@zavi0890: آ ج کے زمانے میں رشتوں کی حقیقت بھی عجیب ہو گئی ہے۔ لوگ الفاظ تو سنتے ہیں، مگر احساس نہیں سمجھتے۔ خاموشی کو غرور سمجھ لیا جاتا ہے اور سچائی کو بدتمیزی۔ کچھ باتیں اگر خاموشی سے سن لی جائیں تو دل قریب ہو جاتے ہیں، اور وہی بات اگر غصے میں سنا دی جائے تو فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ رشتے دلیل سے نہیں، برداشت سے چلتے ہیں۔ جہاں لہجہ سخت ہو جائے وہاں محبت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ اس لیے ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، کچھ رشتے صرف صبر، احترام اور خاموشی مانگتے ہیں۔ آج لوگ معافی مانگنے سے زیادہ رشتہ ختم کرنا آسان سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایک خوبصورت تعلق کو بچانے کے لیے صرف تھوڑا سا جھک جانا کافی ہوتا ہے۔ یاد رکھو… “سن لینے والے رشتے بچا لیتے ہیں، اور سنا دینے والے اکثر اکیلے رہ جاتے ہیں۔”foryoupage❤️❤️