@bekiioro:

🌹ƁÊƘÎÎ📷ØŘØ🎶
🌹ƁÊƘÎÎ📷ØŘØ🎶
Open In TikTok:
Region: ET
Monday 22 June 2026 16:08:59 GMT
147993
28043
1044
10950

Music

Download

Comments

user74136137509444
doctor Zaki :
dhugadha🥰🥰🥰
2026-07-16 18:30:19
0
shura5150
Mayaa Galchu :
ani hiriya hin qabu ❤️❤️❤️
2026-07-16 06:39:55
0
fedilunegash
fdl🎧koket 🦋🎧🦋 :
sallu Allan nabbi
2026-06-22 16:38:51
10
jiraa.hundaa.bacha58
jiraa hundaa bachaa :
sanyiii dhugattii attiii🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-07-16 05:38:39
0
bekamamikaail
Bekamaa :
11
2026-07-05 18:20:58
0
user1769136285059
abdiyyee :
2026-07-04 08:55:41
0
awallalisaa
awallalisaa :
si'i kaa bro kiyyaa
2026-06-22 16:24:10
6
sifanfkr0
SIFAN FKR :
dhugaa ketii bro ♥️♥️
2026-07-14 04:35:14
0
bilbila1257
jirreenyi qormaata :
waaw
2026-07-08 06:58:10
0
1.ko811
1 > KO :
biro
2026-07-05 16:01:05
0
amrisa.sharfu
Amrisa Sharfu :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰mashallaaaa
2026-07-04 18:34:47
0
awwal.baale34
🔥AWWAL BAALE🪐 :
maashaa'allaah ❣️🥰🙏 beki
2026-06-29 07:43:32
0
husni.nasir2
husni nasir :
Sanyii
2026-07-08 14:13:36
0
user96156919512435
muzamil :
@jabadhuu. bekishaa
2026-07-05 17:10:18
0
jorumhabibi2
naaf koo :
haye bossa
2026-06-22 16:13:42
1
diimaa..1
☠️🙋‍♂️ :
Si'i kaa bro🥰
2026-06-22 18:24:24
1
razinayeinatewalij
habibtitoo❤❤❤ijolee oro🍫🍫 :
dhugaadha wly my biro
2026-06-22 21:30:54
1
abdii.oro738
abdii kilash :
sanyii
2026-06-22 22:05:24
1
osmen__bey
Osmen__bey 🇨🇦 🍁 :
Hiriyaan kiyya suma beeki kiyya qaali ♥️
2026-07-05 07:33:30
0
robekajo0
ROBEKSII JO🇺🇸💸 :
Bekii oro😇
2026-06-23 04:53:12
2
qanoqano5
Abdii :
dhugaa ketaa mashalaa
2026-07-11 07:36:51
0
balee.dawadhaa.kotaa
qaxalee baalee🚶 :
obokesaa ko qalii👌👌👌👌
2026-06-24 19:05:36
1
mootummaaaddunyaa0
MOOTUMMAA ADDUNYAA🇱🇷 :
hin qabu wallaahi
2026-06-24 18:26:05
1
huzeyfa726
Huzeyfa :
Yoon sumaan ja.e malee hiriyaan akkas ja.un hiin qabu beki kiya
2026-07-11 13:26:26
0
nurabright
🧩nura bright🍫 :
@Investar 🌘 @RAM: Inspire ♈️ @A/ሃዪ🩸🩹
2026-06-23 07:18:28
1
To see more videos from user @bekiioro, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

