@kamranaslam3717: صرف اللّٰہ کی مدد اور تعاون سے مجھے اس ویڈیو سے یہ وضاحت ہوئی ہے کہ سورۃ ص (آیات 41 تا 44) کی روشنی میں حضرت ایوبؑ کی آزمائش اور اس سے نکلنے کے عمل کا ایک منفرد نفسیاتی اور روحانی تجزیہ پیش کرتی ہے شیطان کا حضرت ایوبؑ کو "مَس" کرنا دراصل انسان کو لاحق ہونے والی نفسیاتی و ذہنی تکلیف اور وہم ہے ... انسان زندگی کے مختلف منفی واقعات کے چھوٹے چھوٹے حصوں (Portions) کو جوڑ کر اپنے ذہن میں ایک فرضی خوف یا مہیب مکر و فریب کا جال بناتا ہے، جسے "Chimera" (ھوّا یا وہم) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وہم انسان کو شدید باطنی تکلیف میں مبتلا رکھتا ہے۔ اس شیطانی وہم سے نکلنے کے لئے انسان کو قرآنی آیات کی حکمت، پختہ ارادے اور اللّٰہ سے کئے گئے سچے عہد کے ذریعے اس خوف پر "ضرب" لگانی چاہیے، بالکل ویسے ہی جیسے حضرت ایوبؑ نے آیات کے زریعے صبر اور استقامت سے اس مرحلے کو عبور کیا۔ شیطان انسان کو کوئی ایک مکمل مہیب شکل دکھا کر نہیں ڈراتا، بلکہ وہ زندگی کے مختلف حالات سے متفرق منفی باتیں (جیسے شیر کا منہ، بکری کا دھڑ اور سانپ کی دم) اکٹھی کر کے ذہن میں ایک "ھوّا" کھڑا کر دیتا ہے، جس کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی۔ 'اُرۡكُضۡ بِرِجۡلِكَ' کے دو پہلو بیان کئے گئے ہیں۔ ایک ظاہری (ڈپریشن کے خاتمے کے لیے چہل قدمی/Walk کرنا) اور دوسرا باطنی (مردانہ وجاہت یا مضبوط کردار کے ساتھ ان قرآنی آیات کو بار بار دہرانا جو اس وہم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں) ... قرآنی لفظ 'ضِغۡثًا' کا مفہوم "وہم یا ھوّا" لے کر یہ سمجھایا گیا ہے کہ اپنے اس فرضی خوف کو پہچانیں (Identify کریں) اور متعلقہ قرآنی آیات کے ساتھ اس پر کاری ضرب لگائیں ... جب انسان پر آیات کی وضاحت ہو جائے اور وہ اللّٰہ سے سیدھی راہ پر چلنے کا وعدہ کرے، تو اس پر قائم رہے۔ شیطانی وسوسوں کے دوبارہ آنے پر اپنے عہد سے پیچھے نہ ہٹے (جھوٹا حلف نہ لے)، ورنہ وہم کا یہ جال کبھی نہیں ٹوٹے گا .... "ہم سب نے اپنی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی ذاتی 'ھوّا' یا وہم پال رکھا ہے جو ہمیں اندر ہی اندر تکلیف دیتا ہے۔ اس سے نکلنے کا طریقہ یہ ہے کہ قرآنی آیات کو نماز میں اور ویسے بھی بار بار دھرانے اور حکمت کے ذریعے اس خوف کا تانا بانا بکھیر دیا جائے، پختہ ایمان کے ساتھ اس پر قائم رہا جائے، اور حضرت ایوبؑ کی طرح آیات کے زریعے صبر کا دامن تھام کر اللّٰہ کے بہترین اور وفادار بندے بننے کے لئے آیات کے زریعے جہاد / جدوجہد کی جائے۔"