@deentalk786: Sahi Muslim 6220#islamicvideo #pleasetiktokviralmyvideo🙏 #engineermuhammadalimirza #fyppppppppppp

Deen Motivation
Deen Motivation
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 24 June 2026 09:37:05 GMT
94334
7543
65
1012

Music

Download

Comments

sikandar_manzoor0
Sikandar_Manzoor :
صحیح مسلم: حدیث نمبر 6220 اردو ترجمہ:
2026-06-24 17:54:05
20
mohammad.kashif408
Mohammad kashif :
Salam ahlulBait.. Ali, Fatima, Hassan & Hussain alehumussalam ajmaeen.
2026-06-26 13:56:53
5
happy.life6253
Happy 😊 life 😊💖 :
love you Ali bahi mola salamat rakhay apko dill Khush kar diya
2026-06-26 05:02:08
2
prinseofminhala
اویس منیالے آلہ🚩 :
سلام یا حسین علیہ سلام 😭
2026-06-25 20:56:19
7
sardarabbas7071
Ghulam abbas bhanbhro :
Aap ki jurat ko salaam he bhai 🙏❤️
2026-06-26 18:07:13
2
azharqayyum07
Dr.Azhar :
bilkul thk reference Dia ma ny khud dekha hy JazakALLAH sir❤️
2026-06-24 19:01:03
10
mr.faizankhan18
فیضان خان :
emam Sab Great teacher
2026-06-24 21:09:15
4
m.sagar.awan1
M sagar awan :
Ali Bhai salamat rakhy
2026-06-26 14:28:21
1
raja.raja2026m
it's,raja💫 :
allah AP ko salamat rakha Ali bahi❣️
2026-06-25 06:21:42
7
ranafaisal552
Rana Faisal :
mola hussain
2026-06-24 23:18:41
6
mian_rehman_11
MIAN REHMAN 🏴 :
آئیے، میں آپ کو اس حدیث کا پورا متن بتا دیتا ہوں۔ صحیح مسلم میں یہ روایت اس طرح ہے کہ عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان نے سعد کو حکم دیا اور کہا کہ آپ ابو تراب یعنی حضرت علی کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے؟ اس پر سعد نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین باتیں سنی تھیں، جس کی وجہ سے میں حضرت علی کو کبھی برا بھلا نہیں کہوں گا؛ اگر ان میں سے کوئی ایک بات بھی مجھے مل جاتی تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوتی۔ ایک بات یہ تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ کے لیے روانہ ہوتے وقت مدینہ میں حضرت علی کو اپنا نائب بنایا تو انہوں نے عرض کی کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جاتے ہیں؟ تو رسول اللہ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ میرے پاس تمہارا وہی درجہ ہو جو موسیٰ علیہ السلام کے ہاں ہارون علیہ السلام کا تھا، صرف اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں نے حضرت علی کو غزوہ خیبر کے دن سنا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ "میں کل اس شخص کو علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔" اس کے بعد تیسری بات یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: "آؤ، ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو بلائیں..." تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین کو بلا کر فرمایا: "اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔"
2026-06-24 18:01:24
12
zobii.01
S✨Z :
phly 6229 yea hadees parho is ma likha kia ha
2026-06-26 18:13:18
1
userwolfiee_
stfu_muslim :
mjhyy usmy Ameer e muaviya rz ka nam dikha doo?
2026-06-25 17:33:34
2
zak.khan714
Green fields :
جی، اگر آپ کی مراد Sahih Muslim حدیث نمبر 6220 (دارالسلام نمبرنگ) ہے، تو یہ صحیح مسلم کی صحیح حدیث ہے۔ � Hamariweb.com +1 اس حدیث میں حضرت Sa'd ibn Abi Waqqas بیان کرتے ہیں کہ حضرت Muawiya ibn Abi Sufyan نے ان سے پوچھا: "تمہیں ابو تراب (حضرت علیؓ) کو برا کہنے سے کس چیز نے روکا؟" � Alim اس پر حضرت سعدؓ نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی حضرت علیؓ کے بارے میں تین ایسی فضیلتیں جانتا ہوں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے مل جاتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی، اس لیے میں انہیں برا نہیں کہہ سکتا۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ کی حضرت علیؓ کے بارے میں تین فضیلتیں بیان کیں، جن میں: غزوۂ تبوک کے موقع پر: "کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا مجھ سے وہی مقام ہو جو ہارون کا موسیٰ سے تھا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔" خیبر کے دن جھنڈا حضرت علیؓ کو دینا۔ واقعۂ مباہلہ میں حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو اپنے ساتھ شامل کرنا۔ � Alim +1 علماء نے اس حدیث کی مختلف تشریحات کی ہیں۔ بعض کے نزدیک حضرت معاویہؓ کا مقصد حضرت سعدؓ سے ان کی رائے معلوم کرنا تھا، نہ کہ انہیں گالی دینے کا حکم دینا۔ بعض نے اس پر دیگر تفصیلی آراء بھی بیان کی ہیں۔ تاہم اصل حدیث صحیح مسلم میں موجود اور صحیح
2026-06-25 20:46:51
1
.skhan69
MR.SajU🥀 :
Google py search kese hoga Kya likhna padega 6220 py nhi araha
2026-06-25 12:47:48
