@_shopgiaydepxinh_: Dép cao gót mũi nhọn quai đính đá lên chân cực xing #depcaogot #depmuinhon #depnuthoitrang #xuhuong #viral

_shopgiaydepxinh_
_shopgiaydepxinh_
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 21 June 2026 05:33:51 GMT
983
4
3
0

Music

Download

Comments

_shopgiaydepxinh_
_shopgiaydepxinh_ :
😁😁😁
2026-06-21 05:34:07
0
_shopgiaydepxinh_
_shopgiaydepxinh_ :
🥰🥰🥰
2026-06-21 05:34:06
0
_shopgiaydepxinh_
_shopgiaydepxinh_ :
😂😂😂
2026-06-21 05:34:08
0
To see more videos from user @_shopgiaydepxinh_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مدین کی سڑکوں پر پہلی بار خواتین کا سیلاب، 9 سالہ اشمل کے لیے انصاف کی آواز بلند مدین میں 9 سالہ بچی اشمل کے مبینہ زیادتی کے بعد قتل نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اتنا دلخراش واقعہ کہ احتجاج صرف چند افراد تک محدود نہ رہا، بلکہ مدین کی خواتین بھی پہلی بار بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں اور انصاف کا مطالبہ کردیا۔  واقعہ اپر سوات کے علاقے مدین کے کوز کلے میں پیش آیا، جہاں پولیس کے مطابق 9 سالہ اشمل کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سلطان محمد نامی شخص کو گرفتار کیا اور مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کیا۔ پولیس کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے۔  رپورٹس کے مطابق بچی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مبینہ طور پر پڑوسی کے گھر گئی تھی۔ فائرنگ اور چیخ و پکار سننے کے بعد اہل خانہ وہاں پہنچے، تاہم بچی جانبر نہ ہوسکی۔ پولیس کے مطابق طبی معائنے اور پوسٹ مارٹم میں جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔  اشمل دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ خاندان کے مطابق اس کے والد پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔ ایک ایسی بچی جس کے ہاتھ میں کتابیں ہونی چاہییں تھیں، اس کا نام اب مدین کی گلیوں میں انصاف کے مطالبے کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔  واقعے کے خلاف مدین میں احتجاج ہوا تو اس میں شہریوں، سول سوسائٹی، سماجی تنظیموں اور وکلا کے ساتھ خواتین بھی سڑکوں پر نکل آئیں۔ مظاہرین نے مینگورہ، مدین، کالام روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک بھی روک دی اور مطالبہ کیا کہ گرفتار ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔  خواتین کے احتجاج نے اس واقعے کو ایک نئے زاویے سے سامنے رکھا۔ مدین میں پہلی بار خواتین کا اس انداز میں سڑکوں پر آنا صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ اس خوف اور غصے کا اظہار بھی تھا جو ایک معصوم بچی کے قتل کے بعد پورے معاشرے میں پیدا ہوا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ تحقیقات شفاف ہوں، مقدمہ جلد منطقی انجام تک پہنچے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔  ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم گرفتار ہوچکا ہے اور شواہد کی بنیاد پر مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ احتجاج کے دوران ایس پی انویسٹی گیشن سوات شوکت علی خان نے مظاہرین سے ملاقات کرکے یقین دہانی کرائی کہ قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ملزم کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔  یوں اشمل کے لیے اٹھنے والی آواز اب صرف اس کے خاندان کی آواز نہیں رہی۔ مدین کی خواتین اور شہری ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: ایک معصوم بچی کے ساتھ ایسا ظلم دوبارہ نہ ہو، اس کے لیے قانون اور ریاست کب ایسا نظام یقینی بنائیں گے جہاں بچوں کی حفاظت صرف وعدہ نہیں بلکہ حقیقت ہو؟ Disclaimer: اس اسٹوری میں شامل معلومات فراہم کردہ مواد اور دستیاب ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ بعض الزامات اور زیرِ تفتیش معاملات کا حتمی تعین عدالت اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے ذریعے ہونا باقی ہے؛ یہ مواد عوامی معلومات، آگاہی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہے اور غیر مصدقہ دعووں کی حتمی توثیق کا دعویٰ نہیں کرتا۔ English Title: Women Take to the Streets in Madyan for Justice for 9-Year-Old Eshmal #Madyan #Swat #Eshmal #JusticeForEshmal #amirkamoka
