@🦋:کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں جو قدموں سے نہیں، بلکہ نصیب اور وقت کی لکیروں سے طے ہوتے ہیں۔ جب دو دلوں کے درمیان خاموشی کی ایسی دیوار کھڑی ہو جائے جسے گرانا ممکن نہ رہے، تو وہاں جذبے سسکنے لگتے ہیں۔ ہم دونوں کے درمیان اب وہ عام فاصلے نہیں رہے جنہیں کوئی مسافر، کوئی ریل یا کوئی راستہ سمیٹ سکے۔ اب تو ہمارے درمیان صدیوں کی مسافتیں، ان کہی باتوں کے انبار اور سرد مہری کے وہ پہاڑ حائل ہو چکے ہیں جنہیں عبور کرنا زندگی کے بس میں نہیں۔
محبت میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان سب کچھ ہار کر بھی صرف ایک بار پکارنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے اندر کا سارا غبار، ساری تڑپ اور سارا پیار ایک آخری آواز میں سمیٹ کر دوسرے تک پہنچا دے۔ لیکن المیہ دیکھو... اب دل کا یہ عالم ہے کہ اگر میں پوری طاقت سے، اپنے وجود کی آخری حد تک جا کر بھی تمہیں پکارنا چاہوں، تو وہ آواز تم تک نہیں پہنچے گی۔
وہ آواز راستے کے اس ہولناک سناٹے اور سرد اندھیرے کا بوجھ نہیں سہہ پائے گی۔ وہ تمہاری دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی، بیچ راستے میں تڑپ کر اپنا دم توڑ دے گی۔
کتنی اذیت ناک بات ہے نہ؟ کہ لفظ زبان پر آنے سے پہلے ہی مر جائیں، اور جو آواز کبھی تمہارے لیے سب سے شناسا تھی، وہ اب اتنی اجنبی اور کمزور ہو چکی ہے کہ راستے کی وسعتیں ہی اسے نگل لیں۔ یہ خاموشی کا وہ زہر ہے جو انسان کو زندہ تو رکھتا ہے، مگر اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اب نہ وہ پکار رہی، نہ وہ سننے والا رہا، بس ایک لامتناہی فاصلہ ہے جو روز تھوڑا تھوڑا کر کے مجھے اندر سے ختم کر رہا ہے۔