@lahasil399: محبت کا سفر جب دوری اور انتظار کے مرحلے سے گزرتا ہے، تو دل کی بے چینی اور روح کی تڑپ ایک ایسی کیفیت اختیار کر لیتی ہے جسے الفاظ میں بیاں کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس شعر میں اسی لازوال تڑپ اور سچی محبت کا اعتراف بڑی خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میری ان آنکھوں میں، جو دن رات صرف تمہارا راستہ تکتی رہتی ہیں، اب تمہارے دیدار کی ایک شدید اور بے انتہا طلب جاگ چکی ہے۔ یہ نگاہیں، جو دنیا کی ہر خوبصورتی سے منہ موڑ کر صرف تمہارے چہرے کے نور کی پیاسی ہیں، اب مزید انتظار کی سکت نہیں رکھتیں۔ ان میں ایک عجب سی بے قراری اور اضطراب ہے، جو صرف اور صرف تمہاری ایک جھلک دیکھنے سے ہی دور ہو سکتا ہے۔ میری ہر سانس، میرا ہر لمحہ اور میری سوچ کا ہر زاویہ تمہاری یاد کے گرد گھومتا ہے، اور یہ تڑپ اب حد سے بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ آگے التجا کرتا ہے کہ اس طویل اور تھکا دینے والے انتظار کو ختم کرنے کے لیے، تم کسی بھی شام خاموشی سے چلے آؤ۔ شام کا وقت خود اپنے اندر ایک اداسی اور تنہائی کا احساس رکھتا ہے، اور ایسے میں جب محبوب کا خیال دل کو تڑپاتا ہے، تو زندگی ادھوری سی لگنے لگتی ہے۔ اسی لیے عاشق چاہتا ہے کہ تم کسی شام اس کی زندگی کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے آ جاؤ۔ اور تمہارا آنا ایسا ہو جیسے رات کے گہرے سناٹے میں کوئی انتہائی حسین اور دلکش خواب آنکھوں میں اتر آتا ہے۔ جس طرح ایک خوبصورت خواب انسان کو دنیا و مافیہا سے بے خبر کر کے سکون اور راحت کی وادیوں میں لے جاتا ہے، بالکل اسی طرح تمہارا وجود میری ان بے چین اور تھکی ہوئی آنکھوں میں سما جائے۔ تم میری نگاہوں کا وہ ابدی خواب بن جاؤ جو کبھی نہ ٹوٹے، اور میں جب بھی آنکھیں بند کروں یا کھولوں، مجھے صرف تمہارا ہی عکس نظر آئے۔ یہ التجا دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ محبوب صرف ایک انسان نہیں، بلکہ زندگی کا سب سے خوبصورت حاصل اور روح کا سکون بن چکا ہے۔#unfreezemyacount #standwithkashmir #flypシ #foryoupage