عشق مرشد ہے تو پھر دل کو سہارا بھی ہے
یہ سمندر بھی، یہی ڈوبنے والا بھی ہے
اس کی نظروں میں عجب نور کا دریا سا لگا
میری قسمت میں اسی نور کا سایہ بھی ہے
جس کی آواز سے مہکے مرے احساس کے پھول
وہی خوشبو، وہی موسم، وہی جھونکا بھی ہے
اس کے آنے سے مرے گھر میں اُجالے اُترے
میری دہلیز پہ اک چاند سا ٹھہرا بھی ہے
میں نے ہر درد کو ہنس کر ترے نام کیا
تیرا احسان کہ تو درد کا درماں بھی ہے
عشق کی راہ میں آسان کہاں ہوتی ہیں منزلیں
یہ حقیقت بھی مرے ساتھ تماشا بھی ہے
2026-06-22 08:42:52
0
To see more videos from user @khokharhuyar3, please go to the Tikwm
homepage.