@sadiqpost: جون 1958 کی سہ پہر قدرت اللہ شہاب اپنے دفتر میں بیٹھے کام کر رہے تھے۔ صدر اسکندر مرزا حسب معمول پورے ایک بجے اپنے کمرے سے اٹھ کر قدرت اللہ شہاب کے دفتر کی کھڑکی کے پاس آئے اور پوچھا۔ ”کوئی ضروری کام باقی تو نہیں؟” شہاب نے نفی میں جواب دیا تو اسکندر مرزا خدا حافظ کہہ کر ایوان صدر میں اپنے رہائشی حصے کی طرف روانہ ہو گئے۔ تھوڑی دور چل کر وہ اچانک رکے اور مڑ کر تیز تیز قدم اٹھاتے واپس قدرت اللہ شہاب کے کمرے میں آ گئے۔ . کمرے میں داخل ہوتے ہی بولے۔ "میں ایک ضروری بات تو بھول ہی گیا”۔ یہ کہہ کر انہوں نے قدرت اللہ شہاب کی میز سے پریذیڈنٹ ہاؤس کی اسٹیشنری کا ایک ورق اٹھایا اور وہیں کھڑے کھڑے وزیراعظم فیروز خان نون کے نام ایک دوسطری نوٹ لکھا کہ ہماری باہمی متفقہ رائے کے مطابق بری افواج کے کمانڈر ان چیف کے طور پر جنرل محمد ایوب خان کی ملازمت میں دو سال کی توسیع کے احکامات فوری طور پر جاری کردیے جائیں۔ اس پر انہوں نے most immediate کا لیبل اپنے ہاتھوں سے پن کیا اور قدرت اللہ شہاب کو حکم دیا کہ وہ ابھی خود جا کر یہ نوٹ پرائم منسٹر کو دیں اور ان کے عملے کے حوالے نہ کریں۔ . اس پر شہاب یوں تبصرہ کرتے ہیں۔ یہ مختصر سا پروانہ عجلت اور کسی قدر لاپرواہی کے علام میں لکھا گیا تھا ۔ صدر سکندر مرزا کے ہونٹوں میں لٹکے ہوئے سگریٹ کی راکھ بھی اس پر دو بار گر چکی تھی، لیکن کاغذ کے اس چھوٹے سے پرزے نے ہمارے ملک کی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اگر جون 1958 میں جنرل محمد ایوب خان کی میعاد ملازمت میں دو سال کی توسیع نہ ہوتی پاکستان کی تقدیر کا ستارہ جس انداز سے چمکتا ، اس کا زائچہ تیار کرنے کے لئے کسی خاص علم نجوم کی ضرورت نہیں۔ . 9 جون کو وزیراعظم فیروز خان نون کی طرف سے کمانڈر انچیف پاک آرمی کے نام مندرجہ ذیل تار بھیجا گیا۔ . "مجھے بڑی خوشی ہے کہ آپ نے مزید دو برس تک ہماری افواج کے کمانڈر انچیف کے عہدے پر رہنا منظور کرلیا ہے. آپ ابھی بہت کم عمر ہیں۔ آپ کی عمر ابھی صرف اکیاون سال ہے۔ لیکن تجربے اور قابلیت میں نہایت پختہ کار. پاکستان موجودہ حالت میں آپ کی خدمات سے محرومی کا نقصان کسی طرح برداشت نہیں کرسکتا اور مجھے یقین ہے کہ پہلے کی طرح ملک کا دفاع آپ کے ہاتھوں محفوظ رہے گا۔" . کمانڈر انچیف کا جواب: "میں اپنی ملازمت کی توسیع پر آپ کے تعریفی اور حوصلہ افزا پیغام کا شکر گزار ہوں. ذاتی طور پر مجھے سبکدوشی پر بھی ویسی ہی خوشی ہوتی جیسی اس عظیم الشان فوج کی خدمت کا مزید موقع ملنے پر ہوئی ہے جس کی تعمیر میری عمر بھر کی تمنا رہی ہے. بہرحال میں نے اکتیس برس تک اس کا نمک کھایا ہے اور میں نے جو کچھ حاصل کیا ، اس کی بدولت ہے اور وہ اس کی ملکیت ہے۔ آپ مطمئن رہیں ۔ میری بہترین خدمات فوج اور اس کے ذریعے ملک کی خدمت کے لئے وقف رہیں گی ۔" #urdustories #hindistories #sadiqpost #digitaltehreer
The nation and country had it's drastic sad result in 1971.
2026-06-24 15:46:41
0
user7761274554906 :
How. much. you. charge for. this. shirt.
2026-06-24 08:28:08
2
Shah g :
ye he se Pakistan ki tabahi ka aghaz hua 😢😢😢
2026-06-24 05:04:26
6
nadeemtarique3 :
If Ayoob khan had not been there someone else would have performed his duty.
2026-06-23 19:11:46
2
m.zeb_1 :
or pher skander Mirza line kat gae
2026-06-24 07:06:37
1
Abu MZ :
2026-06-24 20:01:51
1
rasheeddadamashori :
🥰🥰🥰
2026-06-24 05:09:32
1
Naveed Jan :
😂
2026-06-25 15:28:18
0
ikram :
👍👍👍
2026-06-24 09:36:27
0
mrriaz :
🥺
2026-06-24 07:22:22
0
ikram :
🌹🌹🌹
2026-06-24 09:36:28
0
⚔️💎(AFFAN)💎⚔️ :
❤️❤️❤️
2026-06-23 12:11:09
0
Shahzad Zafar :
Dear before comments on the role of Ayuob khan pl check the behaviour of civil politicians of the time. Within 11 years more than 6 PM rule Pakistan. Some were only for 4 months. Truly, all were corrupt, still the situation is the same for their own interest they like to play in the hand of the Army.
2026-06-25 07:08:25
0
To see more videos from user @sadiqpost, please go to the Tikwm
homepage.