@tawanthosaengfc: #คนมีตังค์ โจอี้ ภูวศิษฐ์ & ตูน บอดี้แสลม งานฉลองครบรอบ 88 ปี เอไอเอ ประเทศไทย (AIA Thailand) วันที่ 21 มิถุนายน 2026 ณ อิมแพ็ค อารีน่า เมืองทองธานี คอนเสิร์ตใหญ่สุด Exclusive ในชื่อ "Let It Live – Let it Last – Let it Rock" #โจอี้ภูวศิษฐ์ #ตูนบอดี้สแลม #JOEYPHUWASIT #งานฉลองครบรอบ88ปีเอไอเอ 📷botan.pid

Joey Phuwasit FC2018
Joey Phuwasit FC2018
Open In TikTok:
Region: TH
Monday 22 June 2026 02:01:16 GMT
11374
297
6
39

Music

Download

Comments

noi_kusita
Noi Mshop :
น่ารักม้ากกกกก
2026-06-25 17:00:59
1
ts_zkd
😼 2MIN 🐶 :
โจ้อี้มาไกลมากก จากวันที่ ขึ้นเวทีประกวด ครูดนตรีเสื้อเหลืองวันโน้น🥰
2026-06-25 22:40:14
1
leklek9784
Rungaroon Tawondee :
สนุกมาก
2026-06-22 03:08:30
5
user8565291294596
มนเทียน มิ่งมิตรวัน :
🥰
2026-06-25 00:05:35
1
piruj168
เล่นแผ่นเสียงโจอี้ภูเรากดใจให้ :
🥰🥰🥰🥰🥰
2026-06-22 03:17:26
3
userj9vsmqhds4
ประทุม 999 :
🥰🥰🥰❤️❤️❤️👍👍👍
2026-07-08 09:41:51
2
To see more videos from user @tawanthosaengfc, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#حرم اور حدودِ حرم۔۔ (سفر حجاز کا۔۔ )
#حرم اور حدودِ حرم۔۔ (سفر حجاز کا۔۔ ) " ‎اب ہم بات کریں گے حرم اور حدودِ حرم پہ جو کہ ہم سب کے لیئے نہایت اہم ہے کہ حرم کا علاقہ نہایت بابرکت اور رحمت والا ہوتا ہے لیکن اس رحمت اور برکت کی تقدیس برقرار رکھنے کے لیئے اللہ کی طرف سے کچھ پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں جو کہ دوسری جگہوں پہ نہیں ہیں تبھی اس جگہ کا نام حُرمت والی یعنی " حرم " رکھا گیا ہے۔۔ ‎حرم کی حدود میں گھاس ، پودے اور درخت کاٹنا ، شکار کرنا ، لڑائی جھگڑا کرنا اور کسی بھی جانور کو نقصان پہنچانا منع ہے جب تک کے وہ حملہ نہ کرے اور موذی جانور جیسے سانپ اور بچھو کو مارنا جائز ہے ، کچھ احادیث میں چوہے اور چیل کا بھی ذکر ہے۔۔ ‎اگر حرم میں منع کردہ کسی چیز کی خلاف ورزی ہوجائے تو اس کا ازالہ کرنا ضروری ہے جسے " دَم " کہا جاتا ہے۔۔ ‎یہ " دَم " مختلف خلاف ورزیوں کے مطابق مختلف ہے جیسے حرم کی حد میں بکرا یا دنبہ قربان کرنا ، غلام آزاد کرنا یا بھوکوں کو کھانا کھلانا شامل ہے۔۔ ‎اگر کوئی ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرکے " دَم " نہیں دیتا تو اس پہ اللہ اور فرشتے لعنت کرتے ہیں اور اس کا کوئی بھی عمل اور عبادت قبول نہیں ہوتی۔۔ مکہ کے حرم کی ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ہوتا ہے۔۔ ‎مدنی حرم جسے " تعظیمی " حرم بھی کہا جاتا ہے کہ اُس میں مکی حرم والی پابندیاں اور " دَم " نہیں ہے لیکن اس جگہ کی عظمت اور تقدس کے باعث احتیاط کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔۔ ‎لڑائی جھگڑا اور فساد پھیلانا تو ویسے ہی منع ہے لیکن شکار نہ کرنے اور درخت کاٹنے کی ممانعت کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔۔ مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز کے برابر ہوتا ہے۔۔ ‎ ‎حدودِ حرم مکہ۔۔ ‎ ‎پہلے ہم مکہ مکرمہ کے حرم کی بات کریں گے۔۔ ‎سب سے پہلے حرم کی حدود کا تعین حضرت ابراہیم علیہ سلام نے مقرر فرمایا اور حرم کی حدود کے چاروں طرف پتھروں سے نشاندہی کی۔۔ ‎یہ پتھر مخصوص شکل کے ہوتے تھے جنہیں " انصاب " کہا جاتا تھا۔۔ ‎یہ حدود خانہ کعبہ سے چھ اطراف لگائی گئیں۔۔ ‎ ‎مدینہ کی سمت مقامِ تنعیم کے قریب ذات الحنظل پہاڑی تک حرم کی حدود ہے۔۔ ‎یہیں پہ مسجد عائشہ بھی ہے بلکہ مسجد عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا کچھ حصہ بھی حدودِ حرم میں آتا ہے۔۔ ‎جدہ کی طرف حدیبیہ کے مقام پہ جہاں " الشمیس " چیک پوسٹ ہے۔۔ ‎یہاں سے غیر مسلموں کے لیئے الگ راستہ بھی ہے تاکہ وہ حرم کی حدود میں داخل نہ ہوں کہ تمام غیر مسلموں کا حرم میں داخلہ بند ہے۔۔ ‎یمن کی طرف جگہ اضاءۃ لبن کے قریب " جبلِ غراب " تک۔۔ ‎عرفات اور طائف کی طرف ً ذات السلم ً کے قریب " ابنِ کریز " کی گھاٹی تک۔۔ ‎نجد اور عراق کی طرف " مقطع یا الصفاح " میں " الخل " کی گھاٹی تک۔۔ ‎اور " جعرانہ " کی طرف " المستوفرہ " کے مقام تک۔۔ ‎ ‎فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان حدود کی تجدید فرمائی اور " تمیم بن اسد " کے ذریعے ان حدود کو ازسرِ نو درست کروایا تاکہ یہ واضح طور پہ سب کے علم میں آجائیں۔۔ ‎خلفائے راشدین کے دور میں بھی ان حدود کی تجدید ہوتی رہی جنہیں " توفیقی حد بندی " کہا جاتا ہے۔۔ ‎آج کے جدید دور میں یہ حد بندی مختلف اطرف میں باؤنڈری لائن کی طرح انتظامی طور پہ کی گئی ہے اور امامِ کعبہ کی نگرانی میں اس باؤنڈری لائن پہ گیارہ سو کے قریب مخصوص ستون کھڑے کیئے گئے ہیں جو کے دور سے نظر آجاتے ہیں۔۔ ‎ ‎حدودِ حرم مدینہ۔۔ ‎ ‎نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ " میں مدینہ کے دو محلوں " حرِ شرقیہ اور حرِ غربیہ " کے درمیانی علاقے کو حرم مقرر کرتا ہوں۔۔" ‎مدینہ منورہ کے حرم کے چاروں طرف حد بندی کے طور پہ دو سو سے زائد مختلف مقامات پہ ستون نصب کیئے گئے ہیں۔۔ " (علی عمر ) ‎

About