سبحان اللہ ایک خوبرو حسینہ جو مجھ پر تباہ تھی رنگوں میں یوں ڈھلی تھی کہ کو سے قضا تھی میں چاہتا تھا اس کو یہ بتلا کہ دیکھ لوں نادان اس حسین کو سمجھا کے دیکھ لی میں نے اسے کہا تم معصوم بڑی ہو نادان ہو کم ازل ہو نازک بھی فری ہو ہوتا ہے عشق ظالم تم کھلتی گلی ہو رسوائیاں ہیں اس میں جس راہ چلی ہوگی تم نے تو ابھی دنیا میں دیکھا بھی کچھ نہیں اچھا ہوں یا برا ہوں میں جانا بھی کچھ نہیں مانو میری تو دور رہو عشق برا ہے لیلی کوہیر کو بھی یہی درد ملا ہے ناداں ہو تم تو دیکھو تمہیں علم نہیں ہے پاگل یہ حقیقت تھا کوئی فلم نہیں ہے دیکھو یہ عشق عشق تو کچھ بھی نہیں ہوتا ایک راہ دشت ہے جہاں پانی نہیں ہوتا کہنے لگی وہ مجھ سے یہ باتیں نہ بناؤ سمجھاؤ نہ تم مجھ کو مجھے اپنا بناؤ معصوم میرے دل میں کیوں خواہش جگا گئے میں کیا کروں جو تم میرے اس دل کو بھا گئے وہ ضد سے اڑ گئی تھی کہ بس مجھ کو پیار دو نفرت ہو دل لگی ہو یا جو بھی ہو وار دو میری تو ایک بات بھی اس نے نہیں سنی اس کی یہ دل لگی تھی میری جان بے بنی میں نے اسے کہا کہ ہم معصوم سی لڑکی تو جانتی نہیں ہے ذرا میری زندگی میں ایک ہوس پرست ہوں تو مجھ سے بے خبر ملنے کی مجھ سے اگئی ہے کچھ تو ہوش کر نہ تجھ کو نوچ کھاؤں گا کچھ خود پہ درس کا پاکیزگی کو اپنی ان ناپاک نہ بنا تو چاند نہیں ہے چاند کی تاروں کی جان جاں تجھ کو بجھا نہ دے کہیں بے درد یہ جہاں کہنے لگی کہ جو بھی ہو تم ہو زندگی سہ لوں گی درد عشق میں تم میری بندگی اسان تم بھی ضدی ہو پھر تم سے میں بڑی میں نے بھی اسے سچ کے جانے کا کہہ دیا کرتا بھی اور کیا فرمانے کا دن