@lancedigital: 🚨 NOVOS DETALHES SOBRE RAPHINHA! Marcio Dolzan e Márcio Iannacca, repórteres do Lance! diretamente dos EUA, trazem todas as informações atualizadas sobre a lesão que Raphinha sofreu contra o Haiti. Confira! 📲🇧🇷 Na Copa, com o Brasil em cada Lance! #Redes5 #LanceInforma #LanceCopa #LanceDigital

Lance!
Lance!
Open In TikTok:
Region: BR
Sunday 21 June 2026 18:26:22 GMT
2124
114
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @lancedigital, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ اسی کی دہائی میں افغانستان کی ایک برفیلی اور خاموش رات تھی جب کنڑ میں سوویت یونین کی سب سے خونخوار ایلیٹ فورس یعنی روسی گوریلوں 'اسپیٹناز' کو ایک خاص مشن سونپا گیا؛ مشن تھا افغان مجاہدین کی شہ رگ یعنی ان کی سپلائی لائن کو کاٹ کر بے ضرر کر کے چن چن کر مارنا، روسی کمانڈوز اپنے جدید  ہتھیاروں اور دنیا کی سخت ترین تربیت کے زعم کے ساتھ پہاڑی دروں میں پیراشوٹوں سے اتر کر  ابھی بمشکل پوزیشن سنبھال رہے تھے کہ اچانک اندھیرے سے  کچھ سائے سنگلاخ پہاڑوں پر نمودار ہوئے ہوں یہ اس احتیاط سے حرکت کر رہے تھے گویا ہوا میں معلق ہوں کوئی آواز نہ پتھر، کنکر لڑھکنے کی آواز... روسی گوریلے ان سایوں کی آمد سے بے خبر اپنے کمانڈر کے  اگلے احکامات کا انتظار کر رہے تھے، ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ انتظار انکی موت پر ختم ہوگا اور یہ موت کا تحفہ افغان مجاہدین کی جانب سے نہیں ہوگا سیاہ رات میں بمشکل دکھائی دینے والے یہ حرکت کرتے سائے ان روسی کمانڈوز کے حصار میں گھس گئے، پوزیشنیں لے لی گئیں اور پھر برفیلی رات کا سکوت گولیوں کی گھن گرج نے توڑ دیا، روسی کمانڈوز کی فورس َ دنیا کی سخت ترین بے رحم فورس سمجھی جاتی ہے ان کی جان لیوا ٹریننگ کو مکمل کرتے کرتے بچ رہنے والوں کی تعداد پانچ سے دس فیصد  ہے باقی ناکام ہوجاتے ہیں،اس سنگدل ٹریننگ کے باوجود وہ پہاڑوں سے اترنے والے سایوں کا مقابلہ نہ کرسکے، یہ شب خون اتنا اچانک اور شدید تھا کہ روسیوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا، جب اگلی صبح سورج طلوع ہوا تو وادی میں موت کی سی خاموشی تھی اور اس خاموشی میں وہاں کے منظر نے روسی جنرلوں کو  ہلا کر رکھ دیا، انہیں بھاری جانی نقصان ہوا تھا لیکن سوال یہ تھا کہ یہ نقصان کس نے پہنچایا کس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا...اس کا جواب ایک روسی میجر کے سینے میں پیوست خنجر سے ملا یہ خنجر عام تھا نہ اس کا استعمال کرنے والا کوئی عام انسان تھا، یہ روایتی فولادی خنجر پاکستان کے ایس ایس جی کمانڈوز کے لئے مخصوص تھا اور اس بات کا اعلان تھا کہ یہاں مقابلہ صرف گولیوں کا نہیں بلکہ دو بدو بھی ہوا ہے، یہیں سے تربیلا کے پاس چراٹ کے گھنے جنگلوں میں بے رحم اور سفاک تربیت کرنے والے کمانڈوز کا نام بلیک اسٹورکس پڑا، اس کے بعد روسی سپاہی ایک عجیب خوف میں مبتلا ہوگئے،حال یہ ہوگیا کہ کہیں میدان گرم ہوتا تو روسی اپنے وائرلیس پر چلاتے ملتے
یہ اسی کی دہائی میں افغانستان کی ایک برفیلی اور خاموش رات تھی جب کنڑ میں سوویت یونین کی سب سے خونخوار ایلیٹ فورس یعنی روسی گوریلوں 'اسپیٹناز' کو ایک خاص مشن سونپا گیا؛ مشن تھا افغان مجاہدین کی شہ رگ یعنی ان کی سپلائی لائن کو کاٹ کر بے ضرر کر کے چن چن کر مارنا، روسی کمانڈوز اپنے جدید ہتھیاروں اور دنیا کی سخت ترین تربیت کے زعم کے ساتھ پہاڑی دروں میں پیراشوٹوں سے اتر کر ابھی بمشکل پوزیشن سنبھال رہے تھے کہ اچانک اندھیرے سے کچھ سائے سنگلاخ پہاڑوں پر نمودار ہوئے ہوں یہ اس احتیاط سے حرکت کر رہے تھے گویا ہوا میں معلق ہوں کوئی آواز نہ پتھر، کنکر لڑھکنے کی آواز... روسی گوریلے ان سایوں کی آمد سے بے خبر اپنے کمانڈر کے اگلے احکامات کا انتظار کر رہے تھے، ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ انتظار انکی موت پر ختم ہوگا اور یہ موت کا تحفہ افغان