@just.for.you.0.0.7: یہ بات بالکل سچ اور سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے۔ ہماری زندگی کا المیہ ہی یہی ہے کہ ہم اکثر انسان کی قدر اس کے جانے کے بعد کرتے ہیں۔ اس خوبصورت اور گہری بات میں دو بہت اہم پہلو چھپے ہیں: * **زندہ لوگوں کو احساس کی ضرورت ہوتی ہے:** جب کوئی انسان کسی مشکل، بیماری یا پریشانی سے گزر رہا ہوتا ہے، تو اسے کندھے، دلاسے اور ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت دیا گیا ایک چھوٹا سا سہارا بھی اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ * **جنازے صرف ایک رسم بن جاتے ہیں:** مرنے کے بعد کندھا دینے کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہو جاتے ہیں، بڑی بڑی تعریفیں کی جاتی ہیں، لیکن اس وقت اس سب کا فائدہ اس انسان کو نہیں پہنچتا جو دنیا سے رخصت ہو چکا ہوتا ہے۔ **اصل نیکی** یہی ہے کہ انسانوں کی قدر ان کی زندگی میں کی جائے، ان کے دکھ سکھ کا ساتھی بنا جائے اور جب انہیں ہماری ضرورت ہو، تب ہم ان کے لیے دستیاب ہوں۔ بہت ہی لاجواب اور سوچ بدلنے والا جملہ ہے!