@alaaaaaa120: @assus⭐️ ha gdmi lhomti aaa 😝🫶🏻😂 #tenes #fyp

Alaâ🤎
Alaâ🤎
Open In TikTok:
Region: DZ
Sunday 21 June 2026 22:16:02 GMT
5659
233
7
83

Music

Download

Comments

_farah_kh_
فرح🌀 :
Arwahi 3andi ana khir 😂😂❤️
2026-06-22 17:21:49
1
To see more videos from user @alaaaaaa120, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

POST
POST"96/#viralpoetry🥀🥺 🕊🕊🕊🕊🕊🕊🕊 #MirzaGhalib✨️ #fyp✨️🙌 💫💫💫💫💫💫💫 #deeplinespeotry🥀 صبح بھی اداس تھی شام بھی اداس تھی🥀 کفن میں لپٹی میری محبت کی لاش تھی🕊 ​اے دنیا والوں مجھے وہاں دفن کرنا⚘️ جہاں میری اور اس کی پہلی ملاقات تھی😔 ​۱. تمبید اور پسِ منظر ✍️ ​شاعری انسانی جذبات، احساسات اور اندرونی کیفیات کا وہ خوبصورت اور اثر انگیز اظہار ہے جو نثر کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ انسان جب خوشی، غمی، ہجر، یا وصال کی انتہا کو چھوتا ہے تو اس کے دل سے نکلنے والے الفاظ شاعری کا روپ دھار لیتے ہیں۔ زیرِ نظر شعر اردو ادب کے اس رنگ سے تعلق رکھتا ہے جسے "شاعریِ غم" یا "رومانی المیہ" (Romantic Tragedy) کہا جاتا ہے۔ ​اس شعر کا بنیادی محور محبت کی ناکامی، موت کا تصور، اور ابدی وفاداری ہے۔ شاعر نے محبت کو صرف ایک وقتی جذبہ نہیں مانا، بلکہ اسے ایک زندہ وجود قرار دیا ہے، اور جب وہ جذبہ ٹوٹ جاتا ہے، تو شاعر کو اپنی پوری زندگی ایک متحرک لاش کی مانند دکھائی دینے لگتی ہے۔ اس مضمون میں ہم اس شعر کے دونوں بندوں کا الگ الگ، لفظ بہ لفظ اور گہرائی کے ساتھ جائزہ لیں گے تاکہ اس کے پیچھے چھپے ہوئے درد کی اصل روح تک پہنچا جا سکے۔ ​۲. پہلے بند کی تفصیلی تشریح (Analysis of the First Couplet) ​ملوکیتِ غم اور وقت کا تھم جانا ​"صبح بھی اداس تھی شام بھی اداس تھی"🥂 ​انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے اندرونی ماحول کو بیرونی دنیا کے آئنے میں دیکھتا ہے۔ جب انسان خوش ہوتا ہے تو اسے خزاں کا جھونکا بھی بہار کی مانند لگتا ہے، پرندوں کی چہچہاہٹ میں موسیقی سنائی دیتی ہے اور سورج کی تپش بھی مخملی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جب انسان کا دل اندر سے ٹوٹ چکا ہو، تو کائنات کی خوبصورت ترین چیزیں بھی اسے کاٹنے کو دوڑتی ہیں۔ ​شاعر نے وقت کی دو اہم اکائیوں کا ذکر کیا ہے: صبح اور شام۔ ​صبح کا استعارہ: صبح عام طور پر نئی امید، نئی زندگی، روشنی، اور چہل پہل کی علامت ہوتی ہے۔ انسان سو کر اٹھتا ہے تو ایک نیا عزم لے کر نکلتا ہے۔ لیکن شاعر کہتا ہے کہ اس کی صبح بھی اداس تھی۔ یعنی جب وہ بیدار ہوا، تو زندگی کی روشنی اسے کوئی امید نہ دے سکی۔ ​شام کا استعارہ: شام دن بھر کی تھکن کے بعد سکون، پرندوں کی گھر واپسی اور تنہائی کی علامت ہے۔ عام طور پر شام کے وقت اداسی کا عنصر فطری ہوتا ہے، لیکن یہاں شاعر کی شام کی اداسی عام اداسی نہیں تھی، بلکہ وہ اس کے اندرونی ماتم کا حصہ تھی۔ ​صبح اور شام دونوں کا اداس ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر کے لیے وقت ساکت ہو چکا ہے۔ اب اس کے لیے دن اور رات کی تبدیلی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ غم کی اس شدت نے وقت کے مروجہ اصولوں کو مٹا دیا ہے۔ ​محبت کا قتل اور جنازہ ​"کفن میں لپٹی میری محبت کی لاش تھی"🕊 ​یہ مصرعہ اس شعر کا دل ہے۔ یہاں شاعر نے ایک انتہائی طاقتور استعارہ (Metaphor) استعمال کیا ہے۔ انہوں نے محبت کو ایک "زندہ وجود" مانا تھا، جو سانس لیتی تھی، جو مسکراتی تھی، اور جس کے دم سے شاعر کی اپنی زندگی قائم تھی۔ لیکن اب وہ محبت مر چکی ہے۔

About