@abisshova: Yalan deyirem ikinci vereqide isteyirem yazmag ucun🤣

к
к
Open In TikTok:
Region: AZ
Tuesday 23 June 2026 06:45:26 GMT
48460
3856
21
611

Music

Download

Comments

fatii0.5
FATİMA :
Cənab Ali Baş Komandan Azərbaycan Respublikasının Prezdentə İlham Heydər Oğlu Əliyevin İmzaladığı Sərəncam əsasında Ölkəmiz günü gündən gözəlləşir
2026-06-24 20:05:12
35
zamanov..65
Hüseyn🦦 :
Gizli repost
2026-06-25 11:44:36
5
newreyy
Newrey :
oy
2026-06-23 09:21:24
1
elcanzde
Elcan :
Qce nuray
2026-06-26 13:07:34
0
ekbrwx
Akber :
Repost
2026-06-23 16:06:16
1
axkber
Drujboi :
2026-06-23 08:19:49
0
im_kerem
|{£®️€₼ :
çox şirin reaksiyalar bunlar
2026-06-23 08:25:39
0
orkhanismayilzadee
ʙᴀʙʏᴡʜɪғғʟᴇ :
😂😂😂😂😂😂
2026-06-23 07:16:03
0
To see more videos from user @abisshova, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

🏰 قلعہ دراوڑ کا قدیم کھوہ — روہی چولستان کی پیاسی تاریخ روہی چولستان کے وسیع سنہری صحرا میں واقع قلعہ دراوڑ اپنی عظمت، بلند فصیلوں اور پراسرار تاریخ کے باعث صدیوں سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا آیا ہے۔ اسی عظیم قلعے کی شمال مشرقی دیوار کے باہر ایک قدیم “کھوہ” موجود ہے، جو کبھی صحرا میں زندگی کی سب سے اہم علامت سمجھا جاتا تھا۔ 📍 محلِ وقوع یہ تاریخی کنواں قلعہ دراوڑ کے بیرونی حصے میں شمال مشرقی سمت واقع ہے۔ قلعہ دراوڑ خود احمد پور شرقیہ سے تقریباً 48 کلومیٹر جنوب میں، ضلع بہاولپور کے صحرائے چولستان میں واقع ہے۔ اس مقام کے اردگرد میلوں تک ریت کے ٹیلے پھیلے ہوئے ہیں، جہاں پانی کا ہر قطرہ زندگی کی اہمیت رکھتا تھا۔ 🧭 تاریخی اہمیت قدیم زمانے میں جب روہی چولستان سے تجارتی اور سفری قافلے گزرتے تھے، تو یہ کھوہ ان کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ تھا۔ اونٹوں کے قافلے یہاں قیام کرتے، مشکیزے بھرتے اور مسافر سخت گرمی میں سستانے کے لیے رک جاتے تھے۔ مقامی روایت کے مطابق، یہ کنواں قلعے کے اندر رہنے والے افراد کی روزمرہ ضروریات بھی پوری کرتا تھا۔ 🧱 ساخت اور تعمیر یہ ایک روایتی گول کنواں ہے جسے مقامی زبان میں “کھوہ” کہا جاتا ہے۔ اس کا قطر تقریباً 8 سے 10 فٹ بتایا جاتا ہے جبکہ گہرائی 50 سے 70 فٹ تک سمجھی جاتی ہے۔ اس کی دیواریں سرخ پکی اینٹوں اور چونے سے تعمیر کی گئی تھیں تاکہ صحرائی موسم اور وقت کی سختیوں کو برداشت کیا جا سکے۔ کنویں کے دہانے پر اینٹوں کا ایک مضبوط چبوترہ بھی موجود تھا، جہاں کھڑے ہو کر رسی اور ڈول کے ذریعے پانی نکالا جاتا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق کناروں پر آج بھی رسیوں کے پرانے گھساؤ کے نشانات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ⛲ پانی اور دریائے ہاکڑہ کہا جاتا ہے کہ جب قدیم دریائے ہاکڑہ کے زیرِ زمین پانی موجود تھے، تو یہ کھوہ میٹھے پانی سے بھرا رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ صحرا میں سفر کرنے والے قافلوں کے لیے یہ مقام ایک نعمت سمجھا جاتا تھا۔ آج اگرچہ کنواں زیادہ تر خشک ہو چکا ہے، لیکن بارشوں کے بعد اس میں کچھ پانی جمع ہو جاتا ہے۔ 🐪 صحرا کی خاموش یادگار یہ کھوہ صرف ایک کنواں نہیں بلکہ صحرائی تہذیب، سفر، بقا اور انسانی جدوجہد کی ایک خاموش داستان ہے۔ آج بھی قلعہ دراوڑ آنے والے سیاح اس تاریخی کنویں کو دلچسپی سے دیکھتے ہیں اور ماضی کی اُس زندگی کا تصور کرتے ہیں جب یہی پانی پورے صحرا کی امید ہوا کرتا تھا۔ 📖 حوالہ نوٹ: یہ معلومات مقامی روایات، تاریخی مشاہدات، چولستانی ثقافت اور آثارِ قدیمہ سے متعلق دستیاب عمومی معلومات پر مبنی ہیں۔ #PakistanHeritageInfo #DerawarFort #Cholistan #Bahawalpur #HistoricPakistan ⚠️ اہم نوٹ: یہ تحریر پاکستان کے تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہاں بیان کردہ معلومات کا مقصد صرف آگاہی اور تاریخ سے جُڑاؤ پیدا کرنا ہے، نہ کہ کسی خاص عقیدے یا سوچ کی نمائندگی کرنا۔ ہر قاری اپنی رائے اور عقیدے میں آزاد ہے۔