مجاہدین کی جانب سے نہیں ہوگا سیاہ رات میں بمشکل دکھائی دینے والے یہ حرکت کرتے سائے ان روسی کمانڈوز کے حصار میں گھس گئے، پوزیشنیں لے لی گئیں اور پھر برفیلی رات کا سکوت گولیوں کی گھن گرج نے توڑ دیا، روسی کمانڈوز کی فورس َ دنیا کی سخت ترین بے رحم فورس سمجھی جاتی ہے ان کی جان لیوا ٹریننگ کو مکمل کرتے کرتے بچ رہنے والوں کی تعداد پانچ سے دس فیصد ہے باقی ناکام ہوجاتے ہیں،اس سنگدل ٹریننگ کے باوجود وہ پہاڑوں سے اترنے والے سایوں کا مقابلہ نہ کرسکے، یہ شب خون اتنا اچانک اور شدید تھا کہ روسیوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا، جب اگلی صبح سورج طلوع ہوا تو وادی میں موت کی سی خاموشی تھی اور اس خاموشی میں وہاں کے منظر نے روسی جنرلوں کو ہلا کر رکھ دیا، انہیں بھاری جانی نقصان ہوا تھا لیکن سوال یہ تھا کہ یہ نقصان کس نے پہنچایا کس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا...اس کا جواب ایک روسی میجر کے سینے میں پیوست خنجر سے ملا یہ خنجر عام تھا نہ اس کا استعمال کرنے والا کوئی عام انسان تھا، یہ روایتی فولادی خنجر پاکستان کے ایس ایس جی کمانڈوز کے لئے مخصوص تھا اور اس بات کا اعلان تھا کہ یہاں مقابلہ صرف گولیوں کا نہیں بلکہ دو بدو بھی ہوا ہے، یہیں سے تربیلا کے پاس چراٹ کے گھنے جنگلوں میں بے رحم اور سفاک تربیت کرنے والے کمانڈوز کا نام بلیک اسٹورکس پڑا، اس کے بعد روسی سپاہی ایک عجیب خوف میں مبتلا ہوگئے،حال یہ ہوگیا کہ کہیں میدان گرم ہوتا تو روسی اپنے وائرلیس پر چلاتے ملتے "کالے بگلے آ گئے ہیں.... !" روسی پائلٹوں نے اپنی ڈائریوں میں لکھا کہ پاکستانی کمانڈوز سیاہ وردی میں پیرا شوٹ سے ایسے اترتے تھے جیسے شکاری پرندے اپنے شکار پر جھپٹتے ہیں بگلا اسی طرح چپکے سے بجلی کی سی سرعت سے حملہ کرتا ہے. ​اس ہیبت ناک دنیا کا حصہ بننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں. یہاں بھرتی کا طریقہ کار انتہائی سخت اور اعصاب شکن ہے۔ اس فورس میں براہِ راست کوئی بھرتی نہیں ہوتی، بلکہ پاک فوج کے بہترین جوان اور افسر جو جگرا رکھتے ہیں خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان امیدواروں کو پہلے کئی ہفتوں کے کٹھن جسمانی اور ذہنی ٹیسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے اور عموما اسی فیصد سے زائد جوان رہ جاتے ہیں، جو باقی بچتے ہیں، انہیں چراٹ کے پہاڑوں میں 'ایس ایس جی کورس' کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کے حوصلے ہمت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ یہاں تربیت صرف جسمانی ورزش کا نام نہیں بلکہ یہ ایک انسان کو فولاد میں ڈھالنے کا عمل ہے، جس میں 12 گھنٹوں میں 58 کلومیٹر اور تیس سے چالیس منٹ میں اٹھ کلو میٹر دوڑ بھاری بھرکم سامان کے ساتھ طے کرنا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ ​تربیت کا سب سے خوفناک اور دلچسپ مرحلہ 'سروائیول ٹریننگ' کہلاتا ہے، جہاں کمانڈو کو" دشمن" کے علاقے میں بغیر کسی خوراک اور پانی کے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں زندہ رہنے کے لیے انہیں وہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے جس کا ایک عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بھوک مٹانے کے لیے انہیں جنگلی پودے جڑی بوٹیوں کی پہچان کرائی جاتی ہے، مینڈک اور سانپ پکڑ کر کھانے، جانوروں کا خون پینے اور ان کے ذریعے اپنی توانائی برقرار رکھنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے تاکہ مشن کی تکمیل میں بھوک پیاس کبھی رکاوٹ نہ بنے۔ اسی دوران انہیں دنیا کے جدید ترین اسلحے کے استعمال میں اس قدر ماہر بنایا جاتا ہے کہ وہ اندھیرے میں بھی صرف آواز کی دستک پر دشمن کو نشانہ بنا سکتے ہیں، چاہے وہ اسنائپر رائفل ہو یا ہینڈ گن، ان کا ہر وار حتمی ہوتا ہے ایس ایس جی کی تربیت کا سب سے خفیہ اور مشکل ترین پہلو 'تشدد سہنے کی صلاحیت تربیت' (Resistance to Interrogation) ہے۔

About