@mt..p: كتبت اسمك على الحيطان#جبراتت📮 #اكسبلورexplore #fyp

إيفـل🚸𝑬𝑰𝑭𝑭𝐂𝐋🍒
إيفـل🚸𝑬𝑰𝑭𝑭𝐂𝐋🍒
Open In TikTok:
Region: SA
Wednesday 24 June 2026 05:41:25 GMT
160384
10175
260
1076

Music

Download

Comments

qpppqq85
Qpp PQQ :
.:اقسم بالذي خلقني سأكتب :الحمدلله
2026-06-24 22:01:35
2
user68187881653653
ڛعيد ٱࢪڜيدي 🇸🇦 ♡♕🇸🇩 :
:تـم اخـتـيـاࢪك لـلصـلاة عـلـى الـنـبـي❣️🔃🥺
2026-06-24 16:54:33
36
zeinah747580
عيون تدمع💔 :
متى بنسي الذكريات ويخف وجعي اختنقت من كثرالوجع💔💔
2026-06-24 14:56:45
22
user35072963158120
user35072963158120 :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰 ماشاء الله تبارك الله صوت جميل جداً 🥰🥰🥰🥰 الله يوفقك ويحقق لك كل ما تتمناه 🥰🥰🥰🥰🥰🥰 مبدع والله احسنت الاختيار 🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-06-24 17:46:04
7
user761552956257
صمتنا لغتنا. :
اقسم بالذي خلقني سأكتب :الحمدلله
2026-06-24 21:15:03
3
akrm5835
💔نبض ❤الزمن :
هنا انكسر 💔 انا واطيح
2026-06-24 18:34:11
2
samr36357xq
samr36357xq :
ماشاء لله صوته حلوبس لوعادكان تلوه كتاب الله
2026-06-24 14:58:39
9
user2061377766879
ℳ𝒪ℋ𝒜ℳℳℰ𝒟 :
طييييب بالله ايش اسمه المفني ذااا
2026-06-24 17:00:04
2
user4478778886174
عاشق المستحيل حساب احتياطي🤟 :
قلب ومتابعه لعيونك🌹🥀
2026-06-24 14:40:29
5
user199028826612
ابو محمد الوادعي :
ياويل حالي 🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-06-24 18:50:19
1
a_m_h_773
عبدالله مقبل :
2026-06-24 18:41:41
1
beautifulname073
Beautiful name😎😎37 :
علو
2026-06-24 18:12:30
1
rrrrrr.farah
عبدالجبار ساتر :
ماشاء الله تبارك الله 😳😳😳😳😳😳🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-06-24 18:14:17
1
arabic_134
𓆰𝐀𝐋𝐀𝐑𝐁𝐈: 𝟕𝟏𝟏 :
مبدع
2026-06-24 15:12:20
1
eqertyujddyujjbg
كبريائي عزتي🇾🇪 :
ما شاء الله صوتك حلو😊
2026-06-24 16:59:17
3
aki_5566
عقيل Aqeel :
2026-06-24 16:53:19
1
...dk.foc
هشام رشيد. حمود العواضيDk Foc :
الله عليك الله مشاءالله تبارك الله
2026-06-24 20:40:35
1
2025m236
ُ :
2026-06-24 17:28:51
1
krkrhmxccvs
ابو نوح :
ابداااع
2026-06-24 12:04:38
2
user9444534219845
القياده يوسف العهامي :
ربي يسعدك
2026-06-24 16:37:52
1
To see more videos from user @mt..p, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اپنی مشہور کتاب Exit, Voice and Loyalty میں Albert O. Hirschman نے ایک گہرا مشاہدہ پیش کیا تھا: جب ادارے زوال کا شکار ہوتے ہیں تو بہترین لوگ سب سے پہلے خرابی کو محسوس کرتے ہیں، اور اکثر وہی سب سے پہلے وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ (Wikipedia⁠) یہ محض ایک معاشی نظریہ نہیں، بلکہ ریاستوں کے عروج و زوال کو سمجھنے کی ایک کلید ہے۔ جب کسی ملک میں اہل افراد، سرمایہ کار، سائنسدان، ڈاکٹر، اساتذہ اور نوجوان مسلسل باہر جانے لگیں تو عام طور پر حکمران اس کو کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ ترسیلاتِ زر کے اعداد و شمار دکھاتے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر گنواتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ درست چل رہا ہو تو پھر سب سے زیادہ قابل لوگ جانے پر کیوں آمادہ ہیں؟ ہر ہجرت کرنے والا شخص اپنے ساتھ صرف ایک سوٹ کیس نہیں لے جاتا۔ وہ اپنے ساتھ علم، تجربہ، خواب، توانائی، کاروباری صلاحیت اور آنے والی نسلوں کے امکانات بھی لے جاتا ہے۔ اس نقصان کا حساب کسی بجٹ، کسی جی ڈی پی رپورٹ اور کسی مرکزی بینک کے اعداد و شمار میں نظر نہیں آتا۔ ریاستوں کی اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے شہریوں کے جانے کی عادی ہو جاتی ہیں۔ پہلے ہجرت ایک عارضی رجحان ہوتی ہے، پھر معاشی حکمتِ عملی بن جاتی ہے، اور آخرکار قومی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہے۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں؛ پھر ایک دن سوال بدل جاتا ہے: “تم کس ملک جانا چاہتے ہو؟” یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بحران معیشت سے نکل کر تہذیب کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے بہترین لوگوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہیں، وہ کچھ عرصہ پیسوں سے اپنی کمزوری چھپا سکتی ہیں، لیکن وہ علم، قیادت اور تخلیقی قوت کی کمی کو زیادہ دیر نہیں چھپا سکتیں۔ آخرکار ایک ایسا وقت آتا ہے جب عمارتیں موجود ہوتی ہیں مگر معمار نہیں، ادارے موجود ہوتے ہیں مگر اہل لوگ نہیں، اور سرحدیں موجود ہوتی ہیں مگر مستقبل غائب ہوتا ہے۔ کسی ریاست کے زوال کی سب سے خطرناک علامت غربت نہیں ہوتی؛ وہ دن ہوتا ہے جب اس کے نوجوان اپنے وطن کو اپنا مستقبل سمجھنا چھوڑ دیں۔ ##farrukhdall ##Lawyer##SecondPassport##portugal##IstanbulRealEstate
اپنی مشہور کتاب Exit, Voice and Loyalty میں Albert O. Hirschman نے ایک گہرا مشاہدہ پیش کیا تھا: جب ادارے زوال کا شکار ہوتے ہیں تو بہترین لوگ سب سے پہلے خرابی کو محسوس کرتے ہیں، اور اکثر وہی سب سے پہلے وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ (Wikipedia⁠) یہ محض ایک معاشی نظریہ نہیں، بلکہ ریاستوں کے عروج و زوال کو سمجھنے کی ایک کلید ہے۔ جب کسی ملک میں اہل افراد، سرمایہ کار، سائنسدان، ڈاکٹر، اساتذہ اور نوجوان مسلسل باہر جانے لگیں تو عام طور پر حکمران اس کو کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ ترسیلاتِ زر کے اعداد و شمار دکھاتے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر گنواتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ درست چل رہا ہو تو پھر سب سے زیادہ قابل لوگ جانے پر کیوں آمادہ ہیں؟ ہر ہجرت کرنے والا شخص اپنے ساتھ صرف ایک سوٹ کیس نہیں لے جاتا۔ وہ اپنے ساتھ علم، تجربہ، خواب، توانائی، کاروباری صلاحیت اور آنے والی نسلوں کے امکانات بھی لے جاتا ہے۔ اس نقصان کا حساب کسی بجٹ، کسی جی ڈی پی رپورٹ اور کسی مرکزی بینک کے اعداد و شمار میں نظر نہیں آتا۔ ریاستوں کی اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے شہریوں کے جانے کی عادی ہو جاتی ہیں۔ پہلے ہجرت ایک عارضی رجحان ہوتی ہے، پھر معاشی حکمتِ عملی بن جاتی ہے، اور آخرکار قومی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہے۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں؛ پھر ایک دن سوال بدل جاتا ہے: “تم کس ملک جانا چاہتے ہو؟” یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بحران معیشت سے نکل کر تہذیب کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے بہترین لوگوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہیں، وہ کچھ عرصہ پیسوں سے اپنی کمزوری چھپا سکتی ہیں، لیکن وہ علم، قیادت اور تخلیقی قوت کی کمی کو زیادہ دیر نہیں چھپا سکتیں۔ آخرکار ایک ایسا وقت آتا ہے جب عمارتیں موجود ہوتی ہیں مگر معمار نہیں، ادارے موجود ہوتے ہیں مگر اہل لوگ نہیں، اور سرحدیں موجود ہوتی ہیں مگر مستقبل غائب ہوتا ہے۔ کسی ریاست کے زوال کی سب سے خطرناک علامت غربت نہیں ہوتی؛ وہ دن ہوتا ہے جب اس کے نوجوان اپنے وطن کو اپنا مستقبل سمجھنا چھوڑ دیں۔ ##farrukhdall ##Lawyer##SecondPassport##portugal##IstanbulRealEstate

About