ایسا ٹوٹا ہے تمناؤں کا پندار کہ بس !! دل نے جھیلے ہیں محبت میں وہ آزار کہ بس !
ایک لمحے میں زمانے میرے ہاتھوں سے گئے ! اس قدر تیز ہوئی وقت کی رفتار کہ بس!!
کل بھی صدیوں کی مسافت پر کھڑے تھے دونوں درمیان آج بھی پڑتی ہے وہ دیوار کہ بس !!
یہ تو اک ضد ہے کہ محسن میں شکایت نہ کروں! شکوے تو ہیں اتنے میرے یار کہ بس !!