@kesyangan.netizen: Omaaak 🥰 @da7_tasyaallesia #fyp #tasyada7

Kesayangan Netizen
Kesayangan Netizen
Open In TikTok:
Region: ID
Sunday 21 June 2026 07:43:11 GMT
22637
1652
23
12

Music

Download

Comments

heheakunkedua
karcisss🦑 :
woy indosiar gw mau resya part 4😫🫵
2026-06-21 08:44:36
23
senjja538
senjja :
MasyaAllah kesayanganku si cantik l🤩🤩🤩🤩🤩
2026-06-21 07:48:21
2
loveresya_lovetasyada7
♥️tasyaDA7 :
premium q 🥰
2026-06-21 08:42:05
0
nurrrrrrr_13
choco_oreo :
Asekkkkk💃💃💃💃💃💃
2026-06-21 08:40:48
0
khansacraft.com
Khansacraft.com :
saya suka vt2 nya min cerah
2026-06-21 11:39:28
0
rikuuuu80
rikuuku :
pertama
2026-06-21 07:45:11
1
tasyaluv49
biduan_kpop :
22 23 yukk nonton lagi min😁😁
2026-06-21 09:04:39
2
sukatasya1
Tangan nya Resya 🤏 :
min maaf mau tanya emang tgl 22 ada resya? 🙏
2026-06-21 07:51:02
1
mirah5530
yoonmi :
suka banget pas Taca pake baju ini cakep banget 🥰
2026-06-21 11:47:36
1
giya4010
Endriy :
🥰🥰🥰
2026-06-24 04:56:58
0
agussunarko_
GUS NARKO :
@da7_tasyaallesia cantik pool🥰
2026-06-21 11:48:32
0
zaenalzen232
AYAH ZEN :
🥰🥰🥰
2026-06-21 10:02:40
0
shofi_faiz1
٪ :
😭
2026-07-03 02:04:35
0
To see more videos from user @kesyangan.netizen, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حاجی ایوب سعودی شاہی محل میں سناٹا چھا گیا ... جب کراچی کے ایک غریب جلاہے نے کروڑوں ریال کا بلینک چیک ٹھکرا کر ایک ایسی شرط رکھ دی جس نے خود سعودی حکام کی آنکھیں بھی نم کر دیں یہ ناقابل یقین اور ایمان افروز کہانی 82 سالہ حاجی ایوب کی ہے، جو قیام پاکستان کے وقت ہجرت کر کے کراچی بنارس ٹاؤن آئے تھے۔ 1980 میں سعودی حکومت نے خانہ کعبہ کے اندرونی غلاف کے لیے دنیا بھر سے ماہر ترین کاریگروں کو بلوایا۔ 40 نامور کاریگروں کے درمیان جس شخص کے ہاتھ کے بنے ڈیزائن کو چنا گیا... وہ کراچی کا یہی غريب بنارسی کاریگر تھا میں جب غلاف تیار ہو گیا تو سعودی حکام نے حاجی 1982 ایوب کو خصوصی شاہی مہمان بنا کر بلایا اور انہیں ان کی محنت کے بدلے منہ مانگے مالی معاوضے کی پیشکش کی۔ لیکن حاجی ایوب نے ہاتھ جوڑ کر کہا:
حاجی ایوب سعودی شاہی محل میں سناٹا چھا گیا ... جب کراچی کے ایک غریب جلاہے نے کروڑوں ریال کا بلینک چیک ٹھکرا کر ایک ایسی شرط رکھ دی جس نے خود سعودی حکام کی آنکھیں بھی نم کر دیں یہ ناقابل یقین اور ایمان افروز کہانی 82 سالہ حاجی ایوب کی ہے، جو قیام پاکستان کے وقت ہجرت کر کے کراچی بنارس ٹاؤن آئے تھے۔ 1980 میں سعودی حکومت نے خانہ کعبہ کے اندرونی غلاف کے لیے دنیا بھر سے ماہر ترین کاریگروں کو بلوایا۔ 40 نامور کاریگروں کے درمیان جس شخص کے ہاتھ کے بنے ڈیزائن کو چنا گیا... وہ کراچی کا یہی غريب بنارسی کاریگر تھا میں جب غلاف تیار ہو گیا تو سعودی حکام نے حاجی 1982 ایوب کو خصوصی شاہی مہمان بنا کر بلایا اور انہیں ان کی محنت کے بدلے منہ مانگے مالی معاوضے کی پیشکش کی۔ لیکن حاجی ایوب نے ہاتھ جوڑ کر کہا: "مجھے آپ کے ریال نہیں چاہییں... اگر دینا ہی ہے تو مجھے اپنے گنہگار ہاتھوں سے "! خانہ کعبہ کے اندر غلاف چڑھانے کی اجازت دے دیں ان کی یہ سچی تڑپ دیکھ کر حکام نے فوراً اجازت دے دی۔ جب حاجی ایوب خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے تو ہیبت اور جلال سے ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ کہتے ہیں کہ جب وہ پرانا غلاف اتار کر نیا نصب کر رہے تھے، تو کعبے کے اندر کی تیز خوشبو اور ان کے آنسوؤں کی جھڑی نے نئے غلاف کے ریشم کو بھگو دیا تھا جس کعبے کے اندر جانے کو دنیا کے طاقتور ترین بادشاہ ترستی ہیں، وہاں کراچی کے ایک غریب کاریگر نے سجدہ ریز ہو کر وہ مقام پایا جو صرف نصیب والوں کو ملتا ہے۔ بے شک وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، وہ جسے چاہے اپنے در کا بنا لے

About