@hadith.nabvi: اس حدیثِ مبارکہ کا مفہوم بہت گہرا ہے اور یہ **اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف (Justice)** کی کاملیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کا اصل مطلب درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے: کامل انصاف کی مثال: دنیا میں اگر ایک سینگوں والی بکری کسی دوسری بے سینگ (کمزور) بکری کو مارتی ہے، تو جانوروں پر شریعت لاگو نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا کوئی حساب کتاب ہے۔ لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس حد تک انصاف فرمائے گا کہ مظلوم بکری کو ظالم بکری سے بدلہ (قصاص) دلایا جائے گا۔ انسانوں کے لیے نصیحت: جب اللہ تعالیٰ بے عقل جانوروں کے درمیان بھی ظلم کو برداشت نہیں فرمائے گا اور ان کا انصاف کرے گا، تو ذرا سوچیں کہ انسانوں—جنہیں عقل اور شعور دیا گیا ہے—ان کے درمیان ہونے والے ظلم و ستم کا کتنا سخت حساب ہوگا۔ حقوق العباد کی اہمیت: یہ حدیث ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہم کسی بھی انسان (یا حتیٰ کہ جانور) پر ظلم نہ کریں۔ اگر کسی کا کوئی حق، مال یا عزت پامال کی گئی ہے تو قیامت کے دن اس کا حساب ہر حال میں دینا ہوگا۔ > **خلاصہ:* * اس حدیث کا مقصد انسانوں کو یہ سمجھانا ہے کہ اللہ کے ہاں انصاف کا نظام انتہائی باریک اور پکا ہے، اس لیے ہمیں ہر قسم کے ظلم اور زیادتی سے بچنا چاہیے۔ >
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️SALLALAHO ALLA MUHAMMAD SALLALAHO ALEIHY WA ALEY HI WASLAM
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
2026-06-24 14:19:48
0
To see more videos from user @hadith.nabvi, please go to the Tikwm
homepage.