2
mr.faizankhan18
فیضان خان :
صحیح مسلم حدیث نمبر 6220 (بعض ایڈیشنز میں نمبر مختلف ہو سکتا ہے) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے: حضرت معاویہؓ نے حضرت سعدؓ سے فرمایا: "آپ ابوتراب (حضرت علیؓ) کو برا کیوں نہیں کہتے؟" اس پر حضرت سعدؓ نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت علیؓ کے بارے میں تین ایسی فضیلتیں سنی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے مل جاتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی، اس لیے میں انہیں برا نہیں کہہ سکتا۔ پھر حضرت سعدؓ نے حضرت علیؓ کی تین مشہور فضیلتیں بیان کیں، جن میں حدیثِ منزلت، غزوۂ خیبر میں جھنڈا عطا کرنا، اور آیتِ مباہلہ شامل ہیں۔ � IslamicFinder +1 اس حدیث میں حضرت سعدؓ نے حضرت علیؓ کی فضیلت بیان کی ہے اور ان کے بارے میں بدگوئی سے انکار کیا ہے۔ �
2026-06-24 21:05:22
3
ahtishamali1272
🇵🇰♡*ᎷԄẰ𝗵Ʈ𝗶Ꮥ𝗵Ằᶬ*♡♓🇸🇦 :
صحیح مسلم، حدیث: 6220 سیدنا Sa'd ibn Abi Waqqasؓ سے روایت ہے: امیر معاویہ بن ابی سفیان نے سعدؓ سے کہا: "تمہیں ابو تراب (علی بن ابی طالبؓ) کو برا کہنے سے کیا چیز روکتی ہے؟" سعدؓ نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ سے علیؓ کے بارے میں تین ایسی باتیں سنی ہیں کہ ان کی وجہ سے میں انہیں ہرگز برا نہیں کہہ سکتا۔ اگر ان میں سے ایک بھی فضیلت مجھے مل جاتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ پہلی بات: جب رسول اللہ ﷺ ایک غزوہ میں تشریف لے گئے اور علیؓ کو مدینہ میں چھوڑ گئے تو علیؓ نے عرض کیا: 'یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟' آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا مجھ سے وہی مقام ہو جو ہارونؑ کا موسیٰؑ سے تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔" دوسری بات: خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں کل یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔" پھر آپ ﷺ نے علیؓ کو بلایا، ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعابِ دہن لگایا، پھر جھنڈا انہیں عطا فرمایا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔ تیسری بات: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَقُلْتَعَالَوْا نَدْعُأَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ تو رسول اللہ ﷺ نے علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ اور حسینؓ کو بلایا اور فرمایا: "اَللّٰهُمّهٰؤُلَاءِ أَهْلِي" "اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔"
2026-06-25 12:48:25
2
zak.khan714
Green fields :
جی، آپ جس حدیث کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔ عربی: لَا تَسُبّوا أَصْحَابِي، فَوَالّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْأَنّأَحَدَكُمْأَنْفَقَمِثْلَأُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَمُدّأَحَدِهِمْوَلَا نَصِيفَهُ. اردو ترجمہ: "میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے، تب بھی وہ میرے صحابہ کے ایک مُدّ(تھوڑی مقدار) بلکہ آدھے مُدّکے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔" حوالہ: Sahih al-Bukhari (کتاب فضائل الصحابہ) Sahih Muslim (کتاب فضائل الصحابہ) یہ حدیث صحابۂ کرامؓ کے احترام کی اہم دلیلوں میں سے ایک ہے۔ اہلِ سنت کے علماء اس سے استدلال کرتے ہیں کہ صحابہؓ کو گالی دینا یا ان کی توہین کرنا جائز نہیں۔
2026-06-25 20:39:10
1
mr.faizankhan18
فیضان خان :
اگر آپ کی مراد صحیح مسلم حدیث نمبر 6229 ہے، تو اس میں حضرت علیؓ کے لقب "ابو تراب" کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ خلاصہ: حضرت سہل بن سعدؓ روایت کرتے ہیں کہ مدینہ کے ایک گورنر (آلِ مروان میں سے) نے انہیں حضرت علیؓ کو برا کہنے کا حکم دیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر اس نے کہا: "کم از کم ابو تراب پر لعنت کہہ دو۔" حضرت سہلؓ نے جواب دیا کہ حضرت علیؓ کو "ابو تراب" سے زیادہ کوئی نام پسند نہ تھا، کیونکہ یہ لقب خود رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیا تھا۔ پھر انہوں نے واقعہ بیان کیا کہ ایک دن نبی ﷺ حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے، حضرت علیؓ گھر میں نہ تھے۔ بعد میں آپ ﷺ نے انہیں مسجد میں مٹی پر لیٹا ہوا پایا، تو ان کی پیٹھ سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرمایا: "قم أبا تراب، قم أبا تراب" "اے ابو تراب! اٹھو، اے ابو تراب! اٹھو۔" � IslamicFinder +1 یہ حدیث حضرت علیؓ کی فضیلت اور "ابو تراب" لقب کی وجہ بیان کرتی ہے۔ �
2026-06-24 21:08:48
3
user205935348426
sahil421 :
yui8iiiiiiuiiiii
2026-06-24 19:31:26
2
hayat.arshaf
Rehan wajid :
استغفراللہ
2026-06-25 16:28:11
1
To see more videos from user @deentalk786, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About