Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@jason_evans19:
Jason Evans
Open In TikTok:
Region: US
Monday 22 June 2026 22:02:17 GMT
5494
283
5
9
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.95MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.95MB
)
Watermark .mp4 (
0.78MB
)
Music .mp3
Comments
Abby Kate :
kill me
2026-06-23 01:44:20
1
Taylor :
Ugh need
2026-06-22 22:06:20
0
Savi :
Awh
2026-06-23 01:38:58
0
Madison :
Perfection
2026-06-23 17:19:37
0
estelle newell :
my peopleeeeee
2026-06-23 06:10:29
0
lucy :
🔥🔥🔥
2026-06-23 01:29:43
0
To see more videos from user @jason_evans19, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Life with Cats and Dogs ✨✨#kittens #funnykitten #cat #dog #dogsoftiktok #doglover #catslovers
#ኦማን #አሜሪካን_ስትሄድ_ልሂድ_ቀይ_ብላ #ኳታር🇶🇦🇶🇦🇶🇦🇶🇦 #ሳውዲ_አረቢያ_ #ዱባይሁሉምቦታአለን_እናደርሳለን #ኬንያ_ቲክ_ቶክ🇰🇪 #ቤረና #ስኬት #ሳዉዲ_አረቢያ #fyppppppppppppppppppppppp #viraltiktok #viral_video #ኬንያ_ቲክ_ቶክ🇰🇪 #ዱባይሁሉምቦታአለን_እናደርሳለን
بلوچ اپنی رانوں کے نیچے آئی ہوئی چیز، وہ گھوڑا ہو یا عورت، کبھی کسی کے حوالے نہیں کرتا۔” یہ ایک بلوچ سردار کا جملہ ہے۔ روایت کے مطابق جب مغل بادشاہ ہمایوں، شیر شاہ سوری کے ہاتھوں تخت سے محروم ہو کر دربدر تھا، تو وہ اپنے حرم اور چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ صحرا کے راستے ایران کی طرف سفر کر رہا تھا۔ اس کی اہلیہ، جو بعد میں شہنشاہ جلال الدین اکبر کی ماں بنیں، اُس وقت حمل سے تھیں۔ دشت نوردی اور بے سروسامانی کا عالم یہ تھا کہ بادشاہ خود بھی پیدل چل رہا تھا۔ ایسے میں ہمایوں کی بیوی کے لیے پیدل چلنا مشکل ہو گیا۔ ہمایوں نے اپنے وفادار بلوچ سردار سے اپنی بیوی کے لیے گھوڑا مانگا۔ بلوچ سردار نے پہلے کہا: “بلوچ اپنی رانوں کے نیچے آئی ہوئی چیز کبھی کسی کو نہیں دیتا۔” مگر پھر ایک خاتون کے احترام میں اپنا گھوڑا اس کے حوالے کر دیا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس نے بلوچ قوم کی وفاداری، غیرت اور عورت کے احترام کی مثال قائم کی۔ کیا یہ وہی بلقچ قوم ہے جس جے لئے شاہ عبداللطیف بھٹائی نے کا تھا کہ بلوچ قوم جرات، بہادری اور وفا کا استعارہ ہے۔ بلوچ قوم تو مہمان نواز قوم ہے۔ اجنبی مسافروں کی نگہبان، عورت کی عزت و حرمت کی پاسبان۔ مگر یہ اتنی ڈرپوک کب سے ہوگئ ۔۔۔ ایک مسافر فیملی کے سربراہ کو معصوم بچوں اور اس کی نہتی بیوی کے سامنے لہو میں نہلا دیا۔۔۔ انہوں نے اپنی بلوچی روایات کا خون کیا۔ ایک وہ بھی بلوچ تھا جس نے نادار عورت کے لیے اپنی قیمتی چیز تج دی۔ ایک یہ بلوچ ہیں جنہوں نے بھٹکے ہوئے مسافر کی، مہمان کی تکریم نہیں کی۔ عورت کی ناموس کا خیال نہیں رکھا، اس کے سر کی چادر کو تار تار کر دیا۔۔۔ معصوم بچوں پہ رحم نہیں کھایا۔ یہ بلوچ وہ تو نہیں جنہوں نے ایک پناہ گیر خاتون کی پکار پہ تیس سال خونی جنگ لڑی۔۔۔ جب لاشاریوں اور رندوں میں گھڑ دوڑ کا میدان سجا۔۔۔ ہار جیت کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ مقابلے سے واپسی پہ دلبرداشتہ لاشاریوں نے چراگاہ میں چرتی ہوئی حاملہ اونٹنی پہ تیر برسا دیے۔ تب ان اونٹوں کی مالک خاتون جو رند سردار کی پناہ میں تھی، دوڑتی ہوئی فریاد کنان رند سردار کے پاس پہنچی۔ بلوچ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ ایک مسافر پناہ میں آئی ہوئی عورت کو تکلیف پہنچے۔ پھر لاشاریوں اور رند بلوچوں میں وہ طویل جنگ چھڑی جس میں تیس ہزار بلوچ جنگجو مارے گئے۔ یہ لڑائی تیس سال چلتی رہی۔ بلوچ قوم تو وہ تھی جو عورت کے احترام میں خون دے دیتی تھی۔ اور آج اسی بلوچستان میں ایک نہتی عورت کے سر سے ردا چھین لی گئی۔ اگر تم بلوچ ہو تو یہ کیا ہیں ؟ اور اگر یہ بلوچ ہیں تو تم کیا ہو ؟" انا للہ وانا الیہ راجعون۔
👽🇮🇹#fyp #rcaofficiel #🦅💚
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy