@big.nyashi61: single woman Africa #basogaontiktok #bugweremusic #bagisuculture #ugandatiktok #dancechallenge

big nyashi
big nyashi
Open In TikTok:
Region: UG
Sunday 21 June 2026 18:51:04 GMT
4226
150
4
7

Music

Download

Comments

user1817962924434
yasin :
ilove u
2026-06-22 22:34:22
1
fadz0310
Fadz :
❤️❤️❤️❤️❤️
2026-07-01 15:19:28
0
mboizironald
RONNIE Elvis :
🥰🥰🥰
2026-06-21 22:11:44
1
jurrien.edrine
Jurrien edrine :
😁😁😁
2026-06-23 12:12:45
1
To see more videos from user @big.nyashi61, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نقصان پوچھتے ہو ہمارا، ہم خود اپنے ہی دل سے اُتر گئے۔ 💔 ہم نے اپنی ذات کے کئی حصے، کسی کے سکون کی خاطر خاموش کر دیے۔ جہاں اپنی بات کہنی تھی، وہاں تعلق بچانے کے لیے لب سی لیے۔ جہاں حد قائم کرنی تھی، وہاں محبت کے نام پر خود کو بے حد کر دیا۔ ہم دوسروں کے رویّوں میں معنی ڈھونڈتے رہے، اور اپنی خاموشیوں کا مفہوم بھولتے گئے۔ ہر بار کسی کو کھونے کے اندیشے نے، ہمیں اپنی ہی قدر سے دست بردار کر دیا۔ پھر ایک مقام ایسا بھی آیا، جہاں کسی کی بے وفائی سے زیادہ اپنے فیصلے چبھنے لگے۔ ہمیں احساس ہوا کہ زخم صرف وہ نہیں، جو کوئی دوسرا دے جائے؛ کچھ زخم وہ بھی ہوتے ہیں جو انسان خود کو دیتا ہے۔ کسی کے لیے خود کو مسلسل بدلتے رہنا، آخرکار اپنی ہی اصل سے ایک اجنبی ملاقات بن جاتا ہے۔ ہم نے محبت کو نبھانے کی ضد میں، اپنی عزتِ نفس کے کتنے چراغ بجھا دیے، خبر ہی نہ ہوئی۔ اور جب پلٹ کر اپنی طرف دیکھا، تو دل نے ہمیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیا۔ شاید اسی کو کہتے ہیں اصل خسارہ، کہ انسان کسی کے ہاتھوں نہیں، اپنے ہی انتخابوں کے سبب اپنی نظر سے گر جائے۔ اب کسی سے شکوہ نہیں، بس اپنے اندر اُس شخص کو ڈھونڈتے ہیں جو کبھی ہمیں خود سے عزیز ہوا کرتا تھا۔ مگر وہ بھی نہ جانے کس موڑ پر، کسی اور کو خوش رکھنے کی کوشش میں ہم سے بچھڑ گیا۔ 🥀
نقصان پوچھتے ہو ہمارا، ہم خود اپنے ہی دل سے اُتر گئے۔ 💔 ہم نے اپنی ذات کے کئی حصے، کسی کے سکون کی خاطر خاموش کر دیے۔ جہاں اپنی بات کہنی تھی، وہاں تعلق بچانے کے لیے لب سی لیے۔ جہاں حد قائم کرنی تھی، وہاں محبت کے نام پر خود کو بے حد کر دیا۔ ہم دوسروں کے رویّوں میں معنی ڈھونڈتے رہے، اور اپنی خاموشیوں کا مفہوم بھولتے گئے۔ ہر بار کسی کو کھونے کے اندیشے نے، ہمیں اپنی ہی قدر سے دست بردار کر دیا۔ پھر ایک مقام ایسا بھی آیا، جہاں کسی کی بے وفائی سے زیادہ اپنے فیصلے چبھنے لگے۔ ہمیں احساس ہوا کہ زخم صرف وہ نہیں، جو کوئی دوسرا دے جائے؛ کچھ زخم وہ بھی ہوتے ہیں جو انسان خود کو دیتا ہے۔ کسی کے لیے خود کو مسلسل بدلتے رہنا، آخرکار اپنی ہی اصل سے ایک اجنبی ملاقات بن جاتا ہے۔ ہم نے محبت کو نبھانے کی ضد میں، اپنی عزتِ نفس کے کتنے چراغ بجھا دیے، خبر ہی نہ ہوئی۔ اور جب پلٹ کر اپنی طرف دیکھا، تو دل نے ہمیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیا۔ شاید اسی کو کہتے ہیں اصل خسارہ، کہ انسان کسی کے ہاتھوں نہیں، اپنے ہی انتخابوں کے سبب اپنی نظر سے گر جائے۔ اب کسی سے شکوہ نہیں، بس اپنے اندر اُس شخص کو ڈھونڈتے ہیں جو کبھی ہمیں خود سے عزیز ہوا کرتا تھا۔ مگر وہ بھی نہ جانے کس موڑ پر، کسی اور کو خوش رکھنے کی کوشش میں ہم سے بچھڑ گیا۔ 🥀

About