Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@becute805: #bìnhminh #xuhuong
Tdunggg🐬
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 23 June 2026 10:07:53 GMT
3620
163
3
48
Music
Download
No Watermark .mp4 (
5.22MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
5.22MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
𓍼 :
đi mấy h thế ạ
2026-06-26 15:27:32
1
ô 𝐭ô 𝐤ê... :
All world cup đê
2026-06-23 11:39:26
0
To see more videos from user @becute805, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Nhưng người khổ là tao :))
Povero piatto 😭 #backstage #dietrolequinte #allaterza #allaterza
اهخخخ مشاااعر 😢#اكسبلور #مياسه_محمد💓 #مياسه_محمد💓 #كريستيانو #النصر_السعودي
Medhanealem #creatorsearchinsights #ኦርቶዶክስ_ተዋህዶ_ፀንታ_ለዘለዓለም_ትኑር #viral_video #fyp @@kal 27 @ⓂÏ🅒︎к㉫ƴ❤️ #creatorssightinsights
Это Казахстан 😍🇰🇿❤️
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت تیار کی گئی آٹھویں جماعت کی آرٹ ایجوکیشن کی کتاب ’’کیرتی‘‘ کے ایک باب میں 1999 کی بالی ووڈ فلم ’’ہم دل دے چکے صنم‘‘ کے مقبول گانے ’’نمبوڑا، نمبوڑا‘‘ کے مکمل بول شائع کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب میں اس گانے کو راجستھانی لوک گیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، حالانکہ یہ فلم میں اداکارہ ایشوریہ رائے اور سلمان خان پر فلمایا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق صرف یہی نہیں بلکہ فلم ’’مشن کشمیر‘‘ کا معروف گانا ’’رند پوش مال‘‘ بھی اسی نصابی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے سوال اٹھایا کہ اڑیسہ جیسی ثقافتی طور پر مالا مال ریاست میں مقامی لوک ورثے کو فروغ دینے کے بجائے بالی ووڈ کے فلمی گانوں کو نصاب میں کیوں شامل کیا گیا۔ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کرگیا جب یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ نئی نصابی کتابوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار 678 غلطیاں موجود ہیں۔ اس انکشاف کے بعد ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال سنگین ہونے پر اڑیسہ کے وزیراعلیٰ موہن چرن مانجھی اور وزیر تعلیم نتیانند گونڈ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (SCERT) کے سینئر افسران کو معطل کر دیا، جبکہ مزید چھ افسران کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ ریاستی حکومت نے مستقبل میں ایسی کوتاہیوں سے بچنے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی نے نصابی کتابوں کی جانچ پڑتال کے مؤثر نظام کے لیے ’’کوالٹی ایشورنس سیل‘‘ قائم کرنے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ آئندہ تعلیمی مواد کی تیاری میں اس نوعیت کی غلطیوں کو روکا جا سکے۔
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy