@aestheticallydirty: آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے سوئزر لینڈ میں شہباز شریف کی باڈی لینگویج کا تجزیہ کچھ یوں کیا ہے کہ: ان کی آنکھیں غیر معمولی طور پر کھلی اور بار بار دائیں بائیں دیکھ رہے ہیں جو شدید hyper-awareness یا confusion اور بے چینی ظاہر کرتے ہیں اپنے ہونٹ چاٹنا یعنی باربار ان پر پر زبان پھیرنا شدید ذہنی دباؤ، نروس ہونے یا منہ خشک ہونے پر ایک فطری ردعمل ہوتا ہے۔ چہرے کے مسل کھچے ہوئے اور سخت محسوس ہو رہے ہیں جو ایک سنجیدہ بلکہ پریشان کن صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا دھڑ زیادہ تر ساکت اور کندھوں میں ایک قسم کا کھچاؤ ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب انسان خود کو دفاعی یا uncomfortable پوزیشن میں محسوس کر رہا ہو۔ وہ اچانک اور جھٹکے سے اپنی گردن کو گھما کر اردگرد کا جائزہ لیتے ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ماحول میں ہونے والی کسی تبدیلی یا آواز پر فوری ردعمل دے رہے ہیں اس سے خود اعتمادی کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔ تکنیکی نقطہ نظر سے، یہ تمام تاثرات اور باڈی لینگویج مشترکہ طور پر شدید ٹینشن، گھبراہٹ اور غیر یقینی صورتحال کی کلاسک علامات ہیں۔ وہ اس ماحول میں خود کو بے سکون یا صورتحال کنٹرول سے باہر محسوس کر رہے ہیں۔ آسان زبان یا slang میں اسے "پھٹی پڑی ہے" کہا جا سکتا ہے. یقیناً موصوف ایرانی وزیر خارجہ سے اچھی خاصی بیستی کروا چکے ہیں. خیر! فارم 47 کے وزیراعظم کے ساتھ ایسا سلوک کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ #imrankhan