheal Bock :
🙏🙏🙏🙏🙏🙏
2026-06-27 17:51:56
0
063kagostarshine
063Kagostarshine@. :
🙏🙏🙏💔💔💔💔
2026-06-21 06:29:12
1
my.name.is6759
my name ladybird :
🙏🙏🙏
2026-06-21 05:50:05
1
roseprins01
rose prins :
🥰😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭
2026-06-21 05:41:45
2
To see more videos from user @healinggospelworship, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے ایک گاؤں کرنل شیر کلی میں 1 جنوری 1970 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1999 میں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پاک فوج کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا۔ کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنی بہادری اور جرات سے دشمن کو دندان شکن جواب دیا۔ انہوں نے ٹائیگر ہل کی چوٹی پر قبضہ کیا اور دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنایا۔ 5 جولائی 1999 کو وہ شہادت کے مقام پر فائز ہوئے، لیکن ان کی بہادری کا اعتراف دشمن نے بھی کیا۔ بھارتی کمانڈر نے ان کے جسد خاکی کے ساتھ ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا کہ ایسے سپاہی کو بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا جانا چاہیے ¹ ² ³۔ کیپٹن کرنل شیر خان کی شہادت کے بعد انہیں نشانِ حیدر سے نوازا گیا، جو پاکستان کا اعلی ترین فوجی اعزاز ہے۔ انہیں
کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے ایک گاؤں کرنل شیر کلی میں 1 جنوری 1970 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1999 میں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پاک فوج کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا۔ کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنی بہادری اور جرات سے دشمن کو دندان شکن جواب دیا۔ انہوں نے ٹائیگر ہل کی چوٹی پر قبضہ کیا اور دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنایا۔ 5 جولائی 1999 کو وہ شہادت کے مقام پر فائز ہوئے، لیکن ان کی بہادری کا اعتراف دشمن نے بھی کیا۔ بھارتی کمانڈر نے ان کے جسد خاکی کے ساتھ ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا کہ ایسے سپاہی کو بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا جانا چاہیے ¹ ² ³۔ کیپٹن کرنل شیر خان کی شہادت کے بعد انہیں نشانِ حیدر سے نوازا گیا، جو پاکستان کا اعلی ترین فوجی اعزاز ہے۔ انہیں "شیرِ کارگل" کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ⁴ ⁵۔ کیپٹن کرنل شیر خان کی بہادری اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ ایک سچے سپاہی تھے جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ *کیپٹن کرنل شیر خان کے بارے میں اور کیا جاننا چاہتے ہیں؟*#captain#kernalsher#khan#swabi#kargal

About