@bazm.faqeer: ملا کی نظر وہاں پڑتی ہے جہاں سے توڑا جا سکتا ہے، اور صوفی کی نظر وہاں جہاں سے جوڑا جا سکتا ہے—یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ دو راستوں کی کہانی ہے۔ صوفی کہتا ہے کہ انسان کو توڑنا آسان ہے، مگر جوڑنا اللہ والوں کا کام ہے۔ اسی لیے قرآن میں ارشاد ہے: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ" (الحجرات: 10) یعنی مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ بھائی کو توڑا نہیں جاتا، اسے جوڑا جاتا ہے، اس کی اصلاح کی جاتی ہے، اس پر رحم کیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا طریقہ بھی یہی تھا۔ جب لوگ خطا کرتے، آپ ﷺ انہیں دھتکارنے کے بجائے نرمی سے سمجھاتے۔ ایک بدو نے مسجد میں بے ادبی کی، مگر آپ ﷺ نے اسے مارنے سے روکا اور حکمت سے سمجھایا—یہی صوفیانہ نظر ہے، جوڑنے والی، نہ کہ توڑنے والی۔ صوفیاء فرماتے ہیں: "دل بدست آور کہ حج اکبر است" یعنی کسی کا دل جیت لینا سب سے بڑی عبادت ہے۔ کیونکہ کعبہ تو پتھروں کا گھر ہے، مگر دل رب کی تجلی کا مقام ہے۔ ملا کا علم اگر سختی پیدا کرے تو فاصلے بڑھتے ہیں، مگر صوفی کا علم محبت بن کر دلوں کو قریب کر دیتا ہے۔ قرآن ہی میں ہے: "وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا" (البقرہ: 83) لوگوں سے بھلی بات کہو—یہ حکم توڑنے کا نہیں، جوڑنے کا ہے۔ اصل صوفی وہ ہے جو ہر ٹوٹے ہوئے دل میں خدا کی جھلک دیکھے، ہر گناہگار میں اصلاح کی امید رکھے، اور ہر فاصلے کو محبت سے مٹا دے۔ کیونکہ آخرکار— اللہ کی راہ وہی ہے جو بندوں کو جوڑ دے، اور جو دلوں کو توڑے، وہ راستہ نہیں، آزمائش ہے۔ #sufism #sufilines #goviral #unfreezemyaccount #creatorsearchinsight