@userrrr_0011120: #kesfet

𝓔𝓶𝓲𝓵𝔂𝓪
𝓔𝓶𝓲𝓵𝔂𝓪
Open In TikTok:
Region: DE
Tuesday 23 June 2026 17:21:30 GMT
26812
1280
13
82

Music

Download

Comments

aksana.026
𝐀𝐤𝐬𝐚𝐧𝐚🌷 :
söhbət qurubu qururam gəlmək istəyən???
2026-06-24 09:59:27
7
raul_2143
bagladı :
ill❤️
2026-06-23 17:23:44
0
nuriyev_bayram
. :
seri yaradan var
2026-07-08 07:14:57
0
To see more videos from user @userrrr_0011120, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ طلبہ اپنے جائز حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کر رہے تھے۔ اسی احتجاج کے دوران طلبہ نے فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی فیکلٹی ممبر کو کیمپس کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ڈاکٹر عنا عطا نے کیمپس کے اندر جانے کی کوشش کی، جس پر خواتین طالبات نے ان کا راستہ روکا۔ اس دوران کسی بھی طالب علم نے ڈاکٹر عنا عطا کو نہ گالی دی، نہ ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور نہ ہی کسی نے انہیں ہاتھ لگایا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عنا عطا نے اپنے شوہر، جو ایک فوجی افسر ہیں، کو فون کیا۔ فوجی افسر کیمپس پہنچے اور کسی سے بات چیت یا صورتحال کے بارے میں پوچھ گچھ کیے بغیر براہِ راست طلبہ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا، جس کے بعد یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ طلبہ کا مقصد کسی فیکلٹی ممبر کی بے عزتی کرنا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے جائز حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ کسی نے ڈاکٹر عنا عطا کو گالی نہیں دی اور نہ ہی کسی نے انہیں ہاتھ لگایا۔ اگر ان کا راستہ روکا گیا تو وہ صرف اس لیے کہ طلبہ نے احتجاج کے دوران کسی بھی فیکلٹی ممبر کو کیمپس کے اندر داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ #repost #fyp #studentsrightsjirga #sarhaduniversity #geonews #pakarmy #colonel #pakistani_tik_tok
حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ طلبہ اپنے جائز حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کر رہے تھے۔ اسی احتجاج کے دوران طلبہ نے فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی فیکلٹی ممبر کو کیمپس کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ڈاکٹر عنا عطا نے کیمپس کے اندر جانے کی کوشش کی، جس پر خواتین طالبات نے ان کا راستہ روکا۔ اس دوران کسی بھی طالب علم نے ڈاکٹر عنا عطا کو نہ گالی دی، نہ ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور نہ ہی کسی نے انہیں ہاتھ لگایا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عنا عطا نے اپنے شوہر، جو ایک فوجی افسر ہیں، کو فون کیا۔ فوجی افسر کیمپس پہنچے اور کسی سے بات چیت یا صورتحال کے بارے میں پوچھ گچھ کیے بغیر براہِ راست طلبہ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا، جس کے بعد یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ طلبہ کا مقصد کسی فیکلٹی ممبر کی بے عزتی کرنا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے جائز حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ کسی نے ڈاکٹر عنا عطا کو گالی نہیں دی اور نہ ہی کسی نے انہیں ہاتھ لگایا۔ اگر ان کا راستہ روکا گیا تو وہ صرف اس لیے کہ طلبہ نے احتجاج کے دوران کسی بھی فیکلٹی ممبر کو کیمپس کے اندر داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ #repost #fyp #studentsrightsjirga #sarhaduniversity #geonews #pakarmy #colonel #pakistani_tik_tok

About