مدین کی سڑکوں پر پہلی بار خواتین کا سیلاب، 9 سالہ اشمل کے لیے انصاف کی آواز بلند مدین میں 9 سالہ بچی اشمل کے مبینہ زیادتی کے بعد قتل نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اتنا دلخراش واقعہ کہ احتجاج صرف چند افراد تک محدود نہ رہا، بلکہ مدین کی خواتین بھی پہلی بار بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں اور انصاف کا مطالبہ کردیا۔ واقعہ اپر سوات کے علاقے مدین کے کوز کلے میں پیش آیا، جہاں پولیس کے مطابق 9 سالہ اشمل کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سلطان محمد نامی شخص کو گرفتار کیا اور مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کیا۔ پولیس کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق بچی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مبینہ طور پر پڑوسی کے گھر گئی تھی۔ فائرنگ اور چیخ و پکار سننے کے بعد اہل خانہ وہاں پہنچے، تاہم بچی جانبر نہ ہوسکی۔ پولیس کے مطابق طبی معائنے اور پوسٹ مارٹم میں جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ اشمل دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ خاندان کے مطابق اس کے والد پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔ ایک ایسی بچی جس کے ہاتھ میں کتابیں ہونی چاہییں تھیں، اس کا نام اب مدین کی گلیوں میں انصاف کے مطالبے کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ واقعے کے خلاف مدین میں احتجاج ہوا تو اس میں شہریوں، سول سوسائٹی، سماجی تنظیموں اور وکلا کے ساتھ خواتین بھی سڑکوں پر نکل آئیں۔ مظاہرین نے مینگورہ، مدین، کالام روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک بھی روک دی اور مطالبہ کیا کہ گرفتار ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ خواتین کے احتجاج نے اس واقعے کو ایک نئے زاویے سے سامنے رکھا۔ مدین میں پہلی بار خواتین کا اس انداز میں سڑکوں پر آنا صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ اس خوف اور غصے کا اظہار بھی تھا جو ایک معصوم بچی کے قتل کے بعد پورے معاشرے میں پیدا ہوا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ تحقیقات شفاف ہوں، مقدمہ جلد منطقی انجام تک پہنچے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم گرفتار ہوچکا ہے اور شواہد کی بنیاد پر مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ احتجاج کے دوران ایس پی انویسٹی گیشن سوات شوکت علی خان نے مظاہرین سے ملاقات کرکے یقین دہانی کرائی کہ قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ملزم کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ یوں اشمل کے لیے اٹھنے والی آواز اب صرف اس کے خاندان کی آواز نہیں رہی۔ مدین کی خواتین اور شہری ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: ایک معصوم بچی کے ساتھ ایسا ظلم دوبارہ نہ ہو، اس کے لیے قانون اور ریاست کب ایسا نظام یقینی بنائیں گے جہاں بچوں کی حفاظت صرف وعدہ نہیں بلکہ حقیقت ہو؟ Disclaimer: اس اسٹوری میں شامل معلومات فراہم کردہ مواد اور دستیاب ذرائع کی بنیاد پر پیش کی گئی ہیں۔ بعض الزامات اور زیرِ تفتیش معاملات کا حتمی تعین عدالت اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے ذریعے ہونا باقی ہے؛ یہ مواد عوامی معلومات، آگاہی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہے اور غیر مصدقہ دعووں کی حتمی توثیق کا دعویٰ نہیں کرتا۔ English Title: Women Take to the Streets in Madyan for Justice for 9-Year-Old Eshmal #Madyan #Swat #Eshmal #JusticeForEshmal #amirkamoka

About