@sarmad.sagheer1: مجھے تم ہمیشہ اپنی کہانی میں برا انسان لکھنا تاکہ تمہیں اپنے فیصلوں پر شرمندگی نہ ہو۔ میرے حصے کی سچائیاں تم رکھ لینا اور میرے حصے کی غلطیاں مجھے دے دینا۔ میں الزام بن جاؤں گا تمہاری یادوں میں بس تم خود کو بے قصور سمجھ کر جینا۔ کہانیوں میں کردار بدل جاتے ہیں مگر نیتیں خدا کے ہاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر میں برا تھا تمہاری نظر میں تو ٹھیک ہے۔ مگر میں نے جو چاہا تھا، وہ برا نہیں تھا۔ ہم نے کبھی جواب میں پتھر نہیں اُٹھائے، کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ہماری ہتھیلیاں صرف زخم سہنے کے لیے بنی ہیں۔ ہم نے ہر وار کو دل پر لیا ہر بے قدری کو خاموشی میں سمیٹا اور آخرکار وہی ہوا جو مقدر تھا ہم ٹوٹ گئے، بکھر گئے، مگر شکوہ زبان تک نہ آیا۔ کچھ لوگ لڑنا جانتے ہیں اور کچھ صرف سہنا ... اور جو صرف سہنا جانتے ہوں، وہی سب سے زیادہ گہرے زخم لے کر جیتے ہیں۔۔۔۔