@elfrankvelasquez: EMAÚS un retiro parroquial creado (Miami, 1978) para fortalecer las pastorales de la parroquia. La idea es que quien lo vive se integre de forma directa y activa a la comunidad parroquial a través de susbdisntimtos dones en las diferentes pastorales y grupos parroquiales existentes en cada comunidad! #Dios #Jesucristo #EspirituSanto #Emaus #Bendiciones

frank velasquez bolívar
frank velasquez bolívar
Open In TikTok:
Region: CO
Monday 22 June 2026 19:37:19 GMT
3140
223
15
101

Music

Download

Comments

marinocontreras
marinocontreras :
éso es verdad lo que dice. emaus es preparación para trabajar en la parroquia donde uno vive y trabajar con umilda en el servicio pastoral de la parroquia conjunto con el párroco
2026-06-23 03:11:35
3
margolirodriguez
margolirodriguez :
yo soy la primer emausiana en mi parroquia y creo que ya se cual es el propósito de mi padre con Migo
2026-06-23 00:36:54
3
katira408
Katira :
EVR 🙏🏼🫂
2026-06-23 11:35:22
0
papelon692
papelon :
todo suena muy bonito todo se ve muy bien, Pero tiene que aceptar que emaús es un club social, o por lo menos lo volvieron así
2026-06-23 10:49:25
0
soyleo546
soyleo :
JHR.
2026-06-23 02:22:37
2
brele339
Brele :
EVR
2026-06-23 11:20:50
0
user5444693066390
La China :
Amén Amén Amén 😍♥️🥰
2026-06-23 10:24:57
0
user7903233301195
user7903233301195 :
JHR y EVR
2026-06-23 02:34:50
0
yraima.hernndez
Yraima Hernández :
En verdad resucitó!!!
2026-06-23 07:34:07
0
isolinamolina1
sol :
El Espíritu Santo dando Sabiduría
2026-06-23 02:17:04
1
franko7673
Franco :
Sectaus....
2026-06-22 20:22:03
2
isbeth.gomez
isbeth gomez :
y muchos no lo entienden, no les gusta estar en las pastorales
2026-06-23 04:06:30
0
augusto.avila25
Augusto Avila :
Saludos , realizar el retiro de EMAUS es algo súper maravilloso , pero la realidad es al llegar a las parroquias dónde nos creemos dueño de EMAUS y clasifican a las personas si usted tiene dinero es tomado en cuenta y si no tiene lo hacen a un lado sin saber que en el más humilde es donde habita el espíritu santo, el Señor vino por los enfermos no por los sanos o santos, y me disculpan pero por la verdad murió Cristo
2026-06-23 10:50:56
1
ciela686
Graciela :
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🌹🌹👍🌹🌹🌹🦋🦋🦋🦋
2026-06-23 02:33:26
1
To see more videos from user @elfrankvelasquez, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اچھے دن کے انتظار میں عمر گزر جاتی ہے غالب، پھر پتا چلتا ہے کہ جو گزر گئے وہی اچھے دن تھے۔ انسان کی فطرت عجیب ہے۔ وہ ہمیشہ اس چیز کی خواہش کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی، اور جو اس کے پاس ہوتی ہے اس کی قدر نہیں کرتا۔ بچپن میں لگتا ہے کہ جوانی سب سے خوبصورت دور ہوگی۔ جوانی آتی ہے تو انسان مستقبل کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ جب اچھی نوکری مل جائے گی، جب گھر بن جائے گا، جب زندگی کے مسائل ختم ہو جائیں گے، تب سکون ملے گا، تب خوشی ملے گی۔ لیکن زندگی کا سفر آگے بڑھتا رہتا ہے اور خوشی کی منزل ہمیشہ چند قدم دور رہتی ہے۔ ہم اکثر اپنی زندگی کو آنے والے کل کے نام کر دیتے ہیں۔ آج کے لمحے کو جینے کے بجائے ہم کل کے خوابوں میں گم رہتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی صرف آج کا نام ہے۔ جو کل گزر گیا وہ تاریخ بن چکا، اور جو آنے والا ہے اس کا کسی کو یقین نہیں۔ مگر افسوس کہ ہم اپنا آج بھی اس کل کے انتظار میں قربان کر دیتے ہیں جو شاید کبھی نہ آئے۔ یاد کیجیے وہ دن جب آپ بچپن میں بارش میں بھیگتے تھے، گلیوں میں کھیلتے تھے، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہو جاتے تھے۔ اس وقت آپ کو لگتا تھا کہ زندگی بہت عام سی ہے۔ آپ کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایک دن یہی معمولی لمحے آپ کی سب سے قیمتی یادیں بن جائیں گے۔ آج جب زندگی کی مصروفیات اور ذمہ داریوں نے گھیر لیا ہے تو وہی بچپن خواب لگتا ہے۔ وہی دن جنہیں ہم نے کبھی خاص نہیں سمجھا تھا، آج دل ان کے لیے ترستا ہے۔ پھر نوجوانی آتی ہے۔ دوستوں کی محفلیں، رات گئے تک ہونے والی باتیں، ہنسی مذاق، چھوٹے چھوٹے خواب، بے شمار امیدیں۔ اس وقت انسان کو لگتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ رہے گا۔ لیکن وقت خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ دوست بچھڑ جاتے ہیں، راستے بدل جاتے ہیں، ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، اور ایک دن انسان انہی دنوں کو یاد کر کے مسکرا بھی دیتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ یہی ہے کہ جب خوشی ہمارے پاس ہوتی ہے تو ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ ہمیں لگتا ہے کہ اصل خوشی ابھی آنی باقی ہے۔ لیکن جب وہ وقت گزر جاتا ہے تو سمجھ آتا ہے کہ ہم جس خوشی کے انتظار میں تھے، وہ تو پہلے ہی ہمارے پاس موجود تھی۔ کبھی اپنے والدین کو غور سے دیکھیے۔ ایک وقت تھا جب وہ ہر لمحہ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے، آپ کے لیے دعائیں کرتے تھے، آپ کی کامیابیوں پر خوش ہوتے تھے۔ لیکن وقت گزرتا ہے، عمر بڑھتی ہے، اور ایک دن انسان کو احساس ہوتا ہے کہ والدین کا ساتھ دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھا۔ جب وہ ساتھ ہوتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ رہے گا، مگر جب وقت انہیں ہم سے دور کر دیتا ہے تو دل کو سمجھ آتا ہے کہ اصل خوشی تو انہی کے سائے میں تھی۔ اسی طرح زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں۔ کچھ دوست، کچھ رشتہ دار، کچھ ایسے لوگ جن کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں لگتا۔ مگر وقت کے ساتھ بہت سے لوگ بچھڑ جاتے ہیں۔ تب احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ کتنا قیمتی تھا۔ کاش ہم نے ان لمحوں کو زیادہ محبت، زیادہ خلوص اور زیادہ توجہ سے جیا ہوتا۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم خوشی کو کسی بڑی کامیابی سے جوڑ دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ہمارے پاس زیادہ دولت ہوگی، بڑی گاڑی ہوگی، بڑا گھر ہوگا، تب ہم خوش ہوں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا کے بے شمار امیر لوگ بھی بے سکون ہیں، اور بہت سے سادہ لوگ دل کا سکون رکھتے ہیں۔ کیونکہ خوشی چیزوں میں نہیں، احساس میں ہوتی ہے۔ خوشی شکرگزاری میں ہوتی ہے۔ خوشی اس بات میں ہوتی ہے کہ انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو پہچانے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ سانس لینا، چلنا، دیکھنا، سننا، اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھنا، ایک چھت کا ہونا، ایک وقت کی روٹی کا میسر ہونا، یہ سب ایسی نعمتیں ہیں جن کی قدر اکثر انسان اس وقت کرتا ہے جب وہ ان سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس لیے جو کچھ آج ہمارے پاس ہے، اس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ اچھے دنوں کا انتظار ضرور کریں، خواب ضرور دیکھیں، محنت ضرور کریں، ترقی کی خواہش ضرور رکھیں، لیکن اس انتظار میں اپنے آج کو ضائع مت کریں۔ کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ جن دنوں کو ہم عام سمجھتے ہیں، وہی ایک دن ہماری سب سے خوبصورت یادیں بن جاتے ہیں۔ شاید زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ انسان خوشیوں کو تلاش کرتے کرتے تھک جاتا ہے، اور پھر ایک دن پلٹ کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ خوشیاں تو راستے بھر اس کے ساتھ چلتی رہی تھیں۔ #ubaidtypist70 #foryoupagе
اچھے دن کے انتظار میں عمر گزر جاتی ہے غالب، پھر پتا چلتا ہے کہ جو گزر گئے وہی اچھے دن تھے۔ انسان کی فطرت عجیب ہے۔ وہ ہمیشہ اس چیز کی خواہش کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی، اور جو اس کے پاس ہوتی ہے اس کی قدر نہیں کرتا۔ بچپن میں لگتا ہے کہ جوانی سب سے خوبصورت دور ہوگی۔ جوانی آتی ہے تو انسان مستقبل کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ جب اچھی نوکری مل جائے گی، جب گھر بن جائے گا، جب زندگی کے مسائل ختم ہو جائیں گے، تب سکون ملے گا، تب خوشی ملے گی۔ لیکن زندگی کا سفر آگے بڑھتا رہتا ہے اور خوشی کی منزل ہمیشہ چند قدم دور رہتی ہے۔ ہم اکثر اپنی زندگی کو آنے والے کل کے نام کر دیتے ہیں۔ آج کے لمحے کو جینے کے بجائے ہم کل کے خوابوں میں گم رہتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی صرف آج کا نام ہے۔ جو کل گزر گیا وہ تاریخ بن چکا، اور جو آنے والا ہے اس کا کسی کو یقین نہیں۔ مگر افسوس کہ ہم اپنا آج بھی اس کل کے انتظار میں قربان کر دیتے ہیں جو شاید کبھی نہ آئے۔ یاد کیجیے وہ دن جب آپ بچپن میں بارش میں بھیگتے تھے، گلیوں میں کھیلتے تھے، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہو جاتے تھے۔ اس وقت آپ کو لگتا تھا کہ زندگی بہت عام سی ہے۔ آپ کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایک دن یہی معمولی لمحے آپ کی سب سے قیمتی یادیں بن جائیں گے۔ آج جب زندگی کی مصروفیات اور ذمہ داریوں نے گھیر لیا ہے تو وہی بچپن خواب لگتا ہے۔ وہی دن جنہیں ہم نے کبھی خاص نہیں سمجھا تھا، آج دل ان کے لیے ترستا ہے۔ پھر نوجوانی آتی ہے۔ دوستوں کی محفلیں، رات گئے تک ہونے والی باتیں، ہنسی مذاق، چھوٹے چھوٹے خواب، بے شمار امیدیں۔ اس وقت انسان کو لگتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ رہے گا۔ لیکن وقت خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ دوست بچھڑ جاتے ہیں، راستے بدل جاتے ہیں، ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، اور ایک دن انسان انہی دنوں کو یاد کر کے مسکرا بھی دیتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ یہی ہے کہ جب خوشی ہمارے پاس ہوتی ہے تو ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ ہمیں لگتا ہے کہ اصل خوشی ابھی آنی باقی ہے۔ لیکن جب وہ وقت گزر جاتا ہے تو سمجھ آتا ہے کہ ہم جس خوشی کے انتظار میں تھے، وہ تو پہلے ہی ہمارے پاس موجود تھی۔ کبھی اپنے والدین کو غور سے دیکھیے۔ ایک وقت تھا جب وہ ہر لمحہ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے، آپ کے لیے دعائیں کرتے تھے، آپ کی کامیابیوں پر خوش ہوتے تھے۔ لیکن وقت گزرتا ہے، عمر بڑھتی ہے، اور ایک دن انسان کو احساس ہوتا ہے کہ والدین کا ساتھ دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھا۔ جب وہ ساتھ ہوتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ رہے گا، مگر جب وقت انہیں ہم سے دور کر دیتا ہے تو دل کو سمجھ آتا ہے کہ اصل خوشی تو انہی کے سائے میں تھی۔ اسی طرح زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں۔ کچھ دوست، کچھ رشتہ دار، کچھ ایسے لوگ جن کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں لگتا۔ مگر وقت کے ساتھ بہت سے لوگ بچھڑ جاتے ہیں۔ تب احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ کتنا قیمتی تھا۔ کاش ہم نے ان لمحوں کو زیادہ محبت، زیادہ خلوص اور زیادہ توجہ سے جیا ہوتا۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم خوشی کو کسی بڑی کامیابی سے جوڑ دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ہمارے پاس زیادہ دولت ہوگی، بڑی گاڑی ہوگی، بڑا گھر ہوگا، تب ہم خوش ہوں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا کے بے شمار امیر لوگ بھی بے سکون ہیں، اور بہت سے سادہ لوگ دل کا سکون رکھتے ہیں۔ کیونکہ خوشی چیزوں میں نہیں، احساس میں ہوتی ہے۔ خوشی شکرگزاری میں ہوتی ہے۔ خوشی اس بات میں ہوتی ہے کہ انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو پہچانے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ سانس لینا، چلنا، دیکھنا، سننا، اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھنا، ایک چھت کا ہونا، ایک وقت کی روٹی کا میسر ہونا، یہ سب ایسی نعمتیں ہیں جن کی قدر اکثر انسان اس وقت کرتا ہے جب وہ ان سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس لیے جو کچھ آج ہمارے پاس ہے، اس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ اچھے دنوں کا انتظار ضرور کریں، خواب ضرور دیکھیں، محنت ضرور کریں، ترقی کی خواہش ضرور رکھیں، لیکن اس انتظار میں اپنے آج کو ضائع مت کریں۔ کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ جن دنوں کو ہم عام سمجھتے ہیں، وہی ایک دن ہماری سب سے خوبصورت یادیں بن جاتے ہیں۔ شاید زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ انسان خوشیوں کو تلاش کرتے کرتے تھک جاتا ہے، اور پھر ایک دن پلٹ کر دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ خوشیاں تو راستے بھر اس کے ساتھ چلتی رہی تھیں۔ #ubaidtypist70 #foryoupagе

About