@becute805: #bìnhminh #xuhuong

Tdunggg🐬
Tdunggg🐬
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 23 June 2026 10:07:53 GMT
3620
163
3
48

Music

Download

Comments

deocogimasoi01
𓍼 :
đi mấy h thế ạ
2026-06-26 15:27:32
1
daonhat08
ô 𝐭ô 𝐤ê... :
All world cup đê
2026-06-23 11:39:26
0
To see more videos from user @becute805, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت تیار کی گئی آٹھویں جماعت کی آرٹ ایجوکیشن کی کتاب ’’کیرتی‘‘ کے ایک باب میں 1999 کی بالی ووڈ فلم ’’ہم دل دے چکے صنم‘‘ کے مقبول گانے ’’نمبوڑا، نمبوڑا‘‘ کے مکمل بول شائع کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب میں اس گانے کو راجستھانی لوک گیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، حالانکہ یہ فلم میں اداکارہ ایشوریہ رائے اور سلمان خان پر فلمایا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق صرف یہی نہیں بلکہ فلم ’’مشن کشمیر‘‘ کا معروف گانا ’’رند پوش مال‘‘ بھی اسی نصابی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے سوال اٹھایا کہ اڑیسہ جیسی ثقافتی طور پر مالا مال ریاست میں مقامی لوک ورثے کو فروغ دینے کے بجائے بالی ووڈ کے فلمی گانوں کو نصاب میں کیوں شامل کیا گیا۔ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کرگیا جب یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ نئی نصابی کتابوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار 678 غلطیاں موجود ہیں۔ اس انکشاف کے بعد ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال سنگین ہونے پر اڑیسہ کے وزیراعلیٰ موہن چرن مانجھی اور وزیر تعلیم نتیانند گونڈ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (SCERT) کے سینئر افسران کو معطل کر دیا، جبکہ مزید چھ افسران کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ ریاستی حکومت نے مستقبل میں ایسی کوتاہیوں سے بچنے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی نے نصابی کتابوں کی جانچ پڑتال کے مؤثر نظام کے لیے ’’کوالٹی ایشورنس سیل‘‘ قائم کرنے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ آئندہ تعلیمی مواد کی تیاری میں اس نوعیت کی غلطیوں کو روکا جا سکے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت تیار کی گئی آٹھویں جماعت کی آرٹ ایجوکیشن کی کتاب ’’کیرتی‘‘ کے ایک باب میں 1999 کی بالی ووڈ فلم ’’ہم دل دے چکے صنم‘‘ کے مقبول گانے ’’نمبوڑا، نمبوڑا‘‘ کے مکمل بول شائع کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب میں اس گانے کو راجستھانی لوک گیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، حالانکہ یہ فلم میں اداکارہ ایشوریہ رائے اور سلمان خان پر فلمایا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق صرف یہی نہیں بلکہ فلم ’’مشن کشمیر‘‘ کا معروف گانا ’’رند پوش مال‘‘ بھی اسی نصابی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے سوال اٹھایا کہ اڑیسہ جیسی ثقافتی طور پر مالا مال ریاست میں مقامی لوک ورثے کو فروغ دینے کے بجائے بالی ووڈ کے فلمی گانوں کو نصاب میں کیوں شامل کیا گیا۔ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کرگیا جب یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ نئی نصابی کتابوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار 678 غلطیاں موجود ہیں۔ اس انکشاف کے بعد ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال سنگین ہونے پر اڑیسہ کے وزیراعلیٰ موہن چرن مانجھی اور وزیر تعلیم نتیانند گونڈ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (SCERT) کے سینئر افسران کو معطل کر دیا، جبکہ مزید چھ افسران کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ ریاستی حکومت نے مستقبل میں ایسی کوتاہیوں سے بچنے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی نے نصابی کتابوں کی جانچ پڑتال کے مؤثر نظام کے لیے ’’کوالٹی ایشورنس سیل‘‘ قائم کرنے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ آئندہ تعلیمی مواد کی تیاری میں اس نوعیت کی غلطیوں کو روکا جا سکے۔

About