@zeeshan_kamal12: ہفتہ پہلے کی بات ہے جب شہید شعیب کی ضعیف ماں کو علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا۔ وہیل چیئر پر بیٹھی، خاموش اور بے بس۔ شعیب کا بوڑھا باپ بھی ساتھ تھا، آنکھوں میں تھکن اور دل میں درد لیے۔ گزشتہ تین سالوں سے ماں نہ بول سکتی ہے، نہ چل سکتی ہے۔ اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ گردے بھی جواب دینے لگے ہیں اور ڈاکٹرز نے باقاعدہ ڈائیلاسز کا مشورہ دیا ہے… 😭 اصل دکھ تو یہ ہے کہ جب میں نے بوڑھے باپ سے کہا کہ بابا جی، علاج کروائیں، شاید کچھ بہتری آ جائے… تو وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر لرزتی آواز میں بولا: “بیٹا… شعیب نے جاتے وقت کہا تھا کہ اگر ممکن ہو تو امی کو زیادہ تکلیف نہ دینا… میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ وہ ایک بار اپنے بیٹے کو دیکھ لے… چاہے زندگی میں نہیں، آخری ملاقات ہو جائے…” 💔 یہ الفاظ نہیں تھے… جیسے کوئی ٹوٹا ہوا دل بول رہا ہو۔ اور پھر وہ لمحہ… جب خاموشی میں ہسپتال کی دیواریں بھی اداس لگنے لگیں۔ ماں، جو کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی، صرف آنکھوں سے بیٹے کو یاد کر رہی تھی… 😭 شعیب کو نہیں معلوم تھا کہ جس ماں کو وہ ملنے کی دعا کرتا رہا، وہی ماں اس کی قبر پر بھی بے زبان کھڑی ہو گی… ظلم کی انتہا یہ ہے کہ محبتیں ادھوری رہ گئیں، ملاقاتیں صرف دعا میں رہ گئیں… 💔 اللہ شہید شعیب کے درجات بلند فرمائے، ان کی والدہ کو شفا دے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین 🤲