@lomei_z207:

lomei_z207
lomei_z207
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 24 June 2026 09:04:49 GMT
5432
150
10
2

Music

Download

Comments

justinadams1679
justinadams1679 :
so I like to know what happened
2026-06-24 18:18:22
1
ericboggs0
ericboggs0 :
Cops that don’t know the constitution should not be cops
2026-06-24 14:20:23
6
gilberto.rojas695
Gilberto Rojas :
It’s called trespassing
2026-06-24 16:04:45
2
fugly.dad5
youngGenx5 :
village ordinance when hes not in the village
2026-06-24 21:07:28
1
mike.ocsich
Mike Ocsich :
cops today are AHs
2026-06-24 15:52:48
1
brianbrinker732
Brian brinker :
over having a fire.
2026-06-24 18:13:26
0
bsd19791
bd :
The man is committing a crime therefore the cop has every right to enter his property
2026-06-24 17:52:18
0
jasonroy2627
jasonroy2627 :
damn cops
2026-06-24 16:11:45
0
kungfumobsters
JamesMosher :
get off his property.
2026-06-25 17:33:02
0
To see more videos from user @lomei_z207, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#ماں کی دعا — اللہ کی رحمت کا سایہ ماں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں کی محبت بے غرض، اس کی شفقت بے مثال اور اس کی دعا دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی وہ صدا ہے جو انسان کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب ساری دنیا انسان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے، تب بھی ماں اپنے بچے کے لیے دعا کے ہاتھ اٹھائے کھڑی ہوتی ہے۔ اسلام میں والدین کی دعا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ترجمہ: ”اور تمہارے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“ (سورۃ الإسراء، آیت 23) ماں کی دعا کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے والدین کی نافرمانی کو بڑے گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) ماں جب اپنے بچے کے لیے دعا کرتی ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ اس میں برسوں کی محبت، قربانی، آنسو اور بے شمار راتوں کی بے خوابی شامل ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے کی کامیابی، صحت، عزت، ایمان اور حفاظت کے لیے اللہ کے حضور التجا کرتی ہے۔ کبھی اس کی خاموش دعا وہ سکون بن جاتی ہے جس کی انسان کو زندگی کے مشکل ترین لمحوں میں ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ دعا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے تابع ہے۔ ہر دعا کا نتیجہ لازماً ہماری خواہش کے مطابق اور اسی وقت ظاہر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور حکمت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے۔ ماں کی زندگی میں اس کی قدر کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اس کی خدمت کرنا، اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اس کی دل آزاری سے بچنا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ صرف ماں سے اپنے لیے دعائیں کروانا کافی نہیں، بلکہ ہمیں بھی اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اور اگر کسی کی ماں دنیا سے رخصت ہو چکی ہو تو اس کے لیے نیکی اور دعا کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے، جن میں نیک اولاد کی دعا بھی شامل ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث 1631) اس لیے ماں کے انتقال کے بعد بھی اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا، صدقہ کرنا اور اس کے ساتھ کیے گئے نیک تعلق کو برقرار رکھنا ایک مسلمان کے لیے باعثِ اجر ہے۔ یہ کہنا کہ ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ کی رحمت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کے قریب ہے، ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے۔ البتہ ماں کی موجودگی واقعی ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر اس کے ہوتے ہوئے کرنی چاہیے۔ اختتامیہ ماں کی دعا کو اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھیں۔ اس کے قدموں میں خدمت کا جذبہ رکھیں، اس کے لبوں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کریں اور اس کی زندگی میں اس کے لیے رحمت و سکون کا سبب بنیں۔ ماں زندہ ہو تو اس کی خدمت کو سعادت سمجھو، اور ماں دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے لیے دعا کو اپنی محبت کا حصہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کی دعاؤں کو ہمارے حق میں خیر و برکت کا ذریعہ بنائے، اور جو مائیں دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
#ماں کی دعا — اللہ کی رحمت کا سایہ ماں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں کی محبت بے غرض، اس کی شفقت بے مثال اور اس کی دعا دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی وہ صدا ہے جو انسان کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب ساری دنیا انسان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے، تب بھی ماں اپنے بچے کے لیے دعا کے ہاتھ اٹھائے کھڑی ہوتی ہے۔ اسلام میں والدین کی دعا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ترجمہ: ”اور تمہارے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“ (سورۃ الإسراء، آیت 23) ماں کی دعا کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے والدین کی نافرمانی کو بڑے گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) ماں جب اپنے بچے کے لیے دعا کرتی ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ اس میں برسوں کی محبت، قربانی، آنسو اور بے شمار راتوں کی بے خوابی شامل ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے کی کامیابی، صحت، عزت، ایمان اور حفاظت کے لیے اللہ کے حضور التجا کرتی ہے۔ کبھی اس کی خاموش دعا وہ سکون بن جاتی ہے جس کی انسان کو زندگی کے مشکل ترین لمحوں میں ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ دعا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے تابع ہے۔ ہر دعا کا نتیجہ لازماً ہماری خواہش کے مطابق اور اسی وقت ظاہر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور حکمت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے۔ ماں کی زندگی میں اس کی قدر کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اس کی خدمت کرنا، اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اس کی دل آزاری سے بچنا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ صرف ماں سے اپنے لیے دعائیں کروانا کافی نہیں، بلکہ ہمیں بھی اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اور اگر کسی کی ماں دنیا سے رخصت ہو چکی ہو تو اس کے لیے نیکی اور دعا کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے، جن میں نیک اولاد کی دعا بھی شامل ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث 1631) اس لیے ماں کے انتقال کے بعد بھی اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا، صدقہ کرنا اور اس کے ساتھ کیے گئے نیک تعلق کو برقرار رکھنا ایک مسلمان کے لیے باعثِ اجر ہے۔ یہ کہنا کہ ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ کی رحمت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کے قریب ہے، ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے۔ البتہ ماں کی موجودگی واقعی ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر اس کے ہوتے ہوئے کرنی چاہیے۔ اختتامیہ ماں کی دعا کو اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھیں۔ اس کے قدموں میں خدمت کا جذبہ رکھیں، اس کے لبوں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کریں اور اس کی زندگی میں اس کے لیے رحمت و سکون کا سبب بنیں۔ ماں زندہ ہو تو اس کی خدمت کو سعادت سمجھو، اور ماں دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے لیے دعا کو اپنی محبت کا حصہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کی دعاؤں کو ہمارے حق میں خیر و برکت کا ذریعہ بنائے، اور جو مائیں دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

About