@farazmandai: Dr #😭😭 #drmahrangbaloch #عمر #بھر #قید محض فیصلہ نہیں، جبر کا اعتراف ہے ڈاکٹر صبیحہ بلوچ آج بروز پیر، 22 جون، بلوچ سرزمین میں نوآبادیاتی نظام کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے۔ آج بی وائی سی کے رہنماء ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور شاہ جی سبغت اللہ بلوچ کو گوادر راجی مچی سے جڑی ایک جعلی ایف آئی آر میں عمر قید کی سزا سنا کر اس نظام نے صرف دو سیاسی رہنماؤں کو قید نہیں کیا؛ اس نے بلوچ قوم کے سامنے اپنے قانون، اپنی عدالت، اپنی سیاست اور اپنے نام نہاد انصاف کا جنازہ نکال دیا ہے۔ آج بلوچ عوام نے دیکھ لیا کہ قانون کا دیوالیہ کیسے نکلتا ہے۔ آج یہ ثابت ہو گیا کہ بلوچ کے لیے قانون ایک پناہ گاہ نہیں بلکہ ایک پھندا بنا دیا گیا ہے۔ آج یہ اقرار کر لیا گیا کہ بلوچ نسل کشی صرف بندوقوں کے سائے تلے ایف سی، سی ٹی ڈی، آرمی اور پولیس کے ذریعے نہیں ہوتی؛ جب عدالتیں ثبوت کے بغیر فیصلے سنائیں، جب کسی سیاسی رہنما کو اپنے دفاع سے محروم کیا جائے، جب مقدمہ پہلے سے طے شدہ نتیجے تک پہنچانے کے لیے چلایا جائے، تو عدالت بھی اسی جبر میں شریک بن جاتی ہے۔ ہم صاف الفاظ میں کہتے ہیں: یہ فیصلہ انصاف کا فیصلہ نہیں، ریاستی خوف کا فیصلہ ہے۔ یہ قانون کا فیصلہ نہیں، سیاسی انتقام کا فیصلہ ہے۔ یہ جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں، بلوچ آواز کو سزا دینے کا فیصلہ ہے۔ اس مقدمے کی بنیاد ہی سوالات سے بھری ہوئی ہے۔ اگرایف سی اہلکار شبیر احمد کے قتل سے متعلق دو الگ الگ ایف آئی آرز 27 جولائی اور 29 جولائی کو موجود ہیں تو عوام کو بتایا جائے کہ اصل واقعہ کون سا تھا؟ اگر قتل 27 جولائی کو ہوا تو 29 جولائی کی ایف آئی آر کس واقعے کی تھی؟ اور اگر واقعہ 29 جولائی کا تھا تو 27 جولائی کے مقدمے میں ایک اور شخص کو مہینوں تک قانونی اذیت میں کیوں رکھا گیا اور پھر ثبوت نہ ہونے پر کیوں چھوڑا گیا؟ یہ سوال معمولی نہیں؛ یہ ثابت کرتا ہے کس طرح پاکستان حقیقی بلوچ رہنماؤں کو کس طرح جعلی اور بے بنیاد کیسز میں عمر قید کا سزا سنا کر بلوچ قوم سے اپنے نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ جس کیس میں پہلے ضمانتیں موجود تھیں، جس کیس میں واضح ثبوت موجود نہیں تھے، اسے اچانک کوئٹہ کیوں منتقل کیا گیا؟ اسے ایسے ماحول میں کیوں لے جایا گیا جہاں فیصلہ مقدمے سے پہلے لکھا جا چکا تھا؟ فروری میں اس کیس کو جس انداز سے منتقل کیا گیا، اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس نے ثابت کر دیا کہ مقصد سچ تک پہنچنا نہیں تھا؛ مقصد صرف ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور شاہ جی سبغت اللہ بلوچ کو سزا سنانا تھا۔ اس کے بعد ایک نیا ڈرامہ رچایا گیا۔ مقدمے کو عام، کھلی اور شفاف عدالتی کارروائی کے بجائے ایک ایسے فیس لیس، بند اور غیر شفاف ٹرائل میں بدل دیا گیا جہاں انصاف کی روح کو کمرے کمرے میں تقسیم کر کے دفن کر دیا گیا۔ ایک کمرے میں بی وائی سی کے قید رہنماء، ایک کمرے میں وکلا، ایک کمرے میں دوسرے افراد، ایک کمرے میں گواہ؛ مگر کسی کو کسی سے مؤثر رابطے کی اجازت نہیں۔ وکلا کو اپنے مؤکلوں سے آزادانہ مشورے کا حق نہیں۔ گواہوں پر مکمل جرح کا حق نہیں۔ صفائی پیش کرنے کا حقیقی موقع نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس مقدمے میں وکیل آزاد نہ ہو، جس پر الزام ہے اسے اپنے دفاع کا حق نہیں، گواہ جرح سے محفوظ رکھے جائیں، اور کارروائی عوامی نگرانی سے چھپائی جائے، اسے ٹرائل کیسے کہا جا سکتا ہے؟ یہ مقدمہ چلایا نہیں گیا؛ یہ فیصلہ سنانے کے لیے اسٹیج سجایا گیا۔ جب BYC کے رہنماؤں نے اس غیر شفاف عمل کے خلاف احتجاج کیا، جب انہوں نے ایسے ٹرائل کو ماننے سے انکار کیا جس میں دفاع کا حق ہی چھین لیا گیا تھا، تو عدالت نے ریاستی وکیل مسلط کرنے کی دھمکی دی۔ قانون میں سرکاری وکیل اس وقت دیا جاتا ہے جب کوئی شخص اپنے دفاع کے لیے وکیل نہ رکھ سکے یا خود رضامندی دے۔ مگر یہاں مسئلہ وکیل نہ ہونے کا نہیں تھا؛ مسئلہ یہ تھا کہ بی وائی سی رہنما اپنے منتخب وکلا کے ذریعے شفاف دفاع چاہتے تھے۔ جب انہوں نے سرکاری وکلا کو قبول نہیں کیا، تب بھی ان کے نام پر کارروائی چلائی گئی۔ یہ دفاع نہیں، دفاع کے حق کا مذاق تھا۔ ہم پوچھتے ہیں: جس مقدمے میں جس شخص پر الزام ہے وہ مؤثر طور پر پیش نہ ہو، جس مقدمے میں وکیل کو حقیقی اختیار نہ ہو، جس مقدمے میں جرح نہ ہو، جس مقدمے میں شفافیت نہ ہو، جس مقدمے میں فیصلہ پہلے سے طے ہو، اس مقدمے میں عمر قید کیسے سنائی جا سکتی ہے