@ladla.babu95: ایرانی صدر کے پاکستان میں انٹر ہوتے ہی پاکستانی ایف سولہ نے انہیں اپنے حصار میں لے کر سلامی دی تو اس سے یاد آیا کہ امریکیوں کے چالیس سال یہی نخرے ختم نہیں ہوتے تھے کہ ہمارے ایف 16 فلاں مقصد کے لئے استعمال نہیں کرسکتے ان سے فلاں کام نہیں لے سکتے وغیرہ وغیرہ پھر وقتا فوقتا اچانک یہ بھی کہہ دیتے "گنتی کراؤ تاکہ یقین آسکے کہ تم نے ان میں سے کوئی چین کو نہیں دیدیا" آج کل پاکستان امریکیوں کو یہ مزہ چکھا رہا ہے کہ جب بھی ایران سے کوئی اہم مہمان آتا ہے ایف 16 کو فضائی سیکیورٹی پر مامور کردیا جاتا ہے ورنہ پاکستان کا ٹریک ریکارڈ درج ذیل ہے 2015 میں چائنیز صدر شی جن پنگ، 2021 میں تاجک صدر امام علی رحمانوف، 2025 میں انڈنیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، اور 2025 میں ہی دبئی کے شیخ لہولہان کو پاکستان کے جے ایف 17 طیاروں نے فضائی حصار مہیا کیا تھا ہم کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ رہے ہیں 🙂 پاکستان ہمیشہ زندہ باد