روح — وہ راز جسے آج تک کوئی سمجھ نہ سکا ...رات کے کسی خاموش پہر جب سب سو جائیں، اور میں تنہائی میں بیٹھا ہوں، تو ایک سوال اپنے آپ سے پوچھتا ہوں: میں کون ہوں؟ یہ جسم؟ یہ چہرہ؟ یہ آنکھیں؟ یہ ہاتھ؟ یا ان سب کے اندر موجود کوئی اور حقیقت؟ ذرا غور کرو... جب ایک انسان مرتا ہے... تو اس کے جسم میں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ وہی آنکھیں۔ وہی دل۔ وہی دماغ۔ وہی ہاتھ۔ وہی پیر۔ پھر آخر ایسی کون سی چیز نکل جاتی ہے کہ بولنے والا خاموش ہو جاتا ہے؟ چلنے والا رک جاتا ہے؟ دیکھنے والا بے حس ہو جاتا ہے؟ وہ چیز... روح ہے۔ ...روح انسان کی اصل حقیقت ہے۔ جسم تو صرف ایک لباس ہے۔ ایک عارضی مکان ہے۔ ایک سواری ہے۔ اصل مسافر تو روح ہے۔ قرآن نے روح کو رب کا ایک عظیم راز قرار دیا، اور انسان کو بتا دیا... کہ تمہیں اس بارے میں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ سائنس نے سمندر ناپ لیے، آسمانوں کی وسعتیں جان لیں، چاند پر قدم رکھ دیا، انسان کے جسم کے اندر موجود خلیات تک پہنچ گئی، لیکن... روح کیا ہے؟ آج بھی سائنس اس سوال کے سامنے خاموش کھڑی ہے۔ نہ کوئی خوردبین روح کو دیکھ سکی، نہ کوئی مشین روح کو ناپ سکی، نہ کوئی لیبارٹری روح کو قید کر سکی۔ کیونکہ روح... مٹی کی دنیا کی چیز نہیں۔ غیب کی دنیا کا راز ہے۔ جب ماں کے پیٹ میں ایک بے جان جسم پڑا ہوتا ہے، تو اللہ کے حکم سے روح اس میں داخل ہوتی ہے، اور اچانک زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ دل دھڑکنے لگتا ہے، جسم حرکت کرنے لگتا ہے، آنکھیں دنیا دیکھنے کے لیے تیار ہونے لگتی ہیں، اور پھر... زندگی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن افسوس... انسان ساری زندگی جسم کو سنوارتا رہتا ہے، روح کو بھول جاتا ہے۔ جسم کو دھوتا ہے، روح کو نہیں دھوتا۔ جسم کو خوشبو لگاتا ہے، روح کو معطر نہیں کرتا۔ گھر کو صاف رکھتا ہے، دل کو صاف نہیں رکھتا۔ کپڑوں پر داغ برداشت نہیں کرتا، لیکن روح پر گناہوں کے داغ دیکھ کر بھی بے فکر رہتا ہے۔ ذرا سوچو... میں روز نہاتا ہوں، اپنے جسم کو چمکاتا ہوں، اپنے بال سنوارتا ہوں، اپنے کپڑے بدلتا ہوں۔ لیکن آخری بار اپنی روح کو کب صاف کیا تھا؟ آخری بار سچے دل سے توبہ کب کی تھی؟ آخری بار تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گناہوں پر رویا کب تھا؟ حقیقت یہ ہے... بہت سے لوگ صاف جسم لے کر چل رہے ہیں، مگر ان کی روحیں گندگی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بہت سے چہرے روشن ہیں، لیکن دل تاریک ہیں۔ بہت سے لوگ خوشبوؤں میں بسے ہوئے ہیں، لیکن ان کی روحیں گناہوں کی بدبو میں لپٹی ہوئی ہیں۔ حسد... روح کو کھا جاتا ہے۔ تکبر... روح کو سیاہ کر دیتا ہے۔ جھوٹ... روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ غیبت... روح کو بدبودار کر دیتی ہے۔ نافرمانی... روح کو بیمار کر دیتی ہے۔ اور سب سے خطرناک بیماری... غفلت ہے۔ وہ غفلت... جو انسان کو اپنی روح کا حال ہی بھلا دیتی ہے۔ پھر ایک دن... موت آ جاتی ہے۔ ...وہ لمحہ جس سے کوئی نہیں بچ سکا۔ اس وقت... فرشتے آتے ہیں، اور روح کو جسم سے الگ کر دیتے ہیں۔ اس لمحے... ساری دولت ختم، ساری طاقت ختم، ساری شہرت ختم، صرف روح باقی، اور اس کے اعمال باقی۔ لوگ جسم کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، رو رہے ہوتے ہیں، لیکن روح... ایک نئے سفر پر نکل چکی ہوتی ہے، عالمِ برزخ کی طرف۔ وہاں نہ بینک بیلنس کام آتا ہے، نہ عہدہ، نہ شہرت۔ وہاں صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں۔ سوچو... اگر آج میری روح میرے سامنے لا کھڑی کی جائے... تو کیا میں اسے دیکھنا پسند کروں گا؟ کیا وہ روشن ہوگی؟ یا گناہوں کے دھبوں سے بھری ہوئی ہوگی؟ کیا وہ اللہ سے ملنے کے لیے بے تاب ہوگی؟ یا خوف سے کانپ رہی ہوگی؟ اے انسان! جسم کی صفائی اچھی بات ہے، اسلام نے بھی صفائی سکھائی ہے۔ مگر جسم سے زیادہ قیمتی تمہاری روح ہے۔ جسم چند سال بعد مٹی میں مل جائے گا، لیکن روح... ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اس لیے جسم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے... روح کے آئینے کے سامنے بھی کھڑے ہو جاؤ۔ اپنے دل کا جائزہ لو، اپنے گناہوں کو دیکھو، اپنی غفلت کو پہچانو۔ اپنی روح کو توبہ سے دھو لو، اپنی روح کو قرآن سے روشن کر لو، اپنی روح کو ذکر سے زندہ کر لو، اپنی روح کو سجدوں سے پاک کر لو۔ اس سے پہلے کہ لوگ تمہارے جسم کو غسل دیں... اپنی روح کو خود پاک کر لو۔ اس سے پہلے کہ تمہارا نام صرف ایک یاد بن جائے... اپنی روح کو اللہ کے قریب کر لو۔ کیونکہ ایک دن... یہ جسم مٹی میں سو جائے گا، یہ آنکھیں بند ہو جائیں گی، یہ زبان خاموش ہو جائے گی، یہ دل دھڑکنا چھوڑ دے گا، مگر روح... اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوگی۔ اور اُس دن... سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ تمہارا جسم کتنا خوبصورت تھا۔ بلکہ یہ ہوگا... تمہاری روح کس حال میں تھی؟ اور کیا وہ اپنے رب سے ملنے کے لیے تیار تھی ❤️‍🩹 #fyp
روح — وہ راز جسے آج تک کوئی سمجھ نہ سکا ...رات کے کسی خاموش پہر جب سب سو جائیں، اور میں تنہائی میں بیٹھا ہوں، تو ایک سوال اپنے آپ سے پوچھتا ہوں: میں کون ہوں؟ یہ جسم؟ یہ چہرہ؟ یہ آنکھیں؟ یہ ہاتھ؟ یا ان سب کے اندر موجود کوئی اور حقیقت؟ ذرا غور کرو... جب ایک انسان مرتا ہے... تو اس کے جسم میں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ وہی آنکھیں۔ وہی دل۔ وہی دماغ۔ وہی ہاتھ۔ وہی پیر۔ پھر آخر ایسی کون سی چیز نکل جاتی ہے کہ بولنے والا خاموش ہو جاتا ہے؟ چلنے والا رک جاتا ہے؟ دیکھنے والا بے حس ہو جاتا ہے؟ وہ چیز... روح ہے۔ ...روح انسان کی اصل حقیقت ہے۔ جسم تو صرف ایک لباس ہے۔ ایک عارضی مکان ہے۔ ایک سواری ہے۔ اصل مسافر تو روح ہے۔ قرآن نے روح کو رب کا ایک عظیم راز قرار دیا، اور انسان کو بتا دیا... کہ تمہیں اس بارے میں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ سائنس نے سمندر ناپ لیے، آسمانوں کی وسعتیں جان لیں، چاند پر قدم رکھ دیا، انسان کے جسم کے اندر موجود خلیات تک پہنچ گئی، لیکن... روح کیا ہے؟ آج بھی سائنس اس سوال کے سامنے خاموش کھڑی ہے۔ نہ کوئی خوردبین روح کو دیکھ سکی، نہ کوئی مشین روح کو ناپ سکی، نہ کوئی لیبارٹری روح کو قید کر سکی۔ کیونکہ روح... مٹی کی دنیا کی چیز نہیں۔ غیب کی دنیا کا راز ہے۔ جب ماں کے پیٹ میں ایک بے جان جسم پڑا ہوتا ہے، تو اللہ کے حکم سے روح اس میں داخل ہوتی ہے، اور اچانک زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ دل دھڑکنے لگتا ہے، جسم حرکت کرنے لگتا ہے، آنکھیں دنیا دیکھنے کے لیے تیار ہونے لگتی ہیں، اور پھر... زندگی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن افسوس... انسان ساری زندگی جسم کو سنوارتا رہتا ہے، روح کو بھول جاتا ہے۔ جسم کو دھوتا ہے، روح کو نہیں دھوتا۔ جسم کو خوشبو لگاتا ہے، روح کو معطر نہیں کرتا۔ گھر کو صاف رکھتا ہے، دل کو صاف نہیں رکھتا۔ کپڑوں پر داغ برداشت نہیں کرتا، لیکن روح پر گناہوں کے داغ دیکھ کر بھی بے فکر رہتا ہے۔ ذرا سوچو... میں روز نہاتا ہوں، اپنے جسم کو چمکاتا ہوں، اپنے بال سنوارتا ہوں، اپنے کپڑے بدلتا ہوں۔ لیکن آخری بار اپنی روح کو کب صاف کیا تھا؟ آخری بار سچے دل سے توبہ کب کی تھی؟ آخری بار تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گناہوں پر رویا کب تھا؟ حقیقت یہ ہے... بہت سے لوگ صاف جسم لے کر چل رہے ہیں، مگر ان کی روحیں گندگی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بہت سے چہرے روشن ہیں، لیکن دل تاریک ہیں۔ بہت سے لوگ خوشبوؤں میں بسے ہوئے ہیں، لیکن ان کی روحیں گناہوں کی بدبو میں لپٹی ہوئی ہیں۔ حسد... روح کو کھا جاتا ہے۔ تکبر... روح کو سیاہ کر دیتا ہے۔ جھوٹ... روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ غیبت... روح کو بدبودار کر دیتی ہے۔ نافرمانی... روح کو بیمار کر دیتی ہے۔ اور سب سے خطرناک بیماری... غفلت ہے۔ وہ غفلت... جو انسان کو اپنی روح کا حال ہی بھلا دیتی ہے۔ پھر ایک دن... موت آ جاتی ہے۔ ...وہ لمحہ جس سے کوئی نہیں بچ سکا۔ اس وقت... فرشتے آتے ہیں، اور روح کو جسم سے الگ کر دیتے ہیں۔ اس لمحے... ساری دولت ختم، ساری طاقت ختم، ساری شہرت ختم، صرف روح باقی، اور اس کے اعمال باقی۔ لوگ جسم کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، رو رہے ہوتے ہیں، لیکن روح... ایک نئے سفر پر نکل چکی ہوتی ہے، عالمِ برزخ کی طرف۔ وہاں نہ بینک بیلنس کام آتا ہے، نہ عہدہ، نہ شہرت۔ وہاں صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں۔ سوچو... اگر آج میری روح میرے سامنے لا کھڑی کی جائے... تو کیا میں اسے دیکھنا پسند کروں گا؟ کیا وہ روشن ہوگی؟ یا گناہوں کے دھبوں سے بھری ہوئی ہوگی؟ کیا وہ اللہ سے ملنے کے لیے بے تاب ہوگی؟ یا خوف سے کانپ رہی ہوگی؟ اے انسان! جسم کی صفائی اچھی بات ہے، اسلام نے بھی صفائی سکھائی ہے۔ مگر جسم سے زیادہ قیمتی تمہاری روح ہے۔ جسم چند سال بعد مٹی میں مل جائے گا، لیکن روح... ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اس لیے جسم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے... روح کے آئینے کے سامنے بھی کھڑے ہو جاؤ۔ اپنے دل کا جائزہ لو، اپنے گناہوں کو دیکھو، اپنی غفلت کو پہچانو۔ اپنی روح کو توبہ سے دھو لو، اپنی روح کو قرآن سے روشن کر لو، اپنی روح کو ذکر سے زندہ کر لو، اپنی روح کو سجدوں سے پاک کر لو۔ اس سے پہلے کہ لوگ تمہارے جسم کو غسل دیں... اپنی روح کو خود پاک کر لو۔ اس سے پہلے کہ تمہارا نام صرف ایک یاد بن جائے... اپنی روح کو اللہ کے قریب کر لو۔ کیونکہ ایک دن... یہ جسم مٹی میں سو جائے گا، یہ آنکھیں بند ہو جائیں گی، یہ زبان خاموش ہو جائے گی، یہ دل دھڑکنا چھوڑ دے گا، مگر روح... اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوگی۔ اور اُس دن... سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ تمہارا جسم کتنا خوبصورت تھا۔ بلکہ یہ ہوگا... تمہاری روح کس حال میں تھی؟ اور کیا وہ اپنے رب سے ملنے کے لیے تیار تھی ❤️‍🩹 #fyp

About