@whsal1: #foryou #fyp #foryoupage #التوحيد #لااله_الا_الله

ف
ف
Open In TikTok:
Region: TR
Tuesday 23 June 2026 16:34:26 GMT
11598
886
13
66

Music

Download

Comments

naseer0511
naseer511🇸🇦 :
طيب اذا كنت أخاف الله حقاً حتى وان كنت أُذنب وأتوب ؟
2026-06-25 01:55:16
5
user11449690611446
وهم :
نعم ولا كلها الاثنين 😁
2026-06-25 10:31:38
0
_abufiras_
أبو فِراس :
( انما نطعمكم لوجه الله لا نريد منكم جزاء ولا شكروا * انا نخاف من ربنا يوما عبوسا قمطريرا * فوقاهم الله شر ذلك اليوم ولقاهم نضرة وسرورا)
2026-06-24 22:20:43
3
user1227549812327
بشير عبد الله :
بسم الله الرحمن الرحيم قل اني أخاف إن عصيت ربي عذاب يوم عظيم
2026-06-25 07:09:48
1
user622461721281
مهيمن . :
لا أخافه لأنه أرحم الراحمين الأفضل قول هل تتقي الله ؟ أفضل من كلمة هل تخافه
2026-06-25 13:50:56
1
m_k_6_24
لاابالي :
❤️❤️❤️
2026-06-24 20:08:52
1
user63881590209654
فهد :
❤️❤️❤️
2026-06-24 23:01:27
0
saya2108a
saya :
🌹🌹🌹
2026-06-25 11:05:25
0
To see more videos from user @whsal1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


"ہاتھ میں معافی، سامنے قبر" 🖤🥀 بعض اوقات انسان معافی مانگنے میں اتنی دیر کر دیتا ہے کہ معافی باقی رہ جاتی ہے اور جس سے مانگنی ہوتی ہے وہ نہیں رہتا۔ پھر دل میں ایک عجیب سی ویرانی بس جاتی ہے۔ ایسی ویرانی جسے نہ وقت بھر سکتا ہے، نہ مصروفیت، نہ نئے لوگ۔ بس ایک احساس ساتھ رہ جاتا ہے کہ کچھ لفظ تھے جو وقت پر کہہ دینے چاہیئے تھے۔ کچھ ہاتھ تھے جنہیں وقت پر تھام لینا چاہیئے تھا۔ کچھ رشتے تھے جنہیں انا سے زیادہ اہم سمجھ لینا چاہیئے تھا۔ پھر ایک دن خبر آتی ہے اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اتنی خاموشی سے کہ یقین ہی نہیں آتا۔ دل بار بار یہی سوچتا رہتا ہے کہ ابھی دروازہ کھلے گا، ابھی فون آئے گا، ابھی بات ہو جائے گی، مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ اس کے بعد انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور وہ معذرتیں جو سینے میں دفن رہ گئیں۔ سب سے زیادہ تکلیف جدائی نہیں دیتی، تکلیف وہ باتیں دیتی ہیں جو کہی نہ جا سکیں۔ وہ محبت جو ظاہر نہ ہو سکی۔ وہ افسوس جو دل میں رہ گیا۔ وہ ایک لفظ "معاف کر دو" جو ہونٹوں تک آ کر واپس لوٹ گیا۔ پھر برسوں بعد بھی جب اُس شخص کا خیال آتا ہے تو دل کے کسی کونے میں ایک درد جاگ اٹھتا ہے۔ ایسا درد جو رلاتا نہیں، بس اندر ہی اندر انسان کو کھاتا رہتا ہے۔ میں نے جانا ہے کہ کچھ معذرتیں واقعی میت کے ماتھے پر بوسے کی مانند ہوتی ہیں۔ ان میں محبت بھی ہوتی ہے، ندامت بھی، آنسو بھی اور سچائی بھی... مگر وہ سب کچھ اُس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب سامنے والا انہیں سننے کے لیے موجود نہ ہو۔ پھر انسان اپنی ہی یادوں کے قبرستان میں کھڑا رہ جاتا ہے، ہاتھ میں معافی لیے، آنکھوں میں نمی لیے، اور دل میں ایک ایسا پچھتاوا لیے جو شاید آخری سانس تک ساتھ رہتا ہے۔

About