🏰 قلعہ دراوڑ کا قدیم کھوہ — روہی چولستان کی پیاسی تاریخ روہی چولستان کے وسیع سنہری صحرا میں واقع قلعہ دراوڑ اپنی عظمت، بلند فصیلوں اور پراسرار تاریخ کے باعث صدیوں سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا آیا ہے۔ اسی عظیم قلعے کی شمال مشرقی دیوار کے باہر ایک قدیم “کھوہ” موجود ہے، جو کبھی صحرا میں زندگی کی سب سے اہم علامت سمجھا جاتا تھا۔ 📍 محلِ وقوع یہ تاریخی کنواں قلعہ دراوڑ کے بیرونی حصے میں شمال مشرقی سمت واقع ہے۔ قلعہ دراوڑ خود احمد پور شرقیہ سے تقریباً 48 کلومیٹر جنوب میں، ضلع بہاولپور کے صحرائے چولستان میں واقع ہے۔ اس مقام کے اردگرد میلوں تک ریت کے ٹیلے پھیلے ہوئے ہیں، جہاں پانی کا ہر قطرہ زندگی کی اہمیت رکھتا تھا۔ 🧭 تاریخی اہمیت قدیم زمانے میں جب روہی چولستان سے تجارتی اور سفری قافلے گزرتے تھے، تو یہ کھوہ ان کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ تھا۔ اونٹوں کے قافلے یہاں قیام کرتے، مشکیزے بھرتے اور مسافر سخت گرمی میں سستانے کے لیے رک جاتے تھے۔ مقامی روایت کے مطابق، یہ کنواں قلعے کے اندر رہنے والے افراد کی روزمرہ ضروریات بھی پوری کرتا تھا۔ 🧱 ساخت اور تعمیر یہ ایک روایتی گول کنواں ہے جسے مقامی زبان میں “کھوہ” کہا جاتا ہے۔ اس کا قطر تقریباً 8 سے 10 فٹ بتایا جاتا ہے جبکہ گہرائی 50 سے 70 فٹ تک سمجھی جاتی ہے۔ اس کی دیواریں سرخ پکی اینٹوں اور چونے سے تعمیر کی گئی تھیں تاکہ صحرائی موسم اور وقت کی سختیوں کو برداشت کیا جا سکے۔ کنویں کے دہانے پر اینٹوں کا ایک مضبوط چبوترہ بھی موجود تھا، جہاں کھڑے ہو کر رسی اور ڈول کے ذریعے پانی نکالا جاتا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق کناروں پر آج بھی رسیوں کے پرانے گھساؤ کے نشانات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ⛲ پانی اور دریائے ہاکڑہ کہا جاتا ہے کہ جب قدیم دریائے ہاکڑہ کے زیرِ زمین پانی موجود تھے، تو یہ کھوہ میٹھے پانی سے بھرا رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ صحرا میں سفر کرنے والے قافلوں کے لیے یہ مقام ایک نعمت سمجھا جاتا تھا۔ آج اگرچہ کنواں زیادہ تر خشک ہو چکا ہے، لیکن بارشوں کے بعد اس میں کچھ پانی جمع ہو جاتا ہے۔ 🐪 صحرا کی خاموش یادگار یہ کھوہ صرف ایک کنواں نہیں بلکہ صحرائی تہذیب، سفر، بقا اور انسانی جدوجہد کی ایک خاموش داستان ہے۔ آج بھی قلعہ دراوڑ آنے والے سیاح اس تاریخی کنویں کو دلچسپی سے دیکھتے ہیں اور ماضی کی اُس زندگی کا تصور کرتے ہیں جب یہی پانی پورے صحرا کی امید ہوا کرتا تھا۔ 📖 حوالہ نوٹ: یہ معلومات مقامی روایات، تاریخی مشاہدات، چولستانی ثقافت اور آثارِ قدیمہ سے متعلق دستیاب عمومی معلومات پر مبنی ہیں۔ #PakistanHeritageInfo #DerawarFort #Cholistan #Bahawalpur #HistoricPakistan ⚠️ اہم نوٹ: یہ تحریر پاکستان کے تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہاں بیان کردہ معلومات کا مقصد صرف آگاہی اور تاریخ سے جُڑاؤ پیدا کرنا ہے، نہ کہ کسی خاص عقیدے یا سوچ کی نمائندگی کرنا۔ ہر قاری اپنی رائے اور عقیدے میں آزاد ہے۔

About