@fai_z_an: تاریخی کتب (جیسے مقاتل الطالبیین) میں درج ہے کہ جب حضرت علی اکبرؑ میدانِ جنگ میں جانے لگے، تو امام حسین علیہ السلام نے آسمان کی طرف رخ کر کے فرمایا تھا:"اے اللہ! تو گواہ رہنا، اس قوم کی طرف وہ جوان جا رہا ہے جو خلقت، اخلاق اور گفتگو میں تیرے رسول ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ جب بھی ہمیں اپنے نبی کی زیارت کا اشتیاق ہوتا، ہم اس کے چہرے کو دیکھ لیا کرتے. جب وہ میدان میں آئے تو یزیدی فوج کے لوگ بھی دنگ رہ گئے، کیونکہ بہت سے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہوا تھا اور آپؑ بالکل اپنے نانا جیسے لگتے تھے، شمر ملعون فوج کو اکسا رہا تھا، حضرت علی اکبرؑ پر قاتلانہ اور فیصلہ کن حملہ کرنے والا شخص مرہ بن منقذ عبدی تھا۔ حضرت علی اکبرؑ نے پیاس کی شدت کے باوجود دشمن کے صفوں کو الٹ دیا۔ جب وہ نڈھال ہوئے تو مرہ بن منقذ ملعون نے کہا: "عرب کے گناہ مجھ پر ہوں اگر یہ جوان میرے پاس سے گزرے اور میں اس کے باپ کو اس کے غم میں نہ رلا دوں!" اس نے شہزادے کے سر مبارک پر تلوار کا ایسا شدید وار کیا کہ آپؑ گھوڑے کی گردن پر گر گئے۔ گھوڑا آپ کو زخمی حالت میں دشمن کے لشکر کی طرف لے گیا، جہاں سنگدل فوجیوں نے تلواروں اور نیزوں سے آپ کے جسم کو چھلنی کر دیا۔تاریخی کتب (مقاتل الطالبین) میں درج ہے کہ جب حضرت علی اکبرؑ میدانِ جنگ میں جانے لگے، تو امام حسین علیہ السلام نے آسمان کی طرف رخ کر کے فرمایا تھا اے اللہ! تو گواہ رہنا، اس قوم کی طرف وہ جوان جا رہا ہے جو خلقت، اخلاق اور گفتگو میں تیرے رسول ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ جب بھی ہمیں اپنے نبی کی زیارت کا اشتیاق ہوتا، ہم اس کے چہرے کو دیکھ لیا کرتے